ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر

سنائپر

قسط نمبر8

ریاض عاقب کوہلر

 

اسی وقت سردار کمرے میں داخل ہوا ۔

”ذیشان بھائی آج……..“وہ مجھے کچھ بتانے لگا تھا مگر جینیفر کو دیکھتے ہی بات بدلتے ہوئے بولا ۔

”ہیلو کیپٹن !….ہاو ¿ آر یو ؟“

وہ مسکرائی ۔”فائن مسٹر سیردر !….“اس نے مصافحے کے لیے سردار کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔

اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے سردار نے کہا ۔”نائیس تو میٹ یو ؟“وہ مکمل انگریزی جھاڑنے کے چکر میں تھا ۔

”ہاو ¿ سوئیٹ ،تم نے تو انگلش میں بھی مہارت حاصل کر لی ۔“جیینیفر نے کھلے دل سے اس کی انگریزی کو سراہا۔

”شکریہ کیپٹن !….یہ بس لی زونا کی مہربانی ہے ۔“سردار نے سارا کریڈٹ لی زونا کے کھاتے میں ڈال دیا ۔

”ویسے آج ڈنر کے بارے کیا خیال ہے ؟….باہر چلیں ؟“اس نے ایک دم سردار کو مشورہ دیا۔”لی زونا کو بھی ساتھ لے چلیں گے ؟“

”یہ کیا کہہ رہی ہے ؟….ڈنر اور لی زونا ؟“سردار مجھ سے پوچھنے لگا۔جینیفر کی تیزی سے بولی گئی انگلش اس کے سر پر سے گزر گئی تھی ۔

”یہ تمھیںڈنر کی دعوت دے رہی ہے ۔اور بتا رہی ہے کہ لی زونا بھی اس کے ہمراہ ہو گی ؟“

”یس…. یس ۔“وہ جلدی سے بولا ۔”وائے ناٹ؟ ….آئی ایم ریڈی۔“

”لیکن ذ ی بھی ساتھ ہوگا؟“اس مرتبہ اس نے بولنے کی رفتار کم کرتے ہوئے میری جانب ہاتھ سے اشارہ بھی کیا تھا۔

”تو کیا ؟….یہ نہیں جانا چاہتا ؟“

”ہاں میں نہیں جانا چاہتا۔“

”کیوں ؟“سردار نے حیرانی سے پوچھا۔

”کیونکہ میں نے اینڈریا کے ساتھ کہیں جانے کا پروگرام بنایا ہوا ہے ؟“سردار کو اردو میں بتا کر میں نے وہی فقرہ انگلش میں بھی دہرا دیا تھا ۔

”تم ایسا کچھ نہیں کرنے والے ؟“جینیفر نے غم و غصے کی ملی جلی کیفیت میں کہا۔

”تم کون ہوتی ہومجھے روکنے والی ؟“میں تن کر کھڑا ہو گیا ۔

سردار نے گھبرا کر کہا۔”ارے تم تو لڑنے لگے ۔“

”تم میرے ساتھ جاو ¿ گے ؟“جینیفر بھی میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔

”کیوں میں تمھارازرخرید ہوں ؟“

وہ بے باکی سے بولی ۔”نہیں ….بلکہ اس لیے کہ میں تمھیںپسند کرتی ہوں ؟“

”مگر مجھے تمھاری پسندیدگی کی بالکل ضرورت نہیں ہے ؟“

وہ طیش میں آ کر چلائی ۔”جھوٹ کہتے ہو ….جھوٹے ؟“

”کیپٹن صاحبہ !….تم زیادتی کر رہی ہو ؟“

”ذیشان بھائی !….تم گلی سوٹ اتارو ؟….اور میڈم تم بھی جاکرگلی سوٹ بدلی کرو پھر بات کرتے ہیں ۔“سردار نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اس تک اپنی بات پہنچائی ۔

”اوکے ،میں کپڑے بدل کر آتی ہوں ۔“جینیفراثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی ۔

”تم کس خوشی میں اتنا چہک رہے ہو ؟“میں سردار پر برس پڑا ۔

”جینی بھابی ہمارے کمرے میں آئی تھیں ؟اب خوشی کا اظہار بھی نہ کروں ؟“

”بکواس نہ کرو یار !“اسے جھڑک کر میں واش روم کی طرف بڑھ گیا ۔

٭٭٭

ڈنر پر جینیفر نہایت خوب صورت لباس میں نظر آئی ۔میں اسے نظر انداز کیے سردار سے محو گفتگو رہا ۔مگر جب ہم واپس آرہے تھے تو اس نے سردار خان کو اشارے سے اپنے پاس بلا کر جانے کیا کہا ۔ جواباََ سردار خان نے اثبات میں سر ہلا کر میرے پاس واپس آیا اور کہنے لگا۔

”ذیشان بھائی !….تم کمرے میں جاو ¿ میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں ؟“

”خیریت تو ہے ؟….مجھے بتاو ¿،کیا بات ہے ؟“

”آ کر بتاتا ہوں ؟“سردار کا انداز جان چھڑانے والا تھا۔میں کندھے اچکاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔خواہ مخواہ کا اصرار مجھے مناسب نہیں لگا تھا۔

