اپریل فول کبیرہ گناہوں کا مجموعہ

 از قلم:… قاری محمد اکرام چکوالی
مُعَاشَرے میں پائی جانے والی برائیوں میں ایک ناسُور ”اپریل فُول (April fool)“ بھی ہے ۔ لفظ ”فول “ ( fool) انگریزی زبان کا لفظ ہے ، اس کے معنی احمق ،بے وقوف اور مسخرے کے ہیں ۔جسے یکم اپریل کو رسم کے طور پر منایا جاتا ہے،مغربی ممالک میں یکم اپریل کو عملی مذاق کا دن قرار دیا جاتا ہے اس دن ہر طرح کی نازیبا حرکات کی چھوٹ ہوتی ہے اور جھوٹے مذاق کا سہارا لے کر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے،افسوس صد افسوس کہ یہ فضول اور فول رسم مسلم معاشرے کا ایک اہم اور لازم حصہ بن چکی ہیں اور مسلمان اپنے ہی مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی اور بربادی پر خوشی کا دن مناتے ہیں اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کوبیوقوف بناتے ہیں ،آپس میں مذاق واستہزا،جھوٹ ،دھوکہ ،فریب ،وعدہ خلافی اورایک دوسرے کی تذلیل وتضحیک کرتے ہیں۔ سماجی ،مذہبی اوراخلاقی اعتبارسے اپریل فول مناناحرام ہے ۔
یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ آج کا مسلمان مغربی افکار اور نظریات سے اتنا مرعوب ہوچکا ہے کہ اسے ترقی کی ہر منزل مغرب کی پیروی میں ہی نطر آتی ہے۔ ہر وہ قول وعمل جو مغرب کے ہاں رائج ہوچکا ہے اس کی تقلید کولازم سمجھتا ہے ،قطع نظر اس سے کہ وہ اسلامی افکار کے موافق ہے یا مخالف ۔حتی کہ یہ مرعوب مسلمان ان کے مذہبی شعار تک اپنانے کی کوشش کرتاہے ۔”اپریل فول“بھی ان چند رسوم ورواج میں سے ایک مغربی رسم ہے، جو مشرق میں بھی پوری طرح پھیل چکی ہے، اسے ”اپریل فول“ کہتے ہیں ، اس کے لیے یکم اپریل کا دن خاص کیا گیا ہے ، کیا بچے کیا بوڑھے اور کیا جوان سب اس دن کی مسرتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں؛ لیکن یہ مسرتیں حقیقی نہیں ہوتیں، کیوں کہ ان کی بنیاد تین چیزوں پررکھی جاتی ہے ، جھوٹ پر ، فریب پر اور دوسروں کی تضحیک پر ، ظاہر ہے وہ مسرت حقیقی نہیں کہلائی جاسکتی جوکسی کادل دُکھا کر، کسی کو فریب دے کر یا کسی کو اذیت میں مبتلا کرکے حاصل کی گئی ہو ، یوں تو مغرب کے لوگ بڑے دیانت دار، بڑے سچے، بڑے ہم درد اور کھرے بنتےہیں ، لیکن اپریل کی پہلی تاریخ کو وہ اپنے ان تمام خود ساختہ اورمصنوعی اصاف سے محروم ہو جاتے ہیں،اور ان کا اصل چہرہ سامنے آجاتا ہےاورہمارے لوگ بھی ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں جو مغرب کے اندھے مقلد ہوتے ہیں ، خود ان کے پاس تو سوچنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، سووہ نقالی کرتے ہیں ، مغرب کے لوگ اگر ننگے ہو کر ناچنا شروع کر دیں تو یہ بھی بے حیا بن کرنا چنے میں فخر محسوس کریں گے ، اس پورے عمل میں ان کے لیے قابل فخر چیز یہ ہے کہ وہ مغرب کی تقلید کررہے ہیں، اس سے بحث نہیں کہ وہ کتنے شرم ناک کام میں مشغول ہیں ، یکم اپریل کو ”اپریل فول“ منانے کی رسم بد کا بھی یہی حال ہے ، لوگ اس دن ایک دوسرے کو بے وقوف بناتے ہیں ، جھوٹ بولتے ہیں اور جب مخاطب جھوٹ کو سچ سمجھ لیتا ہے تب یہ خوشی سے قہقہے لگاتے ہیں، کیوں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹ بول کر مخاطب کو بے وقوف بنا نے میں کام یابی حاصل کر لی ہے ، انہیں اس سے بحث نہیں ہوتی کہ اس جھوٹ سے کسی دوسرے کو کتنی تکلیف پہنچی ہے اور اسے کتنا ذہنی، جسمانی یا مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے ؟ بعض اوقات اس طرح کے بے ہودہ مذاق سے انتہائی تکلیف دہ صورت حال بھی پیدا ہوئی ہے او رمتعلقہ لوگوں کو برسہا برس تک اس کا خمیازہ بھگتنا پڑھتا ہے۔
