ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو

سورۃ الحجرات سے نو نصیحتیں:

ایک دوسرے کی عیب جوئی نہ کرو

 از قلم:… قاری محمد اکرام چکوالی

(5)… پانچویں نصیحت وَلَا تَلْمِزُوْٓا : اور نہ عیب لگاؤ 

”ولاتلمزوا: لمز کے معنی کسی پر طعن کرنا، آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اس پر کوئی طنز آمیز فقرہ چست کردینا ہےاصل میں لفظ لمزْ استعمال ہوا ہے جس کے اندر طعن وتشنیع کے علاوہ متعدد دوسرے مفہومات بھی شامل ہیں، مثلاً چوٹیں کرنا، پھبتیاں کسنا، الزام دھرنا، اعتراض جڑنا، عیب چینی کرنا، اور کھلم کھلا یا زیر لب یا اشاروں سے کسی کو نشانہ ملامت بنانا۔ یہ سب افعال بھی چونکہ آپس کے تعلقات کو بگاڑتے اور معاشرے میں فساد برپا کرتے ہیں اس لیے ان کو حرام کردیا گیا ہے۔اورجب اللہ نے ہمارے بے شمار عیبوں پر پردہ ڈال رکھا ہے تو کیا ہمیں یہ بات زیب دیتی ہے کہ ہم دوسروں کی جاسوسی کرتے پھریں ۔ان کے نقص اور عیب تلاش کریں اور پھر انہیں معاشرے میں بے عزت کریں۔ ذرا سوچیے! اگر عزت وذلت کا معاملہ اللہ نے انسانوں کے ہاتھ میں دیا ہوتا تو ہم میں سے کوئی بھی شخص اپنے مقابل کسی کو کبھی باعزت زندگی گزارنے ہی نہ دیتا۔ اور شاید ہر شخص ذلت کی زندگی گزار رہا ہوتا۔ اس ربِ کریم کی شان ہے کہ اس نے عزت اور ذلت اپنے ہاتھ میں ہی رکھی ہے ۔
علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کی سعادت اور خوش نصیبی اس میں ہے کہ اپنے عیوب پر نظر رکھے ان کی اصلاح کی فکر میں لگا رہے اور جو ایسا کرے گا اس کو دوسروں کے عیب نکالنے اور بیان کرنے کی فرصت ہی نہ ملے گی ۔ انسان کی خوش قسمتی اور سعادت مندی ہوتی ہے کہ انسان اپنے عیب کو دیکھے اور دوسرے پر چشم پوشی کرے اور اگر عیب دیکھ بھی لے تو چھپائے۔
پھر یہ بھی سوچے کہ جب میں دوسروں کے عیب نکالتا ہوں تو میرے اندر کتنے عیب ہیں ، اللہ کتنا ستَّار)عیب چھپانے والا( ہے ، اللہ نے پردہ ڈالا ہوا ہے میرے عیوب اللہ پاک نے پردے میں چھپادیے ہیں ، تو مجھے خیال کرنا چاہیئے۔ جب اللہ میرے عیب پردے میں چھپاتا ہے تو میں دوسرے کے عیب کیوں نکالوں ؟دیکھو ہمارے بڑے فرماتے ہیں کہ جب ہم انگلی کے ساتھ کسی کے عیب کی طرف اشارہ کرتے ہیں ہماری ایک انگلی اُدھر جاتی ہے تو تین انگلیاں ہماری طرف آتی ہیں ایک انگلی کہتی ہے اُسے دیکھو تو تین کہتی ہیں خود کو دیکھو۔ اس لیے کسی کے عیب نکالنے سے پہلے انسان کو کئی بار سوچنا چاہیئے کہ میرے اندر کتنے عیب موجود ہیں؟ اور جب انسان اپنے عیبوں کی فکر کرتا ہے تو پھر دوسرے کے عیبوں کو بھول جاتا ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں کے پوشیدہ احوال اور خفیہ معاملات کے تجسس کو سخت ناپسند فرماتے تھے۔ آپﷺ نے تجسس یعنی کسی کی ٹوہ میں لگے رہنے کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’مسلمانوں کے خفیہ حالات کی ٹوہ نہ لگاؤ، کیونکہ جو دوسروں کے معاملات کی ٹوہ لگاتا ہے، اللہ تعالی اس کے عیوب ظاہر کردیتا ہے اور جس کے عیوب کو اللہ ظاہر کرتا ہے، اسے دوسروں کے سامنے رسوا کردیتا ہے‘‘۔ (ابوداؤد)ایک مرتبہ آپﷺ اپنے حجرہ مبارکہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص دروازے کے درازوں سے اندر جھانکنے لگا۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’تیرا ناس ہو، اجازت مانگنے کا حکم آنکھوں کے لئے ہی تو ہے‘‘۔ (مسلم)قرآن مجید میں جابجا دوسروں کی کوتاہیوں سے چشم پوشی اور درگزر کرنے کا حکم دیا گیا اور آپﷺ ہمیشہ دوسروں کے عیوب سے چشم پوشی فرماتے اور اسی کا دوسروں کو حکم فرماتے۔ آپﷺ کا فرمان ہے: ’’جو کوئی کسی مسلمان کے عیب کو دیکھ کر چشم پوشی کرتا ہے، وہ گویا کسی زندہ دفن کی جانے والی بچی کو زندگی بخشتا ہے‘‘ (ابوداؤد)مزید فرمایا: ’’جو کسی مسلمان کے عیب سے چشم پوشی کرے گا، اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا‘‘۔ (مسلم)جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔(صحیح مسلم:6490)
دراصل شوشل میڈیا کی وجہ سے بے شمار غیر اہم افراد بھی اپنے آپ کوسماج کا اہم حصہ سمجھنے لگے ہیں۔ رات دن شوشل میڈیا سے جڑے رہنا، ہر اہم غیر اہم بات کو پھیلانا، لوگوں کے بیچ اہم بننے کے چکر میں بلا سوچے سمجھے کچھ بھی ایک دوسرے کو میسج بھیج دینے کے عمل نے سماج میں ایک انتشار پیدا کردیا ہے۔ ہمیں تو حکم ہے کہ بلا تحقیق کسی بھی موضوع پر بات بھی نہ کریں اور کہاں تو یہ کہ دماغ کی بتی بجھا دی گئی ہے اور کیپیڈ پر انگلیاں چل رہی ہیں۔ کچھ سوچ سمجھ نہیں رہ گئی ہے کہ کون سی بات پیش کرنا چاہئے یا کون سی بات آگے بڑھانا چاہئے۔ سچ ہے کہ آجکل سوشل میڈیا پر خبریں پھیلانے یا شیئر کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔اس لئے ہر مسلمان پر یہ لازم ہے کہ دوسروں کی عیبوں کی پردہ پوشی کرے اور انہیں گناہوں کو روکنے میں مدد کریں۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کی عزت کی حفاظت کرنا اور اگر کوئی دوسرا شخص کسی مسلمان کی عزت کو داغدار کرے تو اس کا دفاع کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔اگر آج ہم احساس کرتے ہوئے اپنی عزت کی طرح دوسرے مسلمان کی عزت کی حفاظت کریں تو یقینًا معاشرے میں امن عافیت کی فضاء پیدا ہوگی جس سے نیکی اور خیر کی فضاء لہلہا اٹھے گی۔ ان شاء اللہ