کمرے میں آئے مجھے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ دروازہ کھٹکھٹا کر جینیفر اندر داخل ہوئی ۔

ایک دم میرے ذہن میں ساری کہانی آ گئی ۔یقینا جینیفر نے سردار کو یہاں آنے سے منع کیا تھا اور اس میں بھی شبہ نہیں تھا کہ اس نے سردار کو لی زونا کے پاس بھیجا ہوگا۔

”ہیلو ذ ی!….“وہ بے تکلفی سے میرے بیڈ پر آ کر ٹک گئی تھی ۔

”مجھ سے کیا چاہتی ہومس جینیفر !“میں نے سنجیدہ ہو کر پوچھا ۔

”کچھ بھی نہیں ؟….بس تم مجھے اچھے لگتے ہواور میرے خیال میں یہ وجہ کافی ہے ؟“

”تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ میں شادی شدہ ہوں ؟“

”ہا….ہا….ہا“اس کے نقرئی قہقہے سے کمرے کی فضا گونج اٹھی ۔”تو میں نے کب کہا ہے کہ میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں ؟….محبت کے بعد شادی کرنا مشرقی روایات کا خاصا ہوگا؟ ہمارے ہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا ؟“

”تو تمھارے ہاں کیا ہوتا ہے ؟“

”ہمارے ہاں تو محبت ہونے کے بعد بس محبت کی جاتی ہے ۔“معنی خیز انداز میں کہتے ہوئے وہ میرے قریب ہوگئی ۔

میں جلدی سے بیڈ سے اترتا ہوا بولا۔”پلیز ….کیپٹن!“

”ذی !….کیا میں خوب صورت نہیں ہوں ؟“میرے دور ہٹنے پر وہ دل گرفتہ سی ہو گئی تھی ۔

میں صاف گوئی سے بولا۔”اس لیے تو دور بھاگا ہوں کہ بہت خوب صورت ہو ؟“

”سچ ….“وہ خوش ہو گئی تھی ۔”اگر ایسا ہے تو یوں دور ہٹنے کا مطلب مجھے سمجھ میں نہیں آتا؟“

”میں سمجھا بھی نہیں سکتا ؟….“

”ذی !….“وہ بیڈ سے اٹھ کر میرے جانب بڑھی ۔

”پلیز جینی !….تم بہت اچھی لڑکی ہو لیکن میں اس کا متحمل نہیں ہو سکتا ؟“میں نے فی الفور سارے جھگڑے مٹا دئے تھے کہ وہ مجھے راضی کرنے کے لیے کچھ بھی کرنے پر کمربستہ نظر آتی تھی ۔

”چلو تم نے مجھے جینی تو کہہ دیا نا ؟“وہ دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی تھی ۔”اور وعدہ کرو کل میرے ساتھ ڈنر پرباہر چلو گے ؟“

”مشکل ہے ؟“میں نے سردار کے بستر پر جگہ سنبھالتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔

”آخر کیوں ؟“

”جینی !….تم جانتی ہو میرا تعلق بہت غریب ملک سے ہے ؟….یہاں میری آمد کا مقصد بس لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کے بارے سیکھنا اور سنائپر کورس کرنا ہے ۔میں ان عیاشیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا ؟“

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کردوبارہ میرے قریب آکربیٹھ گئی اور میرا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی ۔ ”تم سے اچھا نشانے باز بھلا کون ہو سکتا ہے ؟….آج بھی تم نے نو بونس پوائنٹ لیے ہیں ….اور ڈنر پر جانے سے تمھارے کورس پر کیا فرق پڑے گا ؟“

”اچھا ٹھیک ہے ،لیکن صرف ایک بار ۔“میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھوں سے چھڑانا چاہا۔وہ نہایت حسین لڑکی تھی اور اس کی قربت کسی کو بھی پھسل جانے پر مجبور کر سکتی تھی ۔

”اب کیا ہاتھ پکڑنے پر بھی تمھیںاعتراض ہے ؟“غصے سے کہتے ہوئے اس نے میرے ہاتھ پراپنی گرفت سخت کر دی ۔

”جینی !پلیز ۔“میں زبردستی ہاتھ چھڑا کر اپنے بستر پر جا بیٹھا ۔”اگر یونھی ضد کرو گی تو میں تمھارے ساتھ دوستی نہیں کر پاو ¿ں گا ؟“

”اچھا ٹھیک ہے ۔“غیر متوقع طور پر وہ مان گئی تھی ۔

اسی وقت سردار کمرے میں داخل ہوا ۔اس کے چہرے پر نظر آنے والے تاثرات نے مجھے چونکا دیا تھا۔

”ہیلو کیپٹن !“کہہ کر وہ میرے ساتھ ا ٓکر بیٹھ گیا ۔

”ہائے سردار !“کہہ کر وہ کھڑی ہوگئی ۔اور مجھے مخاطب ہو کر بولی ۔”ٹھیک ہے ذی !میں چلتی ہوں