ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے


ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے
سوال: حدیث ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے کی تصحیح و تشریح  مقصود ہے بسہولت
جواب: سنن ترمزی
كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: احوال قیامت، رقت قلب اور ورع
12- باب مِنْهُ
باب: ستر ہزار مسلمان بلا حساب کتاب اور مزید لوگ شفاعت سے داخل جنت ہوں گے۔
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدیث نمبر: 2437
حدثنا الحسن بن عرفة، حدثنا إسماعيل بن عياش، عن محمد بن زياد الالهاني، قال:‏‏‏‏ سمعت ابا امامة،‏‏‏‏ يقول:‏‏‏‏ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:‏‏‏‏ ” وعدني ربي ان يدخل الجنة من امتي سبعين الفا لا حساب عليهم ولا عذاب مع كل الف سبعون الفا وثلاث حثيات من حثياته “،‏‏‏‏ قال ابو عيسى:‏‏‏‏ هذا حديث حسن غريب.
ابوامامہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری امت میں سے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا، نہ ان کا حساب ہوگا اور نہ ان پر کوئی عذاب، (پھر) ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ان کے سوا میرے رب کی مٹھیوں میں سے تین مٹھیوں کے برابر بھی ہوں گے“۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الزہد ۳۴ (۴۲۸۶) (تحفة الأشراف: ۴۹۲۴)، و مسند احمد (۵/۲۵۰، ۲۶۸) (صحیح)
…..
س: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ وہ ستر ہزار لوگ کون ہیں جو جنت میں بغیر حساب کتاب کے داخل ہوں گے؟
توآپ نے فرمايا: یہ وہ لوگ ہیں جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے ہیں، نہ اپنے جسم کو آگ سےداغ لگواتے ہیں، اور نہ فال نکالتے ہیں۔ وه صرف اپنے رب پر توكل کرتے ہیں۔ یہ حدیث امام احمد نے روايت كی ہے۔
اور ایک دوسری روایت میں اضافہ کیا ہے: جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں تفسير ابن کثیر، ج2، ﺗﻢ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﺍﻣﺖ ﮨﻮ ۔ کی تفسیر میں امام حافظ ابن حجر فرماتے ہیں: اسکے بعد انہوں نے عمران ابن حصین کی حدیث کا یہ جزء نقل کیا ہے: شرعى جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور زہريلے جانوروں کے ڈنک مارنے کی صورت ميں ہے صحیح مسلم میں یوسف ابن عبد اللہ ابن حارث کی سند سے حضرت انس رضي اللہ عنہ سے مروی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نظر بد، زہريلے جانوروں کے ڈنک مارنے اور پہلو کی پھنسيوں ميں جھاڑ پھونک کی اجازت دی ہے۔
سوال یہ ہے کہ پہلی حدیث میں ‘لا یرقون ولا یسترقون (نہ وہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں اور نہ کراتے ہیں) کا کیا مطلب ہے؟ اورکيا چھاڑ پھونک صرف نظر بد، زہريلے جانوروں کے ڈنک مارنے اور پہلو کی پھنسيوں ميں جائز ہے؟
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 83)
ج: صحیحین وغیرہ میں ابن عباس رضي اللہ عنہما کی روایت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ حدیث کے آخری ٹکڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے بارے میں جو جنت میں بغیر حساب کتاب اور بغیر عذاب کے داخل ہوں گے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نہ بد شگونی ليتے ہیں، نہ اپنے جسم کو آگ سے داغ لگواتے ہیں، نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں، وہ صرف اپنےرب پرتوكل کرتے ہیں۔ الحديث، یہ الفاظ امام بخاری کے ہیں، جلد 7، صفحہ 26۔ امام احمد نے بھی اسے اپنی مسند میں اپن مسعود سےروایت کیا ہے، جلد 1، صفحہ 401، 403 (تقریبا)۔
مسلم وغیرہ کی روایت میں ” ولا یرقون (اور جو نہ جھاڑ پھونک کرتے ہیں) ” کے جو الفاظ وارد ہوئے ہیں ان کے سلسلہ میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اضافہ راوی کے وہم کا نتیجہ ہے، “ولا یرقون” کا لفظ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جھاڑ پھونک کے سلسلہ میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو اپنے بھائی کو فائدہ پہنچانے کی استطاعت رکھتا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اسے فائدہ پہنچا‎ئے۔ اور نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہے: اس جھاڑ پھونک ميں کوئی حرج نہیں جب تک کہ وہ شرک نہ ہو اور حضرت جبريل علیہ السلام نے نبي صلى الله عليه وسلم کا رقيہ کيا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ پررقيہ کيا۔
اور “لا يسترقون (جو نہ جھاڑ پھونک کراتے ہیں)” کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کسی دوسرے شخص سے اپنے لئے جھاڑ پھونک کا مطالبہ نہیں کرتے ہیں؛ اس لئے کہ رقيہ کرنے والے سے جھاڑ پھونک کا مطالبہ کرنے ميں اس سے ایک طرح کا تعلق اور اس کی طرف ميلان پیدا ہوجاتا ہے، خصوصا اس پس منظر میں کہ مریض کو جس راستہ سے شفاء کی امید بندھہ جاتی ہے اس سے وہ چمٹ جاتا ہے،
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 84)
بھلے ہی اسکی حیثیت مکڑی کے جالوں سے زیادہ نہ ہو، اس کیفیت میں جھاڑ پھونک کرنے والے کے تمام مطالبات منظور کر ليتا ہے، خواہ اسے اسکی باتوں پر شرح صدر نہ ہو، لہذا اللہ تعالی سے اسکے کمال تعلق میں ضعف پیدا ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنت میں بغیر حساب کتاب داخل ہونے والے ستر ہزار لوگوں کا وصف اللہ تعالی نے کمال توکل کو بتایا ہے؛ اس لئے کہ وہ کسی دوسرے سےجھاڑ پھونک کا مطالبہ نہیں کرتے، نہ اپنے جسم کو آگ سے داغ لگواتے ہیں، نہ بد شگونی ليتے ہيں۔ ان کا توکل اور اعتماد صرف اللہ کی ذات پر ہوتا ہے، لہذا وہ آزمائش اور تکلیف پر کمال صبر کے ساتھہ ساتھہ اللہ تعالی پر پورا پورا بھروسہ بھی کرتے ہیں، اور نتیجۃً اسکی رضا اور ثواب سے سرفراز ہوتے ہیں۔ انکا یہ رویہ اسباب علاج اختیار کرنے کے منافی نہیں ہے، بلکہ ایسا کر کے وہ قضاء و قدر کے سامنے اپنی خود سپردگی ظاہر کرتے ہیں، آزمائش سے لذت حاصل کرتے ہیں، کمال توحید تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کمال توکل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح علاج کرانا، اسباب کو اختیار کرنا اورجھاڑ پھونک کا مطالبہ بھی کمال توکل کے منافی نہیں ہے، بلکہ شریعت نے ضرورت کے وقت ایسا کرنے کا حکم دیا ہے، بشرطیکہ یہ عقیدہ برقرار رہے کہ نفع اور نقصان پہنچانے والا اللہ ہی ہے، اسی نے اسباب اور انکے نتائج کی تخلیق کی ہے، اور اس نے کوئی مرض ایسا نہیں پیدا فرمایا جسکا علاج نہ پیدا کیا ہو، جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
اور نبی صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمانا شرعى جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پہلو کی پھنسيوں کے علاج میں ہے۔ ان دو چیزوں کے حصر اور تحدید کے لئے نہیں ہے۔
امام خطابی نے (معالم السنن، جلد چہارم، صفحہ 210) میں فرمایا ہے: اس حدیث سے نظر بد اوراور پہلو کی پھنسيوں کے علاوہ دیگر امراض کے لئے جھاڑ پھونک کی نفی مقصود نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نظر بد اور زہر ميں رقيہ سے زیادہ دوسرا کوئی چھاڑ پھونک مؤثر اور کارگر نہیں ہے، اسکی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ: نوجوان (شہ زور) صرف علی ہے، اور تلوار
( جلد کا نمبر 1، صفحہ 85)
بس ذو الفقار ہے؛ یہ ماننا اسلئے ضروری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے بعض صحابہ پر انکی بعض تکالیف کے ازالہ کے لئےرقيہ کيا، نیز ابو بکر ابن سلیمان ابن ابی حثمہ نے شفاء بنت عبد اللہ سے روایت کی ہے، کہ انہوں نے کہا: (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ميرے پاس تشريف لاۓ اور میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھہ سے فرمایا: کیا تم انہيں پہلو کی پھنسيوں ميں کيا جانے والا رقيہ نہيں سکھاؤ گی جس طرح انہوں نے تمہیں لکھنا سکھايا ہے) ا۔ ھ ۔ يہ حديث ابو داؤد نے اپنی سنن میں، اور امام احمد نے اپنی مسند میں جلد ششم، ص 372 پر نقل کی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد سے بچنے کے لئے جھاڑ پھونک کرانے کا حکم دیا تھا، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس لونڈی کے لئےرقيہ کرانے کا حکم دیا تھا، جو انکے پاس انکے گھر میں رہتی تھی۔ ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت جھاڑ پھونک کرانے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔
http://alifta.com/Fatawa/fatawaChapters.aspx?languagename=ur&View=Page&PageID=10521&PageNo=1&BookID=3

صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں تم اوروں کے حق میں سب سے بہتر ہو تو لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر اسلام کی طرف جھکاتے ہو، سب سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچانے والے ہو، ابو لہب کی بیٹی حضرت درہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا آپ اس وقت منبر پر تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کونسا شخص بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ قاری قرآن ہو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو، سب سے زیادہ اچھائیوں کا حکم کرنے والا سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا سب سے زیادہ رشتے ناتے ملانے والا ہو۔ (مسند احمد) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ وہ صحابہ ہیں جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی، صحیح بات یہ ہے کہ یہ آیت ساری امت پر مشتمل ہے، بیشک یہ حدیث میں بھی ہے کہ سب سے بہتر میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد اس سے ملا ہوا زمانہ پھر اس کے بعد والا، ایک اور روایت میں ہے آیت
(وَكَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَاۗءَ عَلَي النَّاسِ وَيَكُـوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَيْكُمْ شَهِيْدًا) 2۔ البقرۃ:143)
ہم نے تمہیں بہتر امت بنایا ہے تاہم تم لوگوں پر گواہ بنو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم نے اگلی امتوں کی تعداد ستر تک پہنچا دی ہے، اللہ کے نزدیک تم ان سب سے بہتر اور زیادہ بزرگ ہو، یہ مشہور حدیث ہے امام ترمذی نے اسے حسن کہا ہے، اس امت کی افضلیت کی ایک بڑی دلیل اس امت کے نبی کی افضلیت ہے، آپ تمام مخلوق کے سردار تمام رسولوں سے زیادہ اکرام و عزت والے ہیں ، آپ کی شرع اتنی کامل اور اتنی پوری ہے کہ ایسی شریعت کسی نبی کو نہیں تو ظاہر بات ہے کہ ان فضائل کو سمیٹتے والی امت بھی سب سے اعلیٰ و افضل ہے، اس شریعت کا تھوڑا سا عمل بھی اور امتوں کے زیادہ عمل سے بہتر و افضل ہے، حضرت علی بن ابو طالب رضلی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہ وہ نعمتیں دیا گیا ہوں جو مجھ سے پہلے کوئی نہیں دیا گیا لوگوں نے پوچھا وہ کیا باتیں ہیں ، آپ نے فرمایا میری مدد رعب سے کی گئی ہے میں زمین کی کنجیاں دیا گیا ہوں ، میرا نام احمد رکھا گیا ہے، میرے لئے مٹی پاک کی گئی ہے، میری امت سب امتوں سے بہتر بنائی گئی ہے (مسند احمد) اس حدیث کی اسناد حسن ہے، حضرت ابو الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میں تمہارے بعد ایک امت پیدا کرنے والا ہوں جو راحت پر حمدو شکر کریں گے اور مصیبت پر طلب ثواب اور صبر کریں گے حالانکہ انہیں حلم و علم نہ ہوگا آپ نے تعجب سے پوچھا کہ بغیر بردباری اور دور اندیشی اور پختہ علم کے یہ کیسے ممکن ہے؟ رب العالمین نے فرمایا میں انہیں اپنا حلم و علم عطا فرماؤں گا، میں چاہتا ہوں یہاں پر بعض وہ حدیثیں بھی بیان کر دوں جن کا ذکر یہاں مناسب ہے سنئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب کتاب کے جنت میں جائیں گے جن کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے سب یک رنگ ہونگے ، میں نے اپنے رب سے گزارش کی کہ اے اللہ اس تعداد میں اور اضافہ فرما اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار اور بھی، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ حدیث بیان کر کے فرمایا کرتے تھے کہ پھر تو اس تعداد میں گاؤں اور دیہاتوں والے بلکہ بادیہ نشین بھی آجائیں گے (مسند احمد) حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے میرے رب نے ستر ہزار آدمیوں کو میری امت میں سے بغیر حساب کے جنت میں داخل ہونے کی خوشخبری دی، حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادتی طلب کرتے آپ نے فرمایا میں نے اپنے رب سے سوال کیا تو مجھے خوشخبری ملی کے ہر شخص کے ساتھ ستر ستر ہزار کا وعدہ ہوا۔ حضرت عمر نے پھر گزارش کی کہ اللہ کے نبی اور کچھ بھی مانگتے آپ نے فرمایا مانگا تو مجھے اتنی زیادتی اور ملی اور پھر دونوں ہاتھ پھیلا کر بتایا کہ اس طرح، راوی حدیث کہتے ہیں اس طرح جب اللہ تعالیٰ سمیٹے تو اللہ عزوجل ہی جانتا ہے کہ کس قدر مخلوق اس میں آئے گی (فسبحان اللہ وبحمدہ) (مسند احمد) حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حمص میں بیمار ہو گئے عبداللہ بن قرط وہاں کے امیر تھے وہ عیادت کو نہ آسکے ایک کلاعی شخص جب آپ کی بیمار پرسی کیلئے گیا تو آپ نے اس سے دریافت کیا کہ لکھنا جانتے ہو اس نے کہا ہاں فرمایا لکھو یہ خط ثوبان کی طرف سے امیر عبداللہ بن قرط کی طرف سے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم ہیں بعد حمد و صلوٰۃ کے واضح ہو کہ اگر حضرت عیسیٰ یا حضرت موسیٰ کا کوئی خادم یہاں ہوتا اور بیمار پڑتا تو تم عیادت کیلئے جاتے پھر کہا یہ خط لے جاؤ اور امیر کو پہنچا دو جب یہ خط امیر حمص کے پاس پہنچا تو گھبرا کر اٹھ کھڑے ہوئے اور سیدھے یہاں تشریف لائے کچھ دیر بیٹھ کر عیادت کر کے جب جانے کا ارادہ کیا تو حضرت ثوبان نے ان کی چادر پکڑ روکا اور فرمایا ایک حدیث سنتے جائیں میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا ہے آپ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے جنت میں جائیں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے (مسند احمد) یہ حدیث بھی صحیح ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ایک رات ہم خدمت نبوی میں دیر تک باتیں کرتے رہے پھر صبح جب حاضر خدمت ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سنو آج رات انبیاء اپنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے بعض انبیاء کے ساتھ صرف تین شخص تھے بعض کے ساتھ مختصر ساگر وہ بعض کے ساتھ ایک جماعت کسی کے ساتھ کوئی بھی نہ تھا جب موسیٰ علیہ السلام آئے تو ان کے ساتھ بہت سے لوگ تھے مجھے یہ جماعت پسند آئی میں نے پوچھایہ کون ہیں تو جواب ملا کہ یہ آپ کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں میں نے کہا پھر میری امت کہاں ہے جواب ملا اپنی داہنی طرف دیکھو اب جو دیکھتا ہوں تو بیشمار مجمع ہے جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی ہیں اب مجھ سے پوچھا گیا کہو خوش ہو میں نے کہا میرے رب میں راضی ہو گیا، فرمایا گیا سنو! ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے، اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پر میرے میں باپ فدا ہوں اگر ہو سکے تو ان ستر ہزار میں سے ہی ہونا اگر یہ نہ ہو سکے تو ان میں سے ہو جو پہاڑیوں کو چھپائے ہوئے تھے اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ان میں سے ہونا جو آسمان کے کناروں کناروں پر تھے، حضرت عکاش بن محصن نے کھڑے ہو کر کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے ان ستر ہزار میں سے کرے آپ نے دعا کی تو ایک دوسرے صحابی نے بھی اٹھ کر یہی گزارش کی تو آپ نے فرمایا تم پر حضرت عکاشہ سبقت کر گئے، ہم اب آپس میں کہنے لگے کہ شاید یہ ستر ہزار لوگ ہوں گے جو اسلام پر ہی پیدا ہوئے ہوں اور پوری عمر میں کبھی اللہ کے ساتھ شرک کیا ہی نہ ہو آپ کو جب یہ معلوم ہوا تو فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو دم جھاڑا نہیں کراتے آگ کے داغ نہیں لگواتے شگون نہیں لیتے اور اپنے رب پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں (مسند احمد) ایک اور سند سے اتنی زیادتی اس میں اور بھی ہے جب میں نے اپنی رضامندی ظاہر کی تو مجھ سے کہا گیا اب اپنی بائیں جانب دیکھو میں نے دیکھا تو بیشمار مجمع ہے جس نے آسمان کے کناروں کو بھی ڈھک لیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ موسم حج کا یہ واقعہ ہے آپ فرماتے ہیں مجھے اپنی امت کی یہ کثرت بہت پسند آئی تمام پہاڑیاں اور میدان ان سے پُر تھے (مسند احمد) ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عکاشہ کے بعد کھڑے ہونے والے ایک انصاری تھے رضی اللہ تعالیٰ عنہ (طبرانی) ایک اور روایت میں ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار یا ساٹھ لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے جو ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں گے سب ایک ساتھ جنت میں جائیں گے چمکتے ہوئے چودھویں رات کے چاند جیسے ان کے چہرے ہوں گے۔ (بخاری مسلم طبرانی) حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ سعید بن جیبر کے پاس تھا تو آپ نے دریافت کیا رات کو جو ستارہ ٹوٹا تھا تم میں سے کسی نے دیکھا تھا میں نے کہا ہاں حضرت میں نے دیکھا تھا یہ نہ سمجھئے گا کہ میں نماز میں تھا بلکہ مجھے بچھو نے کاٹ کھایا تھا حضرت سعید نے پوچھا پھر تم نے کیا کیا میں نے کہا دم کر دیا تھا کہا کیوں میں نے کہا حضرت شعبی نے بریدہ بن حصیب کی روایت سے حدیث بیان کی ہے کہ نظربد اور زہریلے جانوروں کا دم جھاڑا کرانا ہے کہنے لگے خیر جسے جو پہنچے اس پر عمل کرے ہمیں تو حضرت ابن عباس نے سنایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں کسی نبی کے ساتھ ایک جماعت تھی کسی کے ساتھ ایک شخص اور دو شخص اور کسی نبی کے ساتھ کوئی نہ تھا اب جو دیکھا کہ ایک بڑی پر جماعت نظر پڑی میں سمجھا یہ تو میری امت ہوگی پھر معلوم ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے مجھ سے کہا گیا آسمان کے کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا تو وہاں بیشمار لوگ تھے مجھ سے کہا گیا یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار اور ہیں جو بےحساب اور بےعذاب جنت میں جائیں گے یہ حدیث بیان فرما کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو مکان پر چلے گئے اور صحابہ آپس میں کہنے لگے شاید یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہوں گے کسی نے کہا نہیں اسلام میں پیدا ہونے والے اور اسلام پر ہی مرنے والے ہوں گے وغیرہ وغیرہ آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا باتیں کر رہے ہو ہم نے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا نہیں یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم جھاڑا کریں نہ کرائیں ، نہ داغ لگوائیں نہ شگون لیں بلکہ اپنے رب پر بھروسہ رکھیں حضرت عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دعا کی درخواست کی آپ نے دعا کی یا اللہ تو اسے ان میں سے ہی بنا۔ پھر دوسرے شخص نے بھی یہی کہا آپ نے فرمایا عکاشہ آگے بڑھ گئے، یہ حدیث بخاری میں ہے لیکن اس میں دم جھاڑا نہیں کرنے کا لفظ نہیں صحیح مسلم میں یہ لفظ بھی ہے۔ ایک اور مطول حدیث میں ہے کہ پہلی جماعت تو نجات پائے گی ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح روشن ہوں گے ان سے حساب بھی نہ لیا جائے گا پھر ان کے بعد والے سب سے زیادہ روشن ستارے جیسے چمکدار چہرے والے ہوں گے (مسلم) آپ فرماتے ہیں مجھ سے میرے رب کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار شخص بغیر حساب و عذاب کے داخل بہشت ہوں گے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور تین لپیں اور میرے رب عزوجل کی لپوں سے (کتاب السنن لحافظ ابی بکر بن عاصم) اس کی اسناد بہت عمدہ ہے ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ سے ستر ہزار کی تعداد سن کر یزید بن اخنس نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو آپ کی امت کی تعداد کے مقابلہ میں بہت ہی تھوڑے ہیں تو آپ نے فرمایا ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہیں اور پھر اللہ نے تین لپیں (ہتھیلیوں کا کشکول) بھر کر اور بھی عطا فرمائے ہیں ، اسکی اسناد بھی حسن ہے (کتاب السنن اور ایک اور حدیث میں ہے کہ
میرے رب نے جو عزت اور جلال والا ہے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بلا حساب جنت میں لے جائے گا پھر ایک ایک ہزار کی شفاعت سے ستر ستر ہزار آدمی اور جائیں گے پھر میرا رب اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپیں (دونوں ہاتھوں کی ہھتیلیوں کو ملا کر کٹورا بنانا) بھر کر اور ڈالے گا.
حضرت عمر نے یہ سن کر خوش ہو کر اللہ اکبر کہا اور فرمایا کہ:
ان کی شفاعت ان کے باپ دادوں اور بیٹوں اور بیٹیوں اور خاندان و قبیلہ میں ہو گی اللہ کرے میں تو ان میں سے ہو جاؤں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی لپوں میں بھر کر آخر میں جنت میں لے جائے گا.
(طبرانی)
اس حدیث کی سند میں بھی کوئی علت نہیں ، واللہ اعلم، کرید میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث فرمائی جس میں جنت میں یہ بھی فرمایا یہ ستر ہزار جو بلا حساب جنت میں داخل کئے جائیں گے میراخیال ہے کہ ان کے آتے آتے تو تم اپنے لئے اور اپنے بال بچوں اور بیویوں کیلئے جنت میں جگہ مقرر کر چکے ہونگے (مسند احمد) اس کی سند میں شرط مسلم پر ہے، ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کا وعدہ ہے کہ میری امت میں سے چار لاکھ آدمی جنت میں جائیں گے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کچھ اور زیادہ کیجئے اسے سن کر حضرت عمر نے فرمایا ابو بکر بس کرو صدیق نے جواب دیا کیوں صاحب اگر ہم سب کے سب جنت میں چلے جائیں گے تو آپ کو کیا نقصان ہے حضرت عمر نے فرمایا اگر اللہ چاہے تو ایک ہی ہاتھ میں ساری مخلوق کو جنت میں ڈال دے حضور علیہ السلام نے فرمایا عمر سچ کہتے ہیں (مسند عبدالرزاق) اسی حدیث کی اور سند سے بھی بیان ہے اس میں تعداد ایک لاکھ آئی ہے (اصبہانی) ایک اور روایت میں ہے کہ جب صحابہ نے ستر ہزار اور پھر ہر ایک کے ساتھ ستر ہزار پھر اللہ کی لپ بھر کر جنتی بنانا سنا تو کہنے لگے پھر تو اس کی بدنصیبی میں کیا شک رہ گیا جو باوجود اس کے بھی جہنم میں جائے (ابولیلی) اوپر والی حدیث ایک اور سند سے بھی بیان ہوئی ہے اس میں تعداد تین لاکھ کی ہے پھر حضرت عمر نے فرمایا میری امت کے سارے مہاجر تو اس میں آہی جائیں گے پھر باقی تعداد اعرابیوں سے پوری ہو گی (محمد بن سہل) حضرت ابو سعید کہتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حساب کیا گیا تو جملہ تعداد چار کروڑ نوے ہزار ہوئی، ایک اور حسن حدیث طبرانی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جان محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اس کے ہاتھ میں ہے تم ایک اندھیری رات کی طرح بیشمار ایک ساتھ جنت کی طرف بڑھو گے، زمین تم سے پر ہو جائے گی تمام فرشتے پکار اٹھیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو جماعت آئی وہ تمام نبیوں کی جماعت سے بہت زیادہ ہے، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا صرف میری تابعدار امت اہل جنت کی چوتھائی ہو گی صحابہ نے خوش ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا پھر فرمایا کہ مجھے تو امید ہے کہ تم اہل جنت کا تیسرا حصہ ہو جاؤ ہم نے پھر تکبیر کہی پھر فرمایا میں امید کرتا ہوں کہ تم آدھوں آدھ ہو جاؤ (مسند احمد) اور حدیث میں ہے کہ آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تم تمام جنتوں کے چوتھائی ہو ہم نے خوش ہو کر اللہ کی بڑائی بیان کی پھر فرمایا کہ تم راضی نہیں ہو کہ تمام اہل جنت کی تہائی ہو ہم نے پھر تکبیر کہی آپ نے فرمایا مجھے تو امید ہے کہ تم جنتیوں کے آدھوں آدھ ہو گے (بخاری مسلم) طبرانی میں یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا کہتے ہو تم جنتیوں کا چوتھائی حصہ بننا چاہتے ہو کہ چوتھائی جنت تمہارے پاس ہو اور تین اور چوتھائیوں میں تمام امتیں ہوں؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول خوب جانتا ہے آپ نے فرمایا اچھا تہائی حصہ ہو تو ہم نے کہا یہ بہت ہے فرمایا اگر آدھوں آدھ ہو تو، انہوں نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر تو بہت ہی زیادہ ہے آپ نے فرمایا سنو! کل اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہیں جن میں سے اسی صفیں صرف اس میری امت کی ہیں ، مسند احمد میں بھی ہے کہ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ان میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہیں یہ حدیث طبرانی ترمذی وغیرہ میں بھی ہے، طبرانی ایک اور روایت میں ہے کہ جب آیت
(ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 39۝ۙ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ 40۝ۭ ) 56۔ الواقعہ:39۔40)
اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اہل جنت کی چوتھائی ہو پھر فرمایا بلکہ ثلث ہو پھر فرمایا بلکہ نصف ہو پھر فرمایا دو تہائی ہو (اے وسیع رحمتوں والے اور بےروک نعمتوں والے اللہ ہم تیرا بے انتہا شکر ادا کرتے ہیں کہ تو نے ہمیں ایسے معزز و محترم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں پیدا کیا تیرے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی زبان سے تیرے اس بڑھے چڑھے فضل و کرم کا حال سن کر ہم گنہگاروں کے منہ میں پانی بھر آیا، اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اللہ ہماری آس نہ توڑ اور ہمیں بھی ان نیک ہستیوں کے ساتھ جنت میں داخل فرما۔ باری تعالیٰ تیری رحمت کی ان گنت اور بیشمار بندوں میں سے اگر ایک قطرہ بھی ہم گنہگاروں پر برس جائے تو ہمارے گناہوں کو دھو ڈالنے اور ہمیں تیری رحمت و رضوان کے لائق بنانے کیلئے کافی ہے، اللہ اس پاک ذکر کے موقعہ پر ہم ہاتھ اٹھا کر دامن پھیلا کر آنسو بہا کر امیدوں بھرے دل سے تیری رحمت کا سہارا لے کر تیرے کرم کا دامن تھام کر تجھ سے بھیک مانگتے ہیں تو قبول فرما اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی اپنی رضامندی کا گھر جنت الفردوس عطا فرما۔ (آمین الہ الحق آمین) صحیح بخاری مسلم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہم دنیا میں سب سے آخر آئے اور جنت میں سب سے پہلے جائیں گے اور ان کو کتاب اللہ پہلے ملی ہمیں بعد میں ملی جن باتوں میں انہوں نے اختلاف کیا ان میں اللہ نے ہمیں صحیح طریق کی توفیق دی، جمعہ کا دن بھی ایسا ہی ہے کہ یہود ہمارے پیچھے ہیں ہفتہ کے دن اور نصرانی ان کے پیچھے اتوار کے دن دار قطنی میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک میں جنت میں داخل نہ ہو جاؤں انبیاء پر دخول جنت حرام ہے اور جب تک میری امت نہ داخل ہو دوسری امتوں پر دخول جنت حرام ہے۔ یہ وہ حدیثیں تھیں جنہیں ہم اس آیت کے تحت وارد کرنا چاہتے تھے فالحمد للہ۔ امت کو بھی چاہئے کہ یہاں اس آیت میں جتنی صفیں ہیں ان پر مضبوطی کے ساتھ قائم ثابت رہیں یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور ایمان باللہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے حج میں اس آیت کی تلاوت فرما کر لوگوں سے کہا کہ اگر تم اس آیت کی تعریف میں داخل ہونا چاہتے ہو تو یہ اوصاف بھی اپنے میں پیدا کرو، امام ابن جرید فرماتے ، اہل کتاب ان کاموں کو چھوڑ بیٹھے تھے جن کی مذمت کلام اللہ نے کی، فرمایا آیت
(كَانُوْا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ ۭلَبِئْسَ مَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ) 5۔ المائدہ:79)
وہ لوگ برائی کی باتوں سے لوگوں کو روکتے نہ تھے چونکہ مندرجہ بالا آیت میں ایمان داروں کی تعریف و توصیف بیان ہوئی تو اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے، تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ بھی میرے نبی آخر الزمان پر ایمان لاتے تو انہیں بھی یہ فضیلتیں ملتیں لیکن ان میں سے کفرو فسق اور گناہوں پر جمے ہوئے ہیں ہاں کچھ لوگ با ایمان بھی ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بشارت دیتا ہے کہ تم نہ گھبرانا اللہ تمہیں تمہارے مخالفین پر غالب رکھے گا چنانچہ خیبر والے دن اللہ تعالیٰ نے انہیں ذلیل کیا اور ان سے پہلے بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کو بھی اللہ نے ذلیل و رسوا کیا، اسی طرح شام کے نصرانی صحابہ کے وقت میں مغلوب ہوئے اور ملک شام ان کے ہاتھوں سے نکل گیا اور ہمیشہ کیلئے مسلمانوں کے قبضہ میں آگیا اور وہاں ایک حق والی جماعت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے تک حق پر قائم رہے گی، حضرت عیسیٰ آ کر ملت اسلام اور شریعت محمد کے مطابق حکم کریں گے صلیب توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے جزیہ قبول نہ کریں گے صرف اسلام ہی قبول فرمائیں گے پھر فرمایا کہ ان کے اوپر ذلت اور پستی ڈال دی گئی ہاں اللہ کی پناہ کے علاوہ کہیں بھی امن و امان اور عزت نہیں یعنی جزیہ دینا اور مسلم بادشاہ کی اطاعت کرنا قبول کر لیں اور لوگوں کی پناہ یعنی عقد ذمہ مقرر ہو جائے یا کوئی مسلمان امن دے دے اگرچہ کوئی عورت ہو یا کوئی غلام ہو، علماء کا ایک قول یہ بھی ہے، حضرت ابن عباس کا قول ہے کہ حبل سے مراد ہے جو غضب کے مستحق ہوئے اور مسکینی چپکا دی گئی، ان کے کفر اور انبیاء کے تکبر، حسد، سرکشی وغیرہ کا بدلہ ہے۔ اسی باعث ان پر ذلت پستی اور مسکینی ہمیشہ کیلئے ڈال دی گئی ان کی نافرمانیوں اور تجاوز حق کا یہ بدلہ ہے العیاذ باللہ، ابو داؤد طیالسی میں حدیث ہے کہ بنی اسرائیل ایک ایک دن میں تین تین سو نبیوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور دن کے آخری حصہ میں اپنے اپنے کاموں پر بازاروں میں لگ جاتے تھے.
https://www.facebook.com/836581116427098/photos/a.836583536426856.1073741828.836581116427098/936799616405247/?type=3