ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر

قسط نمبر2

ریاض عاقب کوہلر

 

”استاد صادق!“میں نے ہر احتیاط بالائے طاق رکھ کر اسے آواز دی ۔میرے پاس وقت بہت کم تھا ۔ورنہ اصولاََ تو مجھے وہاں بے دھڑک آنے سے گریز کرنا چاہیے تھا کیونکہ اگر استاد صادق خدانخواستہ کسی وجہ سے پکڑا گیا ہوتا تو یقینادشمن وہاں میری گھات میں بیٹھا ہوتا ۔

”میں یہاں ہوں ۔“مجھے استاد صادق کی آواز تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوئی تھی۔میں نے آواز کی سمت کا تعین کرتے ہوئے اس طرف نگاہ دوڑائی ۔

وہاں تین درخت آپس میں اس طرح جڑے ہوئے تھے کہ ایک پھیلے ہوئے گھنّے درخت کی صورت اختیار کر گئے تھے ۔اگر وہ مجھے آواز نہ دیتا تو میں اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہتا ۔

”چلیں سر !….ہمیں فی الفور یہاں سے دور جانا ہو گا ۔“ان درختوں کے نیچے جا کر میں نے نظریں اٹھائیں مگر اس بار بھی مجھے گھنّی شاخوں کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیا تھا ۔پھر شاخوں میں حرکت ہوئی اور استاد صادق کا چہرہ نظر آیا۔

”مشن کا کیا ہوا ؟“اس نے چھوٹتے ہی پوچھا ۔

”سر! الحمداللہ کامیاب لوٹا ہوں ،مگر اب تفصیلات بتانے کا وقت نہیں ہے ہمیں چلنا چاہیے ۔“

”ذیشان!مجھے لگتا ہے میرے پاو ¿ں کی ہڈی کریک ہو گئی ہے ،پاو ¿ں سوج گیا ہے ۔اس پاو ¿ں کے ساتھ چلنا ایک خواب ہی ہو گا ۔“اس کی آواز میں گہرے تاسّف کی جھلک تھی ۔

”مگر سر !….تھوڑی دیر بعد یہ جنگل دشمن کے گھیرے میں ہوگا۔“

اس نے کہا ۔”میری مانو تو نکل جاو ¿،کم از کم ایک کا زندہ لوٹنا دونوں کی شہادت سے بہت بہتر ہوگا۔“

”اگر میراسہارا لے کر چلنے کی کوشش کرو تو شاید ہم آہستہ آہستہ ……..“

وہ قطع کلامی کرتے ہوئے بولا۔”یقینا وقت ضائع کر رہے ہو۔اب تک آپ کافی دور نکل گئے ہوتے ۔“

”صحیح کہا ۔“میں اطمینان سے بولا۔”ویسے مجھے امید ہے کہ ان درختوں پر دو آدمیوں کے چھپنے کی گنجایش ہے۔“

”بے وقوف مت بنو ذیشان!“اس نے مجھے ڈانٹا۔

”اگر یہ بے وقوفی ہے تو میں بے وقوف بھلا ۔“میں رائفل کندھے سے لٹکا کردرمیان والے درخت پر چڑھنے لگا ۔

”جانتے بھی ہو ،ایک سنائپر تیار کرنے میں کتنی محنت اور پیسا خرچ ہوتا ہے اور اتنی محنت کے اور خرچ کے بعد بھی کسی شخص کا اچھا سنائپربننا یقینی نہیں ہوتا ۔“

میں نے اطمینان سے جواب دیا ۔”یہ بات مجھے یہاں بھیجنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھی ۔“

وہ زچ ہو کر بولا ۔”وہ مشن تھا ۔“

”اور یہ عبادت ہے ۔“میں ایک مضبوط شاخ منتخب کرکے چھپنے کے لیے مچان بنانے لگا۔

”ذیشان !آپ اچھا نہیں کر رہے ۔“

”استاد جی !….ایک بات کہوں۔“

”کہو۔“

”آپ اپنی توانائی کیوں ضائع کر رہے ہیں ؟“

”ہونہہ !….“وہ گہرا سانس لے کر خاموش ہو گیا ۔

”اچھاتفصیل نہیں سنو گے ۔“

”سنا دو یار !“وہ بے بسی سے بولا۔

اور میں اسے تفصیل سے اپنی کارروائی کے بارے بتانے لگا ۔اس دوران میرے ہاتھ کام سے غافل نہیں ہوئے تھے ۔ میری بات ختم ہوتے ہی اس کے منہ سے بے ساختہ تعریفی کلمے ادا ہوئے ۔

”شاباش ،آپ نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔اس سے زیادہ کی توقع ایک منجھے ہوئے سنائپر سے بھی نہیں کی جاسکتی ۔ “

”لیکن اب کیا کریں گے ؟“میں مستفسر ہوا ۔

”میںاپنی رائے کا اظہار کر چکاہوں ۔“

”اسے رائے کا اظہار نہیں لٹھ مارنا کہتے ہیں ۔“

وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا۔”تو سمجھ لو اب ہم لٹھ مارنے ”جو گے“ ہی رہ گئے ہیں۔“

”اچھا یہ دیکھو ۔“میں نے واکی ٹاکی نکال کر اسے دکھایا ۔

”یہ آخری مقتول سے چھینا ہے نا ؟“

میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”جی۔“

”ویسے اسے مار کر آپ نے دشمن کے لیے سہولت پیدا کر دی ہے۔“اس نے تاسف بھرے انداز میںکہا۔

”استاد جی !….میں مجبور تھا ،ورنہ اتنی سمجھ تو مجھے بھی ہے کہ ایسا کر کے میں نے دشمن کی تلاش کوایک متعین رخ مہیّا کر دیا ہے ۔“

”اب ان کی ساری توانائیاں اس جنگل کو گھیرنے میں صرف ہوں گی ۔“

”ہاں ،میں نے ان کی گفتگووائرلیس پر سنی ہے ۔وہ جنگل کو گھیرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔“

”اچھا اب اسے آن کرو،تاکہ چل سکے کے کہ ہم کب تک ان کے ہتھے چڑھنے والے ہیں۔“

”یہ بد شگونی کی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں ۔“کہتے ہوئے میں نے واکی ٹاکی آن کر دیا ، مگر دشمن کے کسی آدمی کی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔

چند لمحے تک خالی ”شائیں شائیں “سننے کے بعد استاد صادق بولا ۔

”غالباََ انھیں واکی ٹاکی کے غائب ہونے کا پتا چل گیا ہے اور انھوں نے فریکونسی تبدیل کر دی ہے۔“مگر اسی وقت واکی ٹاکی سے ابھرتی کنٹرول کی آواز نے استاد کامرا ن کے اندیشے کو جھٹلا دیا تھا ۔

وہ کال سائن نمبر فائیو اور نمبر سکس سے ان کی لوکیشن کے بارے پوچھ رہا تھا ۔پتا چلا کہ وہ دونوں گروپ جنگل کی مغربی طرف سفید نالے میں پوزیشن لے چکے تھے ۔

جنوبی سمت قریباََ آٹھ دس کلومیٹر دو رایک اور گروپ پہنچ گیا تھا جو اگلے مورچوں سے ایک ایک دو دو آدمی اکٹھے کر کے جمع کیا گیا تھا ۔اس گروپ کے ساتھ کنٹرول کا رابطہ کسی بڑے وائرلیس سیٹ پر تھا ،کیونکہ وہ لوگ واکی ٹاکی کی رینج سے دور تھے ۔ان کی بابت شمالی اور مغربی اطراف میں موجود پارٹیوں کو کنٹرول نے آگاہ کیا تھا ۔کنٹرول بار بار انھیں احتیاط سے حرکت کرنے کی تلقین کر رہا تھا کیونکہ وہ ایک سنائپر کے خلاف گھیرا تنگ کر رہے تھے ۔ایک ایسا سنائپر جو ان کے نو بندوں کو ہلاک کر چکا تھا ۔

”بس اب بند کر دو ۔“استاد صادق نے مجھے واکی ٹاکی بند کرنے کا اشارہ کیا ۔”تھوڑی دیر بعد صورت حال معلوم کریں گے ،مسلسل آن حالت میں رہنے پر بیٹری جلد ختم ہو جائے گی ۔“

”اس کی ایک اضافی بیٹری بھی ساتھ لایا ہوں ۔“میں نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا ،مگر واکی ٹاکی آف کرنا میں نہیں بھولا تھا ۔

”ہونہہ !“کہہ کر اس نے کسی بھی قسم کا تذکرہ کرنے سے گریز کیا تھا ۔

سورج کافی دیر ہوئی پہاڑوں میں غائب ہو چکاتھا ۔اب اندھیرا گہرا ہونے لگا تھا ۔

”شاید وہ رات کو جنگل میں گھسنے کی کوشش نہ کریں۔“میں نے اندازہ لگایا۔

”حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔اگر ان گھیراو مکمل ہوچکا ہے تو وہ صبح تک کارروائی کو موخّر کر سکتے ہیں ۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری رات انتظار کرنے میں ان کا نقصان ہے ۔“

میں نے پوچھا ۔”وہ کیسے ؟“

”ظاہر ہے ہماراجنگل میں چھپا ہونا ایک اندازہ ہی تو ہے اور اندازوںکا غلط ہوناحیران کن نہیں ہوتا۔“

”آپ کے پاس پانی موجود ہے یا ختم ہو گیا ہے ؟“میں نے موضوع بدلتے ہوئے پوچھا ۔

”تھوڑا سا ہو گا ،چاہیے کیا ۔“

”نہیں ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”میری واٹر بوتل بھری ہوئی ہے ۔“

”پانی کے استعمال میں احتیاط برتنی پڑے گی ،نا معلوم کب تک چھپنا پڑے ۔“

”چشمے کی جگہ مجھے معلوم ہے ،مگر فاصلہ زیادہ ہے ۔“میں نے انکشاف کیا ۔

”چشمے تو یہاں بھی موجود ہو سکتے ہیں ۔البتہ انھیں ڈھونڈنا مشکل ہو گا ۔“

”اگر نقشے میں موجود ہوئے پھر تو ان کی تلاش آسان ہو گی ۔“

”یہ عارضی اور چھوٹے چشمے ہیں ،یہ نقشے پر ظاہر نہیں کیے جاتے ۔“

”کچھ کھانے کا موڈ ہے ۔“

”ہونہہ!….“اس نے مزاحیہ انداز میں کہا ۔”کچھ، تو یوں کہہ رہے ہو جیسے دسیوں کھانے یہاں موجود ہیں ۔“

میں کھسیا کر بولا۔”سر !….کچھ نہ کچھ تو موجود ہے نا ۔“

”اچھا فی الحال گفتگو سے پر ہیز کرو ۔نائیٹ ویژن سائیٹ سے چاروں جانب کے علاقے کو یہیں بیٹھے بیٹھے دیکھ لو ۔کیا پتا دشمن پیش قدمی کر رہا ہو۔“

”نائیٹ ویژن سائیٹ کی کیا ضرورت ہے ،میرے پاس وائرلیس سیٹ جو موجود ہے۔“ میں نے واکی ٹاکی آن کر لیا ۔

چند لمحوں کی شاں شاں کے بعد ایک آواز ابھری ۔

”کنٹرول فار آل اسٹیشن!….اوکے رپورٹ دیں گے،نمبر فائیو ….“

نمبر فائیو نے الفا بٹ کی زبان میں جواب دیا ۔”آسکر کلو(اوکے )!“

”نمبرسکس ….“کنٹرول نے اگلا کال سائن پکارا۔

”نمبر سکس،آسکر کلو ۔“نمبر سکس نے جواب دیا ۔

وہ فرداََ فرداََ تمام پارٹیوں کو پکارتا گیا اور متعلقہ پارٹی لیڈر جواب دیتا گیا ۔سب اچھا کی رپورٹ لے کر اس تمام نے پارٹیوں کو اگلے حکم کے انتظارکا مژدہ سنایا۔یقینا اس نے پارٹیوں کو آگے بڑھنے یا اپنی جگہ پر رات گزرنے کا انتظار کرنے کی بابت حکم سنانا تھا۔میں بھی واکی ٹاکی بند کیے بغیر محو انتظار رہا ۔دس پندرہ منٹ کے بعد ایک مرتبہ پھر تمام پارٹیوں کو اپنی جگہ پر ٹھہرے رہ کر صبح سویرے تک پیش قدمی کی کارروائی موخّر کرنے کا حکم سنا دیا گیا ۔

میں نے واکی ٹاکی بند کرتے ہوئے کہا ۔”مطلب وہ ڈر گئے ہیں ۔“

”نہیں یار !….ایک سنائپر کو رات کے وقت اس جنگل میں ڈھونڈنا ،یقینا بھوسے کے ڈھیر میںسے سوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہے ۔انھوں نے جنگل کو تقریباََ گھیرے میں لے لیاہے ،کل دن کی روشنی میں اطمینان سے اپنا شکار ڈھونڈ لیں گے ۔“

”اگر آپ ٹھیک ہوتے تو کیا ہم یہیں بیٹھے ان کا انتظار کرتے رہتے۔“

”تو کہاں جاتے ؟“

”اس جنگل سے نکل بھاگتے ،وہ جتنی بھی کوشش کر لیں چپے چپے پر اپنے آدمی تعینات نہیں کر سکتے ۔ان کے گھیرے میں کئی شگاف ہوں گے ۔“

”ذیشان !….آتے وقت دشمن کی بے خبری میں ان رستوں سے گزرنا اتنا مشکل نہیں تھا ۔ ہم نے نقشے کو بھی بس سرسری انداز میں دیکھا تھا ۔آج دن کومیں بڑی باریکی سے علاقے کا نقشہ کھنگال چکا ہوں ۔ اس جنگل کے مشرقی طرف جو پہاڑی سلسلہ ہے ،جنگل کی جانب سے سارا سلسلہ سیدھی کھڑی چٹانوں پر مشتمل ہے جنھیں نقشے کی زبان میں اسکارپمنٹ کہتے ہیں ۔اور ایسی چڑھائیاں کوئی کوہ پیما ہی سر کر سکتا ہے ۔مغربی جانب ان کے کسی سیکٹر کا بیس ہے ،غالباََآپ جسے لالی سیکٹر بتلا رہے تھے ،اور اسی پہاڑی سلسلے پر ان کی دو اور پوسٹیں بھی موجود ہیں،سادہ الفاظ میں کہوں تو اس جانب سے اس وقت بھاگ نکلنا جب کہ پوسٹوں کے سنتری چوکنا ہوں نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہے ۔ شمال کی جانب تنگ درے کی روڈ اور سفید نالا ہے ،یہ دونوں رستے کھلی کتاب کی مانند ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ رستا دشمن کے علاقے کی طرف جاتا ہے۔کوئی بے وقوف ہی اس سمت نکلنے کی کوشش کرے گا ۔اب رہ گئی جنوب کی سمت ،تو اس جانب چپے چپے کی نگرانی کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔“

”سر!…. آپ مجھے خوف زدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔“

”نہیں ،بس صورت حال کا صحیح تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔“

”اچھا چھوڑیں سر!….پیٹ پوجا کرتے ہیں ۔“میں نے سمال پیک سے بھنے ہوئے چنے کے بِسکٹ نکال کر کھانا شروع کر دیے۔یہ غذائیت سے بھرپوربِسکٹ تھے ۔چند بِسکٹ ہی آدمی کو چوبیس گھنٹے کی توانائی مہیا کر دیتے تھے ۔یہی بِسکٹ استاد صادق کے پاس بھی موجود تھے ۔میری ترغیب پراس نے بھی بِسکٹ چبانے شروع کر دیے ۔

اس نے بِسکٹ کھا کرکہا ۔”پانی مجھے بھی پلانا ۔“

”یہ لیں پہلے آپ پی لیں ۔“میں نے اپنی جگہ سے سرک کر واٹر پائپ اس کی جانب بڑھا دیا۔

”بہت میٹھا پانی ہے اس چشمے کا ۔“سیر ہو کر پانی پینے کے بعد اس نے واٹر پائپ میری جانب بڑھا دیا ۔

”واقعی سر !….بہت عمدہ پانی ہے ۔“

”اچھا اب آرام کر لو،کیونکہ صبح ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سو سکیں گے ۔“

”ٹھیک ہے ،مگر پہلے آپ کا پاو ¿ں دیکھ لوں۔“میں استاد صادق کی طرف بڑھ گیا ۔واقعی اس کا پاو ¿ں کافی سوجاہوا تھا ۔سوجن پنڈلی تک پھیل گئی تھی ۔اس کا علاج کسی ہسپتال ہی میں ممکن تھا ۔

میںنے اپنی جگہ واپس آ کر آنکھیں بند کر لیں ۔میرے اعصاب جتنے بھی مضبوط ہوتے میرا پہلا مشن تھا ۔اور ایسے حالات سے پہلی بار میرا واسطہ پڑ رہا تھا ۔گزشتا رات کی طرح، مجھے اس رات بھی بس واجبی سی نیند آئی ۔بار بار آنکھ کھل جاتی ۔چند بار میں نے واکی ٹاکی آن کر کے دشمن کو بھی سننے کی کوشش کی۔ بس ایک مرتبہ انھیں سب اچھا دیتے ہوئے سنا اس کے علاوہ خاموشی چھائی رہی ۔

٭٭٭

صبح صادق کے وقت مجھے استاد صادق کی آواز سنائی دی ۔

”ذیشان !….سو رہے ہو۔“

”کوشش تو رات بھر رہی ہے ،مگر کوئی خاص کامیابی نہیں ہوئی ۔“

”اچھا اپنی ضروریات سے فارغ ہو جاو ¿ ،کیونکہ دن بھر موقع نہیں ملے گا ۔“

”ٹھیک ہے سر!….مگر آپ ….“

”یقینامیرے لیے نیچے اترنا ممکن نہیں ہو گا ۔“

”تو….؟“

”تو یہ کہ میرے پاس اس مقصد کے لیے شاپر موجود ہے ۔بس آپ کو تھوڑی زحمت کرنا پڑے گی ۔“ 

”بڑی خوشی سے ۔“کہہ کر میں نیچے اتر گیا ۔نیچے اترنے سے پہلے میں نے اپنا سمال پیک اور رائفل وہیں مچان پر چھوڑ دی تھی۔تھوڑی دور جا کر میں نے فطری تقاضا پورا کیا اور فضلہ جات کو بڑی احتیاط سے زمین میں دبا دیا کیونکہ اس سے دشمن کو ہماری موجودی کایقین ہوجاتا اور یہ یقین ان کی کوششوں کو تقویت دینے کے ساتھ انھیں مزید چوکنا اور محتاط کر دیتا ۔واپس جا کر میں نے استاد صادق کے شاپر میںبند فضلہ جات کو بھی ٹھکانے لگایا اور پھر درخت پر چڑھ کرخود کو مچان میں چھپانے لگا۔

”چھپنے سے پہلے مجھے تھوڑا پانی دے دینا ۔بعد میں یقینا ہمیں حرکت کرنے کا موقع نہیں ملے گا ۔ “

”جی سر !….“کہہ کر میں نے سمال پیک سے واٹر بوتل نکالی اوراستاد صادق سے واٹر بوتل لے کر آدھا پانی اس میں منتقل کر دیا ۔

خود کو کیمو فلاج کرکے میں نے واکی ٹاکی آن کر لیا ۔پارٹیوں کو پیش قدمی کرنے کا حکم دیاجا رہا تھا ۔”آگے بڑھیں….لیکن احتیاط سے ،فائر کرنے سے پہلے یہ بات مد نظر رہے کہ چاروں طرف آپ کے اپنے ساتھی موجود ہیں ۔کوشش یہی کرنا کہ دشمن زندہ ہاتھ لگے ۔“

میں ان کی باتیں سننے لگا۔مگر استاد صادق نے زیادہ دیر مجھے واکی ٹاکی آن نہ رکھنے دیا ۔

”ذیشان !….بس وائرلیس سیٹ آف کر دو ،اس کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے ۔“

”جی سر !“کہہ کر میں نے واکی ٹاکی آف کر دیا ۔ڈیڑھ دو گھنٹے کے بعد دشمن کے چند سپاہی ہمارے قریب سے گزرتے چلے گئے۔ وہ آہستہ قدموں سے دائیں بائیں کا جائزہ لیتے ہوئے وہاں سے گزرے تھے ۔گاہے گاہے وہ درختوں کے اوپر بھی نظر ڈال لیتے تھے ۔مجھے ان کے انداز میں خوف کی جھلک نظر آئی ،بلاشبہ وہ اندھی گولی کا شکار ہونے سے خوف زدہ تھے ۔شام تک وہ وہیں گھوتے رہے۔ مختلف اطراف سے فائرنگ کی آواز بھی سنائی دیتی رہی ۔رات کو بھی پارٹیوں نے جنگل میں ڈیرا ڈالا،مگر ہماری مچان کے قریب کوئی پارٹی نہیں ٹھہری تھی ۔اندھیرا گہرا ہوتے ہی میں نے پہلے تو شبِ دید عینک لگا کر چاروں جانب کسی دشمن کے نہ ہونے کا یقین کیا ۔اور پھر واکی ٹاکی کی آواز کم کر کے آن کر لیا ۔

ان کی باتوں سے پتا چلا کہ ہر پارٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔ایک گروپ کا کام جنگل میں گھس کر تلاشی لینا اور دوسرے گروپ کا کام جنگل کا گھیراو ¿ کرنا تھا ۔اس لیے گھیرا ڈالنے والی پارٹیاں کل سے اپنی اپنی جگہ موجود تھیں اور تلاشی کے لیے مختلف پارٹیاں تین اطراف سے جنگل میں داخل ہو چکی تھیں، بلکہ اندھیرا چھا جانے کے بعد بھی جنگل ہی میں تھیں ۔البتہ اندھیرا چھا جانے کی وجہ سے پارٹیوں کو اپنی اپنی جگہ پڑاو ڈالنے کا حکم دے دیا گیا تھا ۔

”میرے پاس پانی ختم ہو گیا ہے ۔“میں نے گفتگو کی ابتدا ہی مایوسی بھری خبر سے کی ۔

استاد صادق نے مسکرا کر کہا ۔”یہی خبر میرے پاس بھی ہے ۔“

”مطلب ،اپنی آزمائش شروع ہو گئی ہے ۔“

وہ اطمینان سے بولا۔”سنائپر کی ساری زندگی ہی آزمائشوں میں گھری ہوتی ہے ۔“

”ویسے پانی کے بغیر انسان کتنے عرصے تک زندہ رہ سکتا ہے ؟“

”کچھ کہا نہیں جا سکتا ہے ۔اس کا انحصار تو انسان کی جسمانی حالت، ارادے ،اللہ پاک کی ذات پر اعتماد اور واپس لوٹنے کی امید پر ہوتا ہے ۔ویسے سنایہی ہے کہ پانی کے بغیر لوگ مہینا بھر بھی زندہ رہے ہیں۔“یہ کہہ کر وہ ایک لمحے کے لیے رکا اور پھر مسکراتا ہوا بولا۔”بہ ہرحال یہاں ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔درختوں کے سبز پتے پانی اور خوراک دونوں کی کمی کوپورا کرنے کی خاصیت رکھتے ہیں ۔“

میں دبی آواز میں ہنستے ہوئے کہا ۔”ویسے سر !….آپ پہلے بھی مختلف مشن پر سرحد پار آ چکے ہیں ،کیا کبھی ایسی صورت حال سے واسطہ پڑا؟“

وہ گہری سوچ میں ڈوبتا ہوا بولا۔”میںپہلے مشن میں کامیابی کے قریب پہنچ گیا تھا ،مگرمجھے اپنے استاد نے دھوکا دے دیا ۔“

میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”استا دنے دھوکا دے دیا ؟“

”ہاں ذیشان !….استاد ہاشم میرے ساتھ سینئر تھا ۔ہم دونوں ایک ہی جھاڑی میں چھپے ہدف کی آمد کے منتظر تھے ۔ہدف کے نظر آتے ہی استاد کے حکم پر میں نے گولی چلائی جو ہدف کے ماتھے پر لگی تھی ۔ دشمن کی تعداد کافی زیادہ تھی ۔اور ہماری بدقسمتی کہ دشمن کو ہماری جگہ کے بارے اندازہ ہو گیا تھا ۔ استاد ہاشم نے مجھے وہاں سے فرار ہونے کا کہااور میری سنائپر رائفل مجھ سے یہ کہہ کرلے لی،کہ اس کی رائفل فائر کے قابل نہیں رہی تھی ۔اپنی رائفل اس نے مجھے پکڑا دی تھی۔

”استاد جی !….آپ بھی چلیں نا ۔“میرے لہجے میں ناتجربہ کاری بول رہی تھی ۔ورنہ وہاں سے دونوں آدمیوں کا ایک ساتھ بھاگنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا ۔پر یہ بات استاد ہاشم کو اچھی طرح معلوم تھی ۔اس نے کہا ۔

”آپ سیدھے وہاں پہنچیںجہاں ہم نے گزشتا شب گزاری تھی ۔وہاں سے پہلے رکنے کی کوشش نہ کرنا ۔اور میری فکر بھی نہ کرنا میں مرنے والا نہیں ۔مجھے ایک دوسرا رستا معلوم ہے ۔“

مجھے متذبذب دیکھ کر اس نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”وعدہ کرتا ہوں زندہ رہوں گا ۔اور یہ بھی اپنے پاس رکھو میں آ کر لے لوں گا ۔کم از کم یہ وزن توآپ ساتھ لے جائیں،تاکہ مجھے بھاگنے میں آسانی رہے ۔“اس نے اپنا پستول مع فالتو میگزین کے اور اپنی واٹر بوتل بھی میرے حوالے کر دی ۔

” استاد جی !….“میں نے تکرار کرنا چاہی مگراس نے قطع کلامی کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک لپٹا ہوا کاغذ نکال کرمیری جانب بڑھاتے ہوئے کہا۔” اگر مجھے تھوڑی دیر ہو جائے تو اس رستے پر چل پڑنا یہ بالکل آسان اور محفوظ رستا ہے ۔اب بھاگوورنہ میں صحیح طور پر دشمن کو نہیں روک پاو ¿ں گا۔“اس کی تنبیہ سے پہلے دشمن کی جانب سے فائر کے دو تین برسٹ آئے اور میں پیچھے کوکھسک گیا ۔ اسی وقت ہلکی سی ”ٹھک “ میری سماعتوں سے ٹکرائی اور مجھے پتا چل گیا کہ دشمن اپنے ایک آدمی سے محروم ہو گیا ہے۔

گھنی جھاڑیوں کا سلسلہ اتنا طویل نہیں تھا ،مگران جھاڑیوں کی آڑ لے کرفرار ہوا جا سکتا تھا ۔ جھاڑیوں کے اختتام پر ڈھلان تھی وہاں پہنچ کر بندہ یوں بھی نظروں سے اوجھل ہو جاتا تھا۔لیکن یہ سب اس وقت ممکن تھا جب دشمن کو ہماری جگہ کے بارے میں پتا نہ ہو تا۔اب تو دشمن اس جانب متوجہ ہو گیا تھا۔ اور یقینا ہمارا تعاقب کر کے وہ آسانی سے ہمیں رستے ہی میں دھر لیتے۔البتہ اگر ایک آدمی ان کے ساتھ فائر کا تبادلہ کرتا رہتا تو دوسرا آسانی کے ساتھ فرار ہو سکتا تھا ۔یہی سوچ کر استاد ہاشم نے مجھے بھگا دیا تھا ۔ 

رستے میں یہ سوچ میرے دماغ میں سرگرداں رہی کہ استاد ہاشم وہاں سے کیسے بھاگے گا، کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولا کرتا تھا اور اس نے بڑے اعتماد سے کہا تھا کہ اسے ایک دوسرا رستا معلوم ہے ۔ اور مجھ سے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ زندہ رہے گا ۔

جھاڑیوں کا علاقہ میں نے جھک کر دوڑتے ہوئے طے کیا تھا مگر ڈھلان سے اترتے ہی میں سیدھا کھڑا ہو کر بھاگ پڑا۔اس نشیب میں میں اندھا دھند ہونے والے فائر سے محفوظ تھا ۔گزشتا رات کی پناہ گاہ تک میں بغیر رکے بھاگتا چلا گیا ۔وہ جگہ کارروائی کے علاقے سے قریباََ تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھی ۔تمام رستے میرے کانوں میں مسلسل فائرنگ کی آواز گونجتی رہی تھی اس کا مطلب یہی تھا کہ استاد ہاشم مقابلے پر ڈٹا ہوا ہے ،مگرجب میں اپنی پناہ گاہ سے فرلانگ بھر کے فاصلے پر پہنچا تو ایک دم فائرنگ کا سلسلہ موقوف ہو گیا ۔میں جھاڑیوں میں چھپی چھوٹی سے کھوہ میں گھس کر استاد ہاشم کا انتظار کرنے لگا ۔ نامعلوم کیوں میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔میری پریشان سوچوں میں مختلف خیالات سرگرداں تھے ۔”استاد ہاشم وہاں سے کیسے فرار ہو گا،دشمن کو کیسے چکما دے گا، کہیں دشمن اس کا تعاقب کرتے ہوئے اس ٹھکانے تک تو نہیں پہنچ جائے گا ؟اور کیا مجھے وہیں بیٹھ کر اس کا انتظار کرنا چاہیے یا چھپنے کے لیے جگہ تبدیل کر لینی چاہیے ۔“

اچانک میرے ذہن میں خیال آیا کہ کہیں ایسانہ ہو استاد ہاشم کو فرار کا جو رستا معلوم ہے وہ کسی اور سمت کو جاتا ہو ۔اور اسی لیے تو استاد نے مجھے رستے کا نقشہ دیا تھا ۔میں نے جیب سے استاد کا دیا ہوا کاغذ نکال کر کھولااور میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔اس کاغذ میں سنائپر رائفل کی فائرنگ پن لپٹی ہوئی تھی ۔استاد ہاشم نے سچ کہا تھا کہ اس کی رائفل فائر کے قابل نہیں ہے ۔یہ علاحدہ بات کہ وہ خرابی اس کے اپنے ہاتھوں کی پیدا کی ہوئی تھی ۔رائفل کی فائرنگ پن کاغذ میں بند کر کے اس نے مجھے واضح اشارہ دیا تھا کہ مجھے اس کی غلط بیانی کے بارے معلوم ہو جائے اورمیں یقین کر لوں کہ وہ اپنے ملک پر قربان ہو گیا ہے ۔ لیکن اس طرح کہ اپنے زیرِ کمان کی جان کو بچا گیا تھا۔اس وقت مجھ پر خود بہ خود اس کی آخری گفتگو کی گتھیاں کھلتی چلی گئیں ۔

اس نے اپنی رائفل یہ کہہ میرے حوالے کی تھی کہ رائفل خراب ہے لیکن اس کے ساتھ اس خرابی کا علاج بھی میرے حوالے کر دیا تھا۔اور یہ تو آپ جانتے ہوں گے کہ ہر سنائپرریٹائرہوتے وقت اپنی رائفل اپنے جانشین کے حوالے کرتا ہے۔اس نے بھی یہی کیا مگر مجھے شک بھی نہیں ہونے دیا ۔پھر اس نے کہا تھا کہ”مجھے دوسرا رستا معلوم ہے ۔“اور وہ دوسرا رستا ایک ایسی سمت کو جاتا تھا جہاں سے لوٹنا ممکن نہیں ۔اور پھر اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مرے گا نہیں ۔اور یقینا شہید مرا نہیں کرتے۔ہاں ذیشان وہ آج بھی زندہ ہے ۔مجھے اپنے ارد گرد محسوس ہوتا ہے ۔اس کی شہادت کے بعد دشمن کو خود بہ خود یقین آ گیا تھا کہ وہ بدلا لے چکے ہیں ،مگر یہاں بھی استاد چال چل گیا تھا ۔اس نے میرے ہاتھ سے دشمن کا خاتمہ کرایا تھا اور میں محفوظ تھا ۔یہاں بھی دشمن کو شکست ہوئی تھی ۔مجھے شدت سے رونا آیا اور میں اس دھوکے باز کو یاد کر کے رو پڑا ۔وہ مجھ سے اچھا نشانے باز تھا ۔اس کا تجربہ بہت زیادہ تھا ۔جانے کیوں اس نے ایک بہترین نشانے باز کو ایک نئے اور نا تجربہ کار سنائپر کے لیے قربان کر دیا تھا ۔ یقینا میں اسے اکیلا چھوڑ کر کبھی نہ جاتااگر وہ مجھے دھوکے میں نہ رکھتا۔اس نے کوئی جھوٹ نہیں بولا مگر مجھے دھوکا ضرور دیا تھا ۔آج تک اس دھوکے باز کو نہیں بھلا سکا ہوں یار!“استاد صادق کی آواز میں شامل دکھ میری آنکھیں بھی بھگو گیا تھا ۔ میں بس خاموش بیٹھااس کے محترم استاد کے متعلق سوچتا رہا ۔

کچھ باتیں ایسی تھیں کہ استاد صادق نے مجھے نہیں بتائی تھیں مگر مجھے خود بہ خود ان کا اندازہ ہو گیا تھا ۔استاد ہاشم نے اپنی واٹر بوتل اور پستول یہ کہہ کر استاد صادق کے حوالے کیے تھے ۔کہ یہ وزنی ہیں۔ مگر اصل وجہ اور تھی ۔وہ اپنے حصے کا پانی اپنے شاگرد کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔اسی طرح پستول اور اس کے اضافی راو ¿نڈ بھی رستے میںاستاد صادق کے کام آ سکتے تھے ۔رات کو سوتے ہوئے بھی میری سوچ میں استاد ہاشم اپنے ان دیکھے خد و خال کے ساتھ سرگرداں رہا ۔

٭٭٭

صبح صادق کو اٹھ کر ہم نے اپنی فطری ضروریات کو پورا کیا ۔آج میں ان درختوں سے زیادہ دور نہیں گیا تھا ۔ملگجا اجالا ہونے سے پہلے ہم کیمو فلاج ہو کر بیٹھ گئے تھے ۔پوری رات ہم نے پانی پیے بغیر گزاری تھی صبح دم اچھی خاصی پیاس محسوس ہو رہی تھی ۔پہلی روشنی کے ساتھ دشمن کی چہل پہل شروع ہو گئی تھی۔میں نے دوپہر کے وقت خوب احتیاط سے اطراف کا جائزہ لے کر واکی ٹاکی سیٹ آن کیا مگر اس کی بیٹر ی ڈاو ¿ن ہو گئی تھی ۔میں نے اضافی بیٹری لگا کر واکی ٹاکی آن کیااور دشمن کی آواز سننے کی کوشش کرنے لگا ۔واکی ٹاکی کی آواز کومدہم کر کے میں نے کان سے لگا لیا تھا۔

چند لمحوں بعد ان کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔زیادہ تر پارٹیاں کھڑی چٹانوں کے سلسلے کے نیچے موجود گھنی جھاڑیوں میں مجھے تلاش کر رہے تھے ۔(میں نے مجھے اس لیے استعمال کیا کہ ان کی نظر میں یہ کارروائی کرنے والا میں اکیلا تھا۔اور اگر بہ نظر انصاف دیکھا جاتا تو ان کا مجرم میں ہی تھا)

تھوڑی دیر ان کی باتیں سننے کے بعد میں نے واکی ٹاکی آف کر دیا ۔

استاد صادق نے پوچھا۔”کیا کہہ رہے ہیں ؟“

”میری تلاش جاری ہے ۔“

استاد صادق نے اپنی رائے دی ۔”شاید ہفتہ بھر جاری رہے ۔“

میں ہنسا۔”مطلب ،ہفتہ بھر سبز پتوں پر گزارا کرنا پڑے گا۔“

”اگر کوشش کرو تو پانی لا سکتے ہو ۔“

”کیسے ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔

”چشمے کی جگہ آپ کو معلوم ہے ،اور ایک سنائپر کس طرح چھپ کر حرکت کرتا ہے یہ جاننے کی ضرورت شایدآپ کو نہ ہو۔“

”مگر آپ کو اکیلا چھوڑ کر میں کیسے جا سکتا ہوں ؟“

”اگر آپ زخمی ہوتے تو یقینا میں چلا جاتا مگر اب یہ خطرہ آپ ہی کومول لینا پڑے گا ۔“

میں خفّت بھرے لہجے میں بولا ۔”سر !آپ بات کو کوئی اوررخ دے رہے ہیں ۔میرا مطلب یہ نہیں تھا ۔“

”نہیں ذیشان!….پانی لانے میں واقعی بہت زیادہ خطرہ ہے مگر اس کے بغیر چارہ بھی تو کوئی نہیں ۔“

”مجھے کس وقت نکلنا چاہیے ؟“میں استاد صادق کے دل میں کوئی غلط فہمی پلتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔

”دشمن رات کے وقت زیادہ چوکنا ہوتا ہے ۔اور گھیرا ڈالنے والی پارٹیوں کے پاس لازماََ تھرمل نائیٹ سائیٹ ہو گی اور یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ اس میں حرارت خارج کرنے والی اشیا ءبہت جلد نظر آ جاتی ہیںاور ہر جاندار شیے حرارت خارج کرتی ہے ۔“ (قارئین کی معلومات کے لیے لکھتا چلوں کہ نائیٹ ویژن سائیٹ کی اب تک تین اقسام آچکی ہیں ۔پہلی قسم انفرا ریڈ کے اصول پر کام کرتی تھی۔اس کا دکھاو ¿ بہت محدود تھا ۔آج کل اس کا استعمال متروک ہو چکا ہے ۔دوسری قسم اس سے بہتر ہے اور روشنی کے اصول پر کام کرتی ہے ۔ یعنی چاندستاروں کی روشنی کو بڑھا کر دکھاتی ہے ۔اور تیسری جو سب سے بہتر ہے ”تھرمل امیجنگ “وہ حرارت کے اصول پر کام کرتی ہے ۔)

”یعنی مجھے ابھی روانہ ہو جانا چاہیے ۔“میں نے کلائی پر بندھی گھڑی پر سے کپڑا ہٹا کر وقت دیکھا ۔دن کے ڈیڑھ بج رہے تھے۔

”بالکل !….گھیرا ڈالنے والی پارٹیاں دن کو اتنی چوکنی نہیں ہوں گی ۔اورمجھے امیدہے شمال کی جانب سے آپ باآسانی سے نکل سکتے ہیں ۔ان کا زیادہ دھیان مشرقی اور جنوبی سمت میں ہو گا ۔“

”لیکن تلاشی لینے والی پارٹیاں تو چوکنا ہوں گی نا ؟“میں نے ایک اہم نقطے کی جانب اس کی توجہ مبذول کرائی ۔

”تو پھر ؟“وہ مستفسر ہوا ۔

”پھر ایسا ہے کہ صبح صادق کے وقت نکلنا بہتر رہے گا ، اس وقت پہرے دار عموماََ سستی اور کاہلی کا شکار ہو جاتے ہیں۔“

”گڈ ۔“اس نے تحسین آمیز لہجے میں کہا۔

”یعنی آپ مجھ سے متفق ہیں ۔“

”سو فی صد۔“

میں نے حیرانی سے پوچھا ۔”تو ابھی جانے کے حق میں کیوں دلائل دے رہے تھے۔“

”بس آپ کو جانچنا تھا ۔“

”شکر ہے کہ میں آپ کے معیار پر پورا اتر ا۔“

”استاد کا کام ہر پل شاگردکو جانچتے رہنا ہوتا ہے ۔“

میں ہنسا ۔”ویسے دورانِ ٹریننگ بھی آپ نے ہمیں کافی خوار کیا تھا ۔“

”ہماری وہی سختی آج آپ کوان حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ دیے ہوئے ہے ۔“

میں نے کہا۔”صحیح کہا سر !“مگر استاد صادق نے جواب دینا ضروری نہیں سمجھا تھا۔منصوبہ طے ہو گیا تھا ۔بس عمل کرنا باقی تھا ۔

پیاس کی وجہ سے کچھ کھانے کو بھی جی نہیں چاہ رہا تھا ۔شام کے وقت میں نے ایک بار پھر دشمن کی باتیں سنیں ،انھیں اکٹھا ہونے کا حکم دیا جا رہا تھا ۔

میںرات کو کوشش کے باوجود بہت تھوڑی نیند لے سکا تھا ۔پیاس کی زیادتی اور پھر آنے والے جاں گسل لمحات کے خیال نے مجھے بے چین رکھا تھا ۔سواتین بجے کے قریب مجھے استا دصادق نے آواز دی۔

”ذیشان۔“

”میں تیار ہوں سر !“میں چابک دستی سے بولا۔اور درخت سے نیچے اتر گیا ۔اس سے پہلے میں اطراف کا جائزہ لینا نہیں بھولا تھا ۔گو ہم نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا، کیونکہ پانی کی غیر موجودی میں خشک بِسکٹ کھانا پیاس کو بڑھانے کا موجب ہی بنتا۔ اوردرختوں کے پتے اس لیے نہیں چبائے تھے کہ ابھی تک ہماری پیاس برداشت سے باہر نہیں ہوئی تھی ۔ پھر بھی تھوڑی بہت حاجت محسوس ہو رہی تھی۔“

فریش ہونے کے بعد میں جانے کے لیے تیار تھا ۔استاد صادق نے میری جانب میرا سمال پیک بڑھاتے ہوئے کہا۔

”میں نے اپنی واٹر بوتل بھی تمھارے پیک میں ڈال دی ہے تاکہ زیادہ پانی لا سکو ۔“

”ٹھیک ہے سر ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔

”طلوع آفتاب سے پہلے پہلے گھیرے سے نکل جانا،ورنہ پھنسنے کا خطرہ بڑھ جائے گا ۔“ استاد صادق نے مجھے آخری نصیحت کی ۔

اور میں نے ”فی امان اللہ سر !“کہہ کر اپنی رائفل کندھے سے لٹکالی ۔گلاک نائنٹین پسٹل میں نے ہاتھ میں تھام لیا تھا ۔کیونکہ سنائپر رائفل کو اسالٹ رائفل کے طور پر استعمال کرنا بے وقوفی ہے ۔ حرکت کرتے ہوئے اچھی ساخت کا پستول سنائپر رائفل سے کئی گنا زیادہ کارکردگی دکھا سکتا ہے ۔

آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر میں نے قطبی ستارے کو ڈھونڈااور پھر بازو لمبا کر کے قطبی ستارے سے ڈگری لینے لگا ۔میں نے قطبی ستارے سے بارہ ڈگری دائیں سفر کرنا تھا ۔ایک سنائپر کے لیے کمپاس کے ساتھ ستاروں کے استعمال سے واقفیت بھی نہایت ضروری ہے ۔(کچھ قارئین کے لیے کمپاس کا استعمال اور ڈگریوں وغیرہ کا کھٹ راگ یقینا ایک نئی چیز ہو گا ۔اگر ڈگریوں کی بابت بتانے کے لیے عام فہم انداز میں بات کی جائے تو ایک دائرے کو تین سو ساٹھ ڈگریوں میں تقسیم کیا جاتاہے ۔اگر ایک آدمی قطبی ستارے کی طرف منہ کر کے کھڑا ہوجائے تو اس کا رخ صفر یا تین سو ساٹھ ڈگری کی طرف ہوگا۔مشرق نوّے ڈگری ،جنوب ایک سو اسی ڈگری اور مغرب کی سمت دو سو ستّر ڈگری پر واقع ہے ۔ہر سمت کے درمیان نوے ڈگری کا فرق ہے ۔ کمپاس پر یہ تمام ڈگریاں درج ہوتی ہیں اور کسی بھی ڈگری پر سفر کرنے کے لیے بس کمپاس کی سوئی کو مطلوبہ ڈگری کی طرف کر کے چل پڑنا ہوتا ہے ۔جبکہ ستاروں کی مدد سے سفر کرنے کے لیے ستاروں کے طلوع و غروب ہونے کا علم اور آسمان پر مطلوبہ ستارے کی جگہ کا پتا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ۔تمام ستاروں میں فقط قطبی ستارا ایسا ہے جو اپنی جگہ نہیں بدلتا اور ہر وقت قطب شمالی کے اوپر چمکتا رہتا ہے ۔باقی ستارے مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں غروب ہوتے ہیں البتہ ہر ستارے کا رستا الگ الگ ہوتا ہے ، کوئی جنوب مشرق سے طلوع ہوتا ہے تو کوئی شمال مشرق سے اور کوئی عین مشرق کی سمت سے )

میں نے چونکہ شمال کی جانب سفر کرنا تھا اس لیے مجھے اتنی تگ و دو نہیں کرنی پڑی تھی ۔بس قطبی ستارے کو دیکھا ہاتھ کی مدد سے بارہ ڈگری کے فاصلے کا اندازہ کیا اور چل پڑا ۔قطبی ستارے کے علاوہ کسی دوسرے ستارے کو سمت برقرار رکھنے کے لیے زیادہ دیر نہیں چنا جا سکتا کیونکہ ستاروں کا اپنا سفر جاری رہتا ہے اس لیے ہر آدھے گھنٹے بعد پہلے والے ستارے کو چھوڑ کر دوسرا چننا پڑتا ہے ۔

میں گاہے گاہے شبِ دید عینک میں بھی جھانک کر دائیںبائیں کے علاقے کو دیکھ لیتا تھا ۔ چلتے وقت حتی الوسع میری کوشش یہی تھی کہ میرے پاو ¿ں کی آواز پیدا نہ ہو ۔گو اس طرح میری رفتار کافی سست ہو گئی تھی ،مگر کبھی نہ پہنچنے سے، دیر سے پہنچنا بہت بہتر تھا۔

رستے میں مجھے دشمن کی کوئی پارٹی نظر نہ آئی ۔یقینا زیادہ تر پارٹیاں مشرقی سمت میں کھڑی چٹانوں کے سلسلے کے نزدیک، گھنے جنگل میں موجود تھیں۔درختوں کا سلسلہ ختم ہونے کے قریب ہوا تو میری رفتار مزید سست ہو گئی اور میں قریباََ رینگ رینگ کر آگے بڑھنے لگا ۔اندھیرے کو ختم کرنے کے لیے روشنی اپنے رخ سے آہستہ آہستہ نقاب سرکا رہی تھی ۔جھاڑیوں کی آخری لائن کے قریب میں لیٹ گیا ۔ میرے سامنے وہی خشک نالا تھا جسے دشمن سفید نالے کے نام سے پکارتا تھا ۔اسی نالے کی دوسری جانب میں نے دشمن کے سریش نامی آدمی کو ہلاک کیا تھا ۔ملگجے اندھیرے میں مجھے دور سے دو ہیولے اپنی طرف بڑھتے نظر آئے ۔ان کے انداز سے ظاہر تھا کہ وہ دونوں سنتری ہیں ۔میں وہیں دبک کر لیٹا رہا یہاں تک کہ وہ میرے قریب سے گزرتے چلے گئے ۔دونوں دھیمے لہجے میں باتیں کر رہے تھے ۔موضوعِ سخن گھریلو مسائل اور تنخواہ کی کمی تھی ۔ان کے چند قدم آ گے جاتے ہی میں کرالنگ کرتا ہوا خشک نالے سے گزرنے لگا ۔گو یہ رسک تھا ،مجھے مکمل طور پر ان کی روٹین سے واقف ہوئے بغیر ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ، مگر وقت کی کمی نے مجھے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا تھا ۔یوں بھی ان دونوں سنتریوں کا بے پرواہانہ انداز اس بات کا مظہر تھا کہ انھیں میرے اس سمت آنے کی کوئی امید نہیں تھی ۔ان کے پیچھے مڑنے سے پہلے میں نے نالا عبور کر لیا تھا ۔ایک جھاڑی کی آڑ لے کر میں نے نالے میں نگاہ دوڑائی ۔پہلے نظر آنے والے پہرے دار تو ابھی تک نہیں پلٹے تھے البتہ وہ جس سمت سے آئے تھے اس طرف سے دو اور پہرے دار ٹہلتے ہوئے آگے آرہے تھے ۔میں نے اس جھاڑی کی آڑ میں پیچھے کھسکنا شروع کر دیا ۔اچانک میری سماعتوں سے کسی کے قدموں کی آواز ٹکرائی ۔ وہیں دبک کر میں نے آواز کی طرف نگاہ دوڑائی ۔وہ میرے چھپنے کی جگہ سے دو جھاڑیاں پہلے بیٹھ گیا ۔یقینا وہاں ٹوایلٹ کی سہولت موجود نہیں تھی اس لیے صبح دم جس کا جدھر منہ ہوتا وہ چل پڑتا تھا ۔

اس کے فارغ ہونے تک میں وہیں دبکا رہا ۔اس کے واپس پلٹتے ہی میں رینگتا ہوا آگے بڑھ گیا ۔روشنی کی جارحیت بڑھتی جا رہی تھی ۔میں جھاڑیوں کی آڑ لیتا وہاں سے دو ر ہوتا گیا ۔طلوع ِ آفتاب تک میں اس نالے سے چار پانچ سو میٹر دور آ گیا تھا ۔گو اس علاقے میں خطرہ کم تھا مگر میں نے احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ۔ایک مرحلہ تو ،بہ خیر و عافیت گزر گیا تھا ۔اب پانی بھر کر واپسی کا مرحلہ باقی تھا ۔ واپسی کے لیے مجھے لازماََ رات کا انتظار کرنا پڑتا ۔مجھے استاد صادق کا خیال آیا میں نے سوچا ۔

”استاد صادق کو آج کا دن بھی پیاسا گزارنا پڑے گا ۔“

اب میں جھکے جھکے انداز میں چل رہا تھا ۔نالے سے چشمے کا فاصلہ قریباََ تین کلو میٹر تھا ۔میں آدھے کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکا تھا اور اب گویا اڑھائی کلومیٹر کا فاصلہ باقی تھا۔لیکن یہ تمام رستا مسلسل چڑھائی پر مشتمل تھا ۔اس لیے قدرتی طور پر میری رفتار سست رہی ۔میں مزید سو میٹر آگے گیا ہوں گا کہ اچانک میرے کانوں میں تیز فائرنگ کی آواز گونجی ۔میں چونک کر پلٹا اور ایک ابھری ہوئی چٹان کی آڑمیں پیچھے کی جانب نظریں دوڑانے لگا ۔

”شاید میں دیکھ لیا گیاہوں ۔“میرے ذہن میں سب سے پہلے یہی سوچ ابھری مگر پھر میں نے نفی میں سر ہلا کر اس سوچ کو دور جھٹکا۔اگر میں نظر آ گیا ہوتا تو گولیوں کا رخ میری جانب ہونا چاہیے تھا۔میں نے دوربین آنکھوں سے لگا کر منظر کو مزید قریب کیا ۔اور یہ دیکھ کر میرا خون خشک ہونے لگا کہ گھیرے میں موجود تمام آدمی اپنے اپنے ہتھیار سونتے جنگل کے اندر کی طرف بھاگے جا رہے تھے ۔ اچانک مجھے واکی ٹاکی کا خیال آیا اور میں نے جلدی سے آن کر لیا ۔کوئی شخص چیخ چیخ کر اپنے ہلاک ہونے والے دو آدمیوں کی رپورٹ دے رہا تھا ۔جنھیں کسی سنائپر کی گولی نے لقماے اجل بنایا تھا ۔

انھیں محتاط رہنے کا مشورہ دے کر کنٹرول تمام پارٹیوں کو اسی سمت اکٹھا ہونے کا حکم دے رہا تھا۔

”استاد صادق !میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دوں گا ۔“میں نے خود کلامی کرتے ہوئے اپنی رائفل کندھے سے اتار کر ہاتھ میں تھامی اور ٹیلی سکوپ سائیٹ کے کور اتار کر شست لینے لگا ۔دشمن کی نالے کے اطراف میں موجود سپاہ میری رینج میں تھی ۔ایک بندے کے سر کا نشانہ لے کر میں نے بغیر کسی جھجک کے ٹریگر پریس کر دیا ۔ ”ٹرنچ“ کی آواز نے مجھے بوکھلا دیا تھا ۔میں نے جلدی سے رائفل کاک کی لیکن میگزین خالی تھی اور اس کے ساتھ ہی مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ میری رائفل نہیں ہے ۔

میں نے جلدی سے سمال پیک پیٹھ سے اتارا اور اس میں موجود فالتو راو ¿نڈ نکالنے کے اپنا ہاتھ داخل کیا ۔مگر میرا ہاتھ نامراد باہر آیا ۔استاد صادق نے سٹائیرسنائپر رائفل کی تمام گولیاں نکال لی تھیں ۔ اور ان کی جگہ اپنا پسٹل اس نے میرے جھولے میں رکھ چھوڑا تھا ۔اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مجھے پانی لینے بھیجا تھا ۔ورنہ کوئی سنائپر پانی کے لیے اتنا بڑا خطرہ مول لیا نہیں کرتا ۔وہاں سبزے کی بہتات تھی ہم آسانی سے وہ سبزہ کھا کر پانی اور کھانے کی ضرورت سے بے فکر ہو سکتے تھے ۔لیکن وہ جانتا تھا کہ ہم زیادہ دیر اس درخت پر چھپے نہیں رہ سکتے تھے ۔اور پھر اپنے زخمی پاوں کے ساتھ اس کا سفر کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن تھا ۔یہی سوچ کر اس نے مجھے تحفظ دینے کا سوچا اور اس پر عمل کر گزرا ۔

اچانک فائرنگ کی آواز میں شدت آگئی دشمن کو ہدف مل گیا تھا ۔درخت کی ٹہنیاں صرف نظری آڑ مہیا کر سکتی ہیں ۔گولی روکنے کی اہلیت نہیں رکھتیں ۔وائرلیس سیٹ پر کوئی چیختے ہوئے اپنی کامیابی کی رپورٹ پیش کر رہا تھا۔اور میرے دماغ میں استاد صادق کی گفتگو گونج رہی تھی ۔ 

” یہ تو تم جانتے ہو کہ ہر سنائپرریٹائرہوتے وقت اپنی رائفل اپنے جانشین کے حوالے کیا کرتا ہے۔“

اس نے صبح میرے درخت سے اترتے ہی میری رائفل کی جگہ اپنی رائفل رکھ دی تھی اور میرے سمال پیک سے سٹائیر سنائپر کے تمام راونڈ بھی نکال لیے تھے تاکہ میں جوش میں آکر دشمن پر فائر کرنا نہ شروع کر دوں ۔البتہ اپنے استاد ہاشم کی طرح اپنا پستول ،اپنے جانشین کے حوالے کرنا اسے نہیں بھولا تھا۔

”دھوکے باز استاد کا دھوکے باز شاگرد ۔“میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑایااور میری آنکھیں بھیگتی چلی گئیں ۔

جاری ہے