اپریل فول کی تاریخ: اپریل فول کو اگر تاریخ کے آئینہ میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کی بنیاد اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہے۔ تاریخی طورپریہ بات واضح ہے کہ اسپین پر جب عیسائیوں نے دوبارہ قبضہ کیا تو مسلمانوں کا بے تحاشا خون بہایا۔آئے روز قتل وغارت کے بازار گرم کیے۔ بالآخر تھک ہار کر بادشاہ فرڈینینڈنے عام اعلان کروایا کہ مسلمانوں کی جان یہاں محفوظ نہیں ،ہم نے انہیں ایک اور اسلامی ملک میں بسانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جو مسلمان وہاں جانا چاہیں ان کے لیے ایک بحری جہاز کا انتظام کیا گیا ہے جو انہیں اسلامی سرزمین پر چھوڑ آئے گا۔حکومت کے اس اعلان سے مسلمانوں کی کثیر تعداد اسلامی ملک کے شوق میں جہاز پر سوار ہوگئی۔جب جہاز سمندر کے عین درمیان میں پہنچا تو فرڈینینڈ کے فوجیوں نے بحری جہاز میں بذریعہ بارود سوراخ کردیا اور خود بحفاظت وہاں سے بھاگ نکلے۔دیکھتے ہی دیکھتے پورا جہاز غرقاب ہوگیا۔ عیسائی دنیا اس پر بہت خوش ہوئی اور فرڈینینڈکو اس شرارت پر داد دی۔یہ یکم اپریل کا دن تھا۔آج یہ دن مغربی دنیا میں مسلمانوں کو ڈبونے کی یاد میں منایا جاتا ہے ۔یہ ہے اپریل فول کی حقیقت!اس کے علاوہ بھی مسلمانوں کا اپریل فول منانا جائز نہیں،کیونکہ اس میں کئی مفاسد ہیں جو ناجائز اور حرام ہیں۔
٭… حدیث مبارکہ میں ہے: سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا گناہ ہے اور گناہ [جہنم کی] آگ کی طرف لے جاتا ہے۔(صحیح مسلم، رقم الحدیث:2607)٭…بلکہ ایک حدیث مبارک میں تو جھوٹ بولنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے:ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرتاہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:33)٭…اس دن جھوٹ کی بنیاد پر بسا اوقات دوسروں کے بارے میں غلط سلط باتیں پھیلا دی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کی عزت خاک میں مل جاتی ہے ،جو اشدمذموم وحرام ہے حدیث میں ہے:تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزت ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہے جیسے اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:1739) اسلامی تعلیمات کی روشنی میںاس رسم کے درج ذیل نقصانات ہیں:…
٭… دشمنوں کی خوشی میں شرکت کرنا۔٭… نفاق میں ڈوب جانا۔٭… جھوٹ بولنا اور ہلاکت پانا۔٭… اللہ کی ناراضگی پانا۔٭… مسلمان بہن بھائیوں کی تباہی و بربادی کی خوشی منانا۔٭… مسلمان بہن بھائیوں کو مصیبت میں ڈالنا۔٭… دنیا و آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے۔٭… دشمنانِ اسلام کی خوشیوں میں شرکت ۔٭… توہین عیسیٰ علیہ السلام کی یاد منانے والوں کی صف میں شمولیت۔ ٭… منافقت کی ترویج و تعلیم٭… گناہ ِ کبیرہ یعنی جھوٹ کا مرتکب ہونا ۔٭… اہل اسلام کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار۔ ٭… مذہبی منافرت۔٭… مشابہت کفار ویہود ونصاریٰ۔یہ ہے اپریل فول کی حقیقت! لہذا اہل اسلام کے لئے یہ تہوار منانا کسی بھی طریقے سے جائز نہیں مذکورہ بالا مفاسد کے علاوہ اس میں غیر مسلموں سے موافقت اور مشابہت بھی پائی جاتی ہے ،جبکہ نبی کریم اکا ارشاد ہے۔من تشبہ بقوم فھو منھم (سنن ابی داؤد)
جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے“۔مسلمانوں کے لیے ان غیر شرعی اور غیر اسلامی رسوم و رواج کو منانے کے حوالے سے یہ بات یقینا سخت تشویشناک ہونی چاہیے کہ یہ غیر اسلامی ہیں اور اسلام کی عظیم تعلیمات اور اخلاقی اقدار کے منافی ہیں۔
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرّہ کے مواعظ میں کسی جگہ ایک واقعہ منقول ہے کہ ایک پیر صاحب غیرمسلموں کے تہوار ”ہولی“ کے دن پان کھاتے ہوئے اپنے مریدین کے ساتھ جارہے تھے، پورا راستہ ہولی کے رنگ سے رنگا ہوا تھا۔ رنگی ہوئی سڑک پر ایک گدھا کھڑا ہوا عجیب سا معلوم ہورہا تھا، پیر صاحب نے از راہِ مذاق پان کی پیک یہ کہتے ہوئے گدھے پر تھوک دی کہ ”تجھ کو کسی نے نہیں رنگا، میں ہی رنگ دیتا ہوں“۔ القصہ پیر صاحب کی وفات کے بعد کسی مرید نے ان کو خواب میں دیکھا کہ عذاب میں مبتلا ہیں، پوچھنے پر فرمایا کہ ہولی کے دن کے واقعہ کی پکڑہوگئی۔ خدا کی پناہ!
بعض لوگ دوسروں کو ہنسانے کی خاطر جھوٹ بولتے ہیں ، ایسے لوگوں کے متعلق حدیث شریف میں ہے ” تباہی ہے ایسے شخص کے لیے جو دوسروں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے۔“ ( ابوداؤد)
قرآن کریم میں ہر طرح کے تمسخر سے منع کیا گیا ہے، فرمایا: ”اے ایمان والو! نہ مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے، ہو سکتا ہے کہ جن پر ہنستے ہیں وہ ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے، ہو سکتا ہے جن پر وہ ہنستی ہیں ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں۔“ ( الحجرات:11)-
بہر حال ! مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات ضرور عیا ں ہو جاتی ہے کہ اپریل فول کی رسم قدرت کے انسانیت کے ساتھ مذاق کے ردعمل کے طور پر ہو یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے استہزاء کی یاد سے منسوب ہو،ہر صورت میں اس کا رشتہ کسی نہ کسی توہم پرستی یا گستاخانہ نظریے یا واقعے کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔اسلامی نقطۂ نظر سے یہ رسم جھوٹ، فریب ،دھوکہ دہی،دوسروں کو اذیت پہنچانا،پیغمبر علیہ السلام کی گستاخی اور استہزاء پر مشتمل ہے ۔اس رسم کو منانے والے ،رواج دینے والے اور اس کو پھیلانے والے اس قبیح اور گستاخانہ رسم کو ایجاد کرنے والوں کے ساتھ گناہ میں برابر کے شریک ہیں۔
لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اس قبیح فعل سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور حکومت وقت کو بھی اس پر پابندی لگانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔یکم اپریل کو اپریل فول منانے سے اجتناب کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، سنی سنائی کوئی بات یا میسج بغیر تحقیق کے آگے نہ بڑھائیں اور اپریل فول کے نام پر منائی جانے والی تمام خرافات سے خدارا دور رہیں اور کوشش کریں کہ اسلامی تاریخ کہ ایک افسوسناک واقع کی بنیاد پر بنائے گئے اس تہوار یا دن کو منانے سے احترازکریں۔اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کواسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے اوریہودونصاریٰ کی تقلید سے پرہیز کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمین