منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان

منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان
از قلم:… قاری محمد اکرام چکوالی
ہمارے معاشرے میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اور نفسیاتی مسائل کسی سنگین خطرے سے خالی نہیں.ہر روز ہم اخبارت اورسوشل میڈیا پر اس طرح کی کئی خبریں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ منشیات کا نشہ ایک ایسی لعنت ہے جو سکون کے دھوکے سے شروع ہوتی ہے اور زندگی کی بربادی پر ختم ہوجاتی ہے۔سرکاری تخمینے کے مطابق نشے کے عادی پاکستانیوں کی تعداد نوے لاکھ کے لگ بھگ بتاتے ہیں، غیرسرکاری تنظیموں کے خیال میں ڈیڑھ کروڑ پاکستانی یعنی کل آبادی کا سات فی صد منشیات استعمال کرتے ہیں۔ سب سے عام اور مقبول ترین نشہ چرس ہے۔ افیون، چرس،بھنگ ،ہیروئن وغیرہ برصغیر کے مقامی نشے ہیں، یوں تو مملکت خداداد کا ہر صوبہ اور ہر خطہ ہی چرس کی پیداوار میں بڑی حد تک خودکفیل ہے۔ ، ہیروئن (سفیدپائوڈر)جس کی وجہ سے نوجوان نسل بالخصوص اور پوری قوم بالعموم بری طرح سے متاثر ہو ئی اور ہو رہی ہے منشیات کے استعمال کی بنیادی وجہ دین سے دوری،نشہ آور اشیا کے استعمال کے نقصانات سے بے خبری ہے ،اس کا عادی انسان ذہنی، جسمانی اور سماجی طور پر معذور ہو جاتا ہے۔گھر کے کسی فرد کا نشے میں مبتلا ہونے کا اثر پورے خاندان پر پڑتا ہے خاص طور پر وہ نوجوان جنہیں والدین اعلی تعلیم کے لئے کالجز اور یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بننے کے ساتھ ساتھ والدین کا سہارا بنیں لیکن افسوس کہ چند نادان اْن میں سے غلط راستوں پر چل نکلتے ہیں ، منشیات ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو انسان کو دنیاو آخرت سے بیگانہ کر دیتا ہے۔ اس کو استعمال کرنے و الا ہر شخص حقیقت سے فرار حاصل کرتا ہے اور خیالوں میں بھٹکتا ہے۔منشیات کا نشہ پہلے پہل ایک شوق ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ ضرورت بن جاتا ہے۔ نشےکا عادی شخص درد ناک کرب میں لمحہ لمحہ مرتا ہے۔ اس کی موت صرف اس کی نہیں ہوتی بلکہ اس کی خوشیوں کی خواہشات کی تمناؤں کی بھی موت ہوتی ہے۔کوئی اگر نشہ کرنا شروع کرتا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی وجہ، کوئی واقعہ، مایوسی، محرومی اور ناکامی کا کوئی پہلو ہوتا ہوگا۔پر انسان یہ کیوں نہیں سوچتا کہ مایوسی اور ناکامی کا علاج صرف نشہ کرنا نہیں۔ بلکہ نشہ انسان کی صحت کے لیے زہر ہے۔
دین ِ اسلام میں اللہ تعالیٰ نے شراب کے استعمال کو حرام قرار دیا ہے، حضرت محمد ﷺ نے معاشرے میں نشہ آور چیزوں سے پیدا ہونے والی خرابیوں کو روکنے کے لئے اس کااستعمال کرنے والے پر حد مقرر کی ،دین اسلام نے اس کو ہر لحاظ سے ممنوع قرار دیا،اسکو’’ ام الخبائث ‘‘ ـکا نام دیا اسلام نے اسے تمام جرائم کی ماں کا نام دے کر اس کے جملہ پوشیدہ عیوب و نقائص بیان کردیے، اسلام نے ہر اس چیز کو جو کسی بھی صورت میں نشہ کا سبب بنتی ہواس پر حرام کی مہر لگا کر اس کے استعمال کو ممنوع قرار دے دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز جو عقل میں بگاڑ پیدا کردے شراب کے زمرہ میں آتی ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ،چنانچہ اسلام میں جن کاموں کی شدت کے ساتھ مذمت کی گئی ہے اور جن سے منع فرمایا گیا ہے ، ان میں ایک نشہ کا استعمال بھی ہے ، قرآن مجید نے نہ صرف یہ کہ اس کو حرام بلکہ نا پاک قرار دیا ہے ( المائدۃ : ۹۰ )کیوںکہ انسان کا سب سے اصل جوہر اس کا اخلاق و کردار ہے ، نشہ انسان کو اخلاقی پاکیزگی سے محروم کر کے گندے افعال اور ناپاک حرکتوں کا مرتکب کر تی ہے اور روحانی اور باطنی ناپاکی ظاہری ناپاکی سے بھی زیادہ انسان کے لئے مضرت رساں ہے ، اورانسان کو جن نعمتوں سے سرفراز کیا گیا ہے ، ان میں ایک عقل و دانائی بھی ہے ، یہی عقل ہے جس نے اس کے کمزور ہاتھوں میں پوری کائنات کو مسخر کر رکھا ہے اور اسی صلاحیت کی وجہ سے اللہ نے اس کو دنیا میں خلافت کی ذمہ داری سونپی ہے ۔
چونکہ کسی بھی قوم کے لیے اصل قوت اِن کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نئی نسل کا جذبہ ہی کسی بھی قوم کو بھرپور ترقی سے ہم کنار کرتا ہے۔ کسی بھی ملک میں نئی نسل کو ملک کی بہتر خدمت کے لیے بھرپور انداز سے تیار کرنے پر توجہ دی جاتی ہے۔صرف معاشی ترقی کے لئے ہی ضروری نہیں ہوا کرتی بلکہ ملک کے دفاع میں بھی اس کا بھرپور کردار ہوتا ہے۔ یہ نوجوان ہی ہیں جو سرحدوں پر رات دن جاگ کر ملک کو دشمنوں سے بچاتے ہیں۔ ملک کی آزادی اور خود مختاری کا حقیقی تحفظ نئی نسل ہی کی بدولت ممکن ہو پاتا ہے۔ اگر نئی نسل متحد اور چوکس ہو تو دشمن اپنے ناپاک عزائم پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا۔
ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں میں منشیات کے استعمال کی ایک وجہ ان میں پایا جانے والاتنہائی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ جب والدین انہیں زیادہ وقت نہیں دیتے تو بچے اپنے لیے مصروفیات گھر سے باہر تلاش کرتے ہیںاور بری صحبت میں پڑکرسگریٹ نوشی کی ابتدا کرتے ہیں۔اورسگریٹ نوشی کو منشیات کی جانب پہلا قدم قرار دیا جاتا ہے کیونکہ معاملہ محض اچھائی اور برائی کے درمیان باریک سی لکیر کا ہی تو ہے اور جب وہ تفریق مٹ جاتی ہے تو پھر کوئی برائی‘ برائی نہیں لگتی۔اس لئے نوجوان نسل میں اس بات کا شعور اجاگر کیا جائے کہ وہ مذاقاً بھی نشہ آور اشیاء استعمال نہ کریں اور نہ ہی کسی نشے کے عادی یا فروخت کرنے والے فرد سے دوستی رکھیں، کیوں کہ بعض اوقات مذاقاً کی گئی ایک چھوٹی سی غلطی کی بھی بہت بھاری قیمت چکانی پڑ جاتی ہے، جو تباہی و بربادی پر بھی منتج ہوسکتی ہے۔منشیات کا زہر ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے، کتنے ہی خاندان ایسے ہیں جو نشے میں مبتلا اپنے بچوں کے مستقبل سے نااُمید ہو چکے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق ان دنوں منشیات کی فروخت روایتی نہیں بلکہ انتہائی جدید انداز میں سوشل میڈیا کے ذریعے کی جارہی ہے۔ منشیات فروش واٹس ایپ اور فیس بک سمیت سوشل میڈیا کی دیگر ایپس استعمال کر رہے ہیں۔ واٹس ایپ پر ایک میسیج سو لوگوں تک بھی گیا تو ان میں دس سے پندرہ نوجوان ان کے شکنجے میں پھنس ہی جاتے ہیں۔اگربندوق کےزور پرپولیو کے قطرے پلوائے جاتے ہیں تو اسی بندوق کے زور پر منشیات کے خلاف ایکشن لیا جائے تو معاشرہ ایک بڑی تباہی سے بچ سکتا ہے،عام دکانوں سے لیکر تعلیمی اداروں تک منشیات آسانی سے پہنچتی ہے پولیو صرف ایک بندے کو معذور کرتا ہے منشیات آنے والی نسلوں کو برباد کرتی ہے ،اس برائی سے سماج کو بچانے کی تدبیر یہی ہے کہ ایک طرف لوگوں کو نشہ کے نقصانات کے بارے میں باشعور کیا جائے اور اس کے نقصانات سے ہر سطح پر آگاہ کیا جائے، دوسری طرف ان اسباب پر روک لگائی جائے جو منشیات کے پھیلنے میں ممدو معاون ہیں،اورمنشیات کے خاتمہ کے لئے علما کرام ،اساتذہ سمیت ذرائع ابلاغ پر انتہائی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے کے لئے بھر پور کردارادا کریں ۔