شادی اور صحبت کا سنت طریقہ؟

سوال: میری جلد ہی شادی ہونے والی ہے، براہ کرم، نکاح اور شادی کا سنت طریقہ بتائیں تاکہ میں اس پر عمل کرسکوں اور شب زفاف کا سنت کا طریقہ بھی بتائیں۔
Published on: Apr 26, 2014
جواب # 52348
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 765-765/M=6/1435-U
نکاح اور شادی کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ جب شادی کا ارادہ ہو بلاکسی خاص برات اور بری وغیرہ کے اہتمام کے چند آدمیوں میں ایجاب وقبول کرادے (جس کی تفصیل یہ ہے کہ نکاح کا مسنون خبطہ پڑھنے کے بعد عورت کا نام مع ولدیت لے کر مرد سے کہے ”میں نے فلاں بنت فلاں کا نکاح تمہارے ساتھ بعوض مہر مبلغ اتنے روپئے کیا“ کیا تم نے قبو ل کیا؟ مرد جواب میں کہے ”میں نے اس کو قبول کیا“۔ خود عورت یا اس کے ولی یا اس کے وکیل کی اجازت کے بعد جب دو گواہوں کے سامنے مرد نے قبولیت کے الفاظ ادا کردیے، نکاح ہوگیا) پھر اگر وسعت ہو تو چھوہارے تقسیم کرایے جائیں۔ دلہن کودولہا کے گھر بھیج دیا جائے اور جو کچھ دلہن کو بطور صلہ رحمی دینا منظور ہو بلا کسی شہرت اور نمود کے خواہ اس کے ساتھ یا بعد میں بھیج دیا جائے۔ مہر حسب استطاعت ہو، شرعاً مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے اس سے کم درست نہیں۔ شب زفاف کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ پہلی ملاقات کے وقت پیشانی کے بال پکڑکر یہ دعا پڑھے:
اللہم إني أسئلک من خیرہا وخیر ما جبلتہا وأعوذ بک من شرہا وشر ما جبلتہا علیہ
اس کے بعد دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھیں، مرد آگے کھڑا رہے عورت پیچھے، نماز کے بعد خیر وبرکت، مودت ومحبت کے لیے دعا کریں، بوقتِ صحبت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، سر ڈھانک لے، بالکل برہنہ نہ ہو، بقدر ضرورت ستر کھولے، پردہ کا کامل خیال رکھے، کسی کے سامنے حتی کہ بالکل ناسمجھ بچہ کے سامنے بھی صحبت نہ کرے، جب صحبت کا ارادہ کرے تو اولاً بسم اللہ پڑھے، پھر یہ دعا پڑھے:
”اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا“
انزال کے وقت دل میں دعا پڑھے:
”اللہم لا تجعل للشیطان فیما رزقتنا نصیبا“،
صحبت سے فراغت کے بعد یہ دعا پڑھے
”الحمد اللہ الذي خلق من الماء بشرا وجعلہ نسبًا وصہرًا․․
مزید تفصیل کے لیے بہشتی زیور باب (۶) اور ”اسلامی شادی“ کتاب کا مطالعہ کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/52348 …….
براہ کرم نکاح کے بعد بیوی سے پہلی ملاقات سے مباشرت تک کے عمل کا سنت طریقہ پوری تفصیل سے آگاہ کریں۔
Published on: Feb 20, 2014
جواب # 51092
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 433-123/L=4/1435-U
شب زفاف میں پہلی ملاقات کے وقت ابتداءً دو رکعت شکرانہ کی نماز پڑھیں، مرد آگے کھڑا رہے عورت پیچھے، نماز کے بعد خیر وبرکت، مودت ومحبت، آپسی میل ملاپ کی دعا کریں۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک شخص عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے ایک باکرہ عورت سے نکاح کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے پسند نہ کرے اور دشمن تصور کرے، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا محبت اللہ کی طرف سے ہے اور دشمنی شیطان کا فعل ہے، جب عورت تیرے گھر میں آوے تو تو اس سے کہہ کہ تیرے پیچھے کھڑی ہوکر دو رکعت نماز پڑھے، اور تو یہ دعا پڑھ:
اللھُمَّ بَارِکْ لِي فِي أَھْلِی، وَبَارِکْ لَأہْلِيوٴ فِيَّ، اللھُمَّ ارْزُقْنِي مِنْھُمْ وَارْزُقْھُمْ مِنِّی، اللھُمَّ اجْمَعَ بَیْنَنَا إذَا جَمَعْتَ فِيْ خَیْرٍ وَفَرِّقْ بَیْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَی خَیْرٍ․
اس کے بعد بیوی کی پیشانی کے بال پکڑکر یہ دعا پڑھے۔
اللّٰہُمَّ اِنِّيْ أَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِہَا وَخَیْرِ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّہَا وَشَرِّ مَا جَبَلْتَہَا عَلَیْہِ․
شوہر تلطف ومحبت سے پیش آئے، اپنا سکہ اور رعب جمانے کی فکر نہ کرے، اور ہرطرح اس کی دلجوئی کرے کہ عورت کو مکمل سکون اور قلبی راحت حاصل ہو اور ایک دوسرے میں انسیت پیدا ہو۔ جب مباشرت کا ارادہ کرے تو مباشرت سے پہلے عورت کو مانوس کرے، بوس وکنار ملاعبت وغیرہ جس طرح ہوسکے اسے بھی مباشرت کے لیے تیار کرے، اور اس بات کا ہرمباشرت کے وقت خیال رکھے فوراً ہی صحبت شروع نہ کردے اور بوقت صحبت اس بات کا خیال رکھے کہ عورت کی بھی شکم سیری ہوجائے، انزال کے بعد فوراً جدا نہ ہوجائے، اسی حالت پر رہے اور عورت کی خواہش پوری ہونے کا انتظار کرے، ورنہ عورت کی طبیعت پر اس سے بڑا بار پیدا ہوگا اور بسا اوقات اس کا خیال نہ کرنے سے آپس میں نفرت اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے جو کبھی جدائیگی کا سبب بن جاتی ہے۔ غنیة الطالبین میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ ارشاد فرماتے ہیں:
ویستحب لہا الملاعبة لہا قبل الجماع والانتظار لہا بعد قضاء حاجتہ حتی تقضي حاجتہا فإن ترک ذلک مضرة علیہا ربما أفضی إلی البغضاء والمفارقة (غنیة الطالبین: ۹۸) جب صحبت کرنے کا ارادہ کرے تو اولاً بسم اللہ پڑھے اور یہ دعا پڑھے:
اللَّھُمَّ جَنِّبْنَا الشَّیْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّیْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا،
بوقت صحبت قبلہ کی طرف رخ نہ کرے، سر ڈھانک لے اور جتنا ہوسکے پردے کے ساتھ صحبت کرے کسی کے سامنے حتی کہ بالکل ناسمجھ بچے کے سامنے بھی صحبت نہ کرے اور بوقت صحبت بقدر ضرورت ستر کھولے، انزال کے وقت دل میں یہ دعا پڑھے:
اللَّھُمَّ لَا تَجْعَلْ لِلشَّیْطَانِ فِیمَا رَزَقْتنَا نَصِیبًا۔
صحبت کے بعد یہ دعا پڑھے:
الْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا فَجَعَلَہ ُ نَسَبًا وَصِھْرًا․
شب زفاف اور صحبت کے سلسلے کی آپس کی جو باتیں پوشیدہ ہوں کسی سے ان کا تذکرہ نہ کرے یہ بے حیائی اور بے مروتی کی بات ہے۔ (مستفاد: فتاوی رحیمیہ: ۴/ ۲۸۶ تا ۲۸۹ بحوالہ غنیة الطالبین مترجم: ۹۷ تا ۱۰۰ فصل فی آداب النکاح)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
……..
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/51092
سوال # 177
میاں بیوی کے درمیان اورل سیکس کا کیا حکم ہے؟
کیا میاں بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھ سکتے ہیں اور بوسہ دے سکتے ہیں؟
Published on: Feb 1, 2016
جواب # 177
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 184/م=185/م)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
إذا أدخل الرجلُ ذکرَہ فی فم امرأتہ قد قیل یکرہ……
یعنی اگر مرد اپنی بیوی کے منھ میں شرمگاہ کو داخل کرلے تو یہ مکروہ ہے۔ (عالمگیری:5/372)
اس سے معلوم ہوا کہ زوجین کے درمیان اورل سیکس (شرمگاہ کو بوسہ دینا، منھ میں لینا اور زبان لگانا وغیرہ) یہ سب مکروہ فعل اور بے حیائی کی بات ہے۔
ہاں میاں بیوی ایک دوسرے کے اعضائے مخصوصہ کو دیکھ سکتے ہیں لیکن نہ دیکھنا اولیٰ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal–Haram/177
……
سوال: ایک عورت کی عادت پانچ دن حیض آنے کی ہے، اور ایک مرتبہ چار دن حیض آکر بند ہوگیا؟ حیض بند ہونے پر کیا اس سے ہمبستر ہونا درست ہے؟ ایک عورت کو حیض آیا عشاء کی نماز کے بعد، ٹھیک پانچ دن بعد عشاء کے ہی بعد اس کا حیض بند ہوا، اور اس کی عادت بھی پانچ ہی دن ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا اس عورت سے مجامعت بغیر غسل کئے درست ہے؟
Published on: Mar 2, 2017
جواب # 148424
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 581-607/L=6/1438
(۱) اگر عورت معتادہ ہے یعنی ہر مہینے اس کو ۵/ دن خون آتا ہے اگر اس کا خون عادت سے پہلے بند ہوجائے تو اس کی عادت مکمل ہونے تک اس سے صحبت کرنا جائز نہیں؛ کیونکہ ایام عادت تک خون کے آجانے کا غالب گمان رہتا ہے۔
وإن کان الانقطاع دون عادتہا وعادتہا دون العشر لایحل وطوٴہا وإن اغتسلت حتی تمضی عادتہا؛ لأن عود الدم غالب۔ (مجمع الأنہر)
(۲) اگر عورت کو حیض اس کی عادت کے موافق بند ہوا پھر تو اس سے اس وقت تک مجامعت کرنا درست نہیں جب تک کہ وہ غسل نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت گذر جائے۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
……….
سوال: کیا حیض ختم ہونے کے فوراً بعد غسل کرنے سے پہلے صحبت کرسکتے ہیں؟
Published on: Jul 22, 2010
جواب # 22731
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(م):937=937-6/1431
عورت کو ماہواری حیض آنے کی جو عادت مقرر ہے، مثلاً پانچ دن یا سات دن اس عادت کے مطابق خون آکر بند ہوگیا تو جب تک وہ غسل نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت نہ گزرجائے اس سے پہلے صحبت کرنا درست نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/22731
……
سوال # 62673
ایک عورت کو ہر مہینہ تین دن کے اندر حیض کا خون آنا بند ہوجاتاہے، ماہواری کے چوتھے دن ایک قطرہ خون بھی نظر نہیں آتاہے تو کیا وہ چوتھے دن اپنے شوہر کے ساتھ مباشرت کرسکتی ہے؟ یا اس کو پانچ یا سات دن تک انتظار کرنا چاہئے؟
Published on: Jan 7, 2016
جواب # 62673
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 141-141/Sd=3/1437-U
اگر مذکورہ عورت کی عادت تین دن خون آنے کی ہے ، تو تیسرے دن خون بند ہونے کے بعد شوہر کے لیے اُ س وقت مباشرت جائز ہے ، جبکہ وہ عورت خون بند ہونے کے بعد غسل کر لے یا اُ س کے ذمہ ایک نماز قضاء ہوجائے، یعنی: خون بند ہونے کے بعد اُ س پر اتنا وقت گذر جائے کہ وہ غسل کر کے نماز کی تحریمہ کہہ سکے ،تو ایسی صورت میں غسل کے بغیر بھی اس سے مباشرت جائز ہے ، عادت کے مطابق خون بند ہونے کے بعد مباشرت کے لیے مزید پانچ سات دن انتظار کرنا ضروری نہیں ہے۔
وان انقطع دمہا قبل أکثر مدة الحیض أو لتمام العادة في المعتادة بأن لم ینقص عن العادة ، فانہ لا یجوز وطوٴہا حتی تغتسل أو تتیمم أو أن تصیر الصلاة دیناً في ذمتہا، وذلک بأن یبقی من الوقت بعد الانقطاع مقدار الغسل والتحریمة ، فانہ یحکم بطہارتہا بمضي ذلک الوقت، ولزوجہا وطوٴہا بعدہ ولو قبل الغسل۔ (الموسوعة الفقہیة، مادة:حیض، رد المحتار:۱/۲۹۴، کتاب الطہارة، باب الحیض)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Nikah-Marriage/22731
…..
سوال # 398
حیض کے آخری دن غسل سے قبل کیا میاں بیوی ہم بستر ہوسکتے ہیں؟ کیوں کہ اس کا حیض تو ختم ہوچکا۔ یا یہ ضروری ہے کہ ہم بستر ہونے سے قبل بیوی غسل حیض سے فارغ ہوجائے؟

Published on: May 10, 2007
جواب # 398
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 496/ج=496/ج)
اگر حیض کا خون پورے دس دن اور دس رات آکر بند ہوا ہے تو ہم بستری جائز ہونے کے لیے عورت کا غسل کرنا ضروری نہیں، غسل سے پہلے بھی ہم بستر ہوسکتے ہیں۔ اور اگر دس دن اور دس رات سے کم اس کی عادت کے مطابق مثلاً چار یا پانچ دن آکر بند ہوا ہے تو جب تک وہ غسل حیض نہ کرلے یا ایک نماز کا وقت نہ گذرجائے یعنی ایک نماز اس کے ذمہ قضاء نہ ہوجائے تب تک ہم بستر ہونا جائز نہیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Womens-Issues/398
………..
سوال # 63712
(۱) میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں پہلے مشت زنی کرتا تھا، لیکن نماز پڑھنے سے یہ عادت بہت کم ہوگئی ہے، مگر اب بھی کم از کم ایک مہینہ بعد یا دس دن بعد پھر سے شوق آنے لگتاہے اور میں کنٹرول نہیں کرپاتا ہوں اور لڑکیوں کے ننگے فوٹو کو دیکھتا ہوں۔ مجھے کیا کرنا چاہئے؟ کبھی کبھی چھوٹی لڑکیوں کو دیکھ کر گندے خیالات ذہن میں آجاتے ہیں اور عضوٴ خاص اٹھنے لگتاہے، لیکن میں کنٹرول کرلیتا ہوں، مگر پھر بھی شیطان مجھ پر حاوی رہتاہے، میں کیا کروں ؟ مجھے کوئی حل بتائیں؟
(۲) ایک اورمسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی چھوٹی لڑکی پاس آجاتی ہے یا گود میں بیٹھ جاتی ہے تو غلط خیالات تو ذہن میں نہیں آتے، لیکن عضوٴ خاص خود بخود اٹھنے لگتا ہے، اس سے سخت غصہ آتا ہے کہ کسی غلط خیال کے بغیر عضوٴ خاص آٹھنے لگتا ہے۔ براہ کرم، اس کا کوئی حل بتائیں۔ مہربانی ہوگی آپ کی۔
Published on: Feb 1, 2016
جواب # 63712
بسم الله الرحمن الرحيم
فتوی(ل): 1567=1070-10/1432
(۱) آپ مزید ہمت کریں، ان شاء اللہ مشت زنی کی عادت بالکلیہ ختم ہوجائے گی، مشت زنی شرعاً حرام ہے اور شرعی وطبی ہرلحاظ سے مضر ہے، مشت زنی چھوڑنے کے لیے آپ اولاً غلط تصاویر دیکھنا چھوڑدیں اور نیکوں اور اللہ والوں کی صحبت اختیار کریں، اگر شادی نہ ہوئی ہو تو کوشش کرکے شادی کرلیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو روزہ کی کثرت کریں اس سے بھی قوت شہوانیہ مغلوب ہوجاتی ہے اور سوتے وقت بجائے ادھر ادھر کے خیالات لانے کے ہاتھ میں تسبیح لے کر درود شریف پڑھتے رہیں، ان شاء اللہ آپ سے یہ عادت چھوٹ جائے گی۔
(۲) اس کا حل بھی وہی ہے جو اوپر مذکور ہوا نیز شہوت کے اندیشہ کے وقت آپ چھوٹی بچی کو ہاتھ میں نہ لیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
.http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal–Haram/63712
………..
سوال # 270
میں مشت زنی کے متعلق ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ کیا اسلام میں مشت زنی جائز ہے؟ اگر ہاں، تو کن آیات و احادیث سے ثابت ہے؟ اگر نہیں تو کن آیات و احادیث کی رو سے منع ہے؟ کیا اس کے علاوہ کوئی اور معیار، شرط ، ضابطہ یا ضرورت ہے جس کی بنیاد پر مشت زنی کی اجازت ہو؟
Published on: Apr 30, 2007
جواب # 270
بسم الله الرحمن الرحيم
(فتوى: 379/ب=379/ب)
قرآن پا ک میں ہے
وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حَافِظُوْنَo اِلاَّ عَلٰی اَزْوَاجِہِمْ
اس آیت کے تحت قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی رحمة اللہ علیہ نے تفسیر مظہر ی میں لکھا ہے کہ آیت خود دلیل ہے مشت زنی کے حرام ہونے پر۔ پھر ابن جریج کا قول نقل کیا کہ انھوں نے حضرت عطاء سے اس کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے مکروہ بتایا اور پھر فرمایا میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ قیامت کے دن اس حال میں اٹھائے جائیں گے کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے۔ اور میرا خیال ہے کہ اس سے مراد یہی لوگ ہیں۔ اورحضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عذاب دیں گے جو اپنے ذَکر کے ساتھ کھیل کرتے تھے۔ ارو ایک حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ ناکح الید ملعون یعنی مشت زنی کرنے والا ملعون ہے۔ ہاں اگر کوئی زنا میں مبتلا ہوجانے کا قوی اندیشہ رکھتا ہے تو زنا سے بچنے کے لیے مشت زنی کرلے تو امید ہے کہ اس پر کوئی وبال نہ ہوگا۔ (ملاحظہ فرمائیں تفسیر مظہری، ج:5، ص:۳6۵) اور در مختار)
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند
http://www.darulifta-deoband.com/home/ur/Halal–Haram/270
…………
اپنی بیوی سے صحبت(جماع) کے آداب
جس طرح اسلام کے روشن اور پر نور انقلاب نے ایک ہی وار میں جاہلیت کے دور کی تمام بے حیائی اور بے راہ روی کو مٹا دیا اور اُس کی جگہ دنیا میں شرعی نکاح کو پیش کر دیا۔
جس طرح اجتماعی سطح پر نکاح کی پاک سنت ایک طریقہ ٹھہرا۔ اسی طرح نکاح کے بعد ہمبستری یا جماع کے آداب بھی پیش کئے گئے۔ ان آداب کا سیکھنا ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے۔
صحبت کے آداب:
1۔ پہلی بار جب دلہن اپنے دلہا کے ساتھ یکجا ہوتی ہے تو مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے شوہر اپنی بیوی کے پیشانی کے بال پکڑے، بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر یہ دعا کریں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ
(“اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس چیز کی بھلائی چاہتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا , اور تجھ سے اس کی برائی ,اور اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں جس پر تو نے اس کو پیدا کیا “)
2۔ دولہا کو چاہئے کہ شب زفاف میں اپنی بیوی کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھے۔ ایسا کرنے سے دونوں کی ازدواجی زندگی ہر نا پسند یدہ چیز سے محفوظ رہے گی .
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ کا بیان ہے کہ” جب تمہاری بیوی تمہارے پاس آئے تو تم اُسے کہو کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعت نماز پڑھے, اور یہ دعا کرو
(اللهم بارك لي في أهلي ,وبارك لهم فِيَّ ,اللهم اجمع بَيننا ما جمعت َبِخير ,وفرِّق بيننا إذا فرَّقت إلي الخير)
” اے اللہ میرے لئے میرے اہل میں برکت عطا فرما . اور ان کے لئے مجھ میں برکت عطا فرما , اے اللہ! جب تک ہمیں اکھٹا رکھے خیر پر اکھٹا رکھ, اورجب ہمارے اندر جدائی ہو تو خیر ہی پر جدائی کر ” (طبرانی ,علامع البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس اثرکوحسن کہا ہے )
3۔ مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ ہمبستری کی دعاؤں کا اہتمام کرے , ایسا کرنے سے صحبت سے پیدا ہونے والا بچہ شیطان کے اثر سے محفوظ رہے گا , حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا
( لو أن أحدکم إذا أتی أھلہ قال: بسم الله ,اللهم جنبنا الشيطان , وجنب الشيطان ما رزقتنا , فقضى بينهما ولد , لم يضره الشيطان أبدا )
“اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے جماع کرنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے
( بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ ، وَجَنِّبْ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ) ”
اے اللہ !تو ہمیں شیطان سے محفوظ رکھ, اور تو ہمیں جو اولاد عطا کر اسے بھی
شیطان سے بچانا ” تو اُن کے یہاں جو بچہ پیدا ہوگا شیطان اُسے کبھی ضرر نہیں پھنچا سکے گا ” (صحیح بخاری وصحیح مسلم )
4۔ جماع کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا ضروری ہے۔ اس میں بہت زیادہ برکت ہے۔(اور یا اوپر زکر شدہ دعا)
5۔ جماع کے وقت بالکل ننگا ہونا ممنوع ہے۔ اس سے میاں، بیوی اور بچے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ میاں بیوی اپنے اوپر کوئی پردہ وغیرہ ڈال کر صحبت کریں۔ اپنی انسانی کرامت کا خیال رکھے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ” جانوروں کی طرح اپنے آپکو برہنہ نہ کرو”
6۔ حیض (عورت کو ماہواری کا خون آنا) اور نفاس (ولادت کا خون) کی حالت میں بیوی کے ساتھ جماع کرنا حرام ہے۔ اسلئے کہ حیض کے معنیٰ پلیدی یا زخم کے ہیں۔ ان دنوں میں حائضہ عورت رحم کا ناپاک خون گراتی ہے جس سے درد اور تکیف بھی ہوتی ہے۔ ان دنوں میں بیوی کے ساتھ جماع مردوں کیلئے بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ عورت کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔
اسی طرح نفاس اور ولادت کے بعد ناپاک خون نکلتا ہے۔ ایسی حالت میں بھی عورتیں سخت ازیت سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں بھی مرد اور عورت کا صحبت کرنا سخت نقصان دہ ہے۔
اس کے علاوہ ایک ساتھ سونا، کھانا کھانا، وغیرہ جیسے امور سب جائز ہیں۔ دورِ جاہلیت کی طرح نہیں کہ جس میں ایامِ حیض و نفاس میں بیوی سے نفرت کی جاتی تھی۔
7۔ اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے کی طرف ( پاخانے کی جگہ) صحبت کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔
بہت بڑی بے شرمی کی بات ہے۔ ایسا کام جانور بھی نہیں کرتے۔ اسی گناہ کی وجہ سے قوم لوط ہلاک ہوئی۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ : ” وہ شخص لعنتی ہے جو اپنی بیوی سے پیچھے کی طرف جماع کرے” (رواہ ابوداود، احمد)
8۔ اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت ایک راز ہے۔ اس راز کا فاش کرنا بڑا گناہ اور بڑی بے غیرتی اور بے حیائی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” قیامت کے دن اللہ کے نزدیک وہ شخص بدترین درجے میں ہوگا جو بیوی سے جماع کرنے کے بعد اس کا راز افشاء کرے” (رواہ مسلم)
نوٹ: اور باتیں بھی ہیں۔ لیکن جو ضروری باتیں تھی وہ یہاں لکھ دیں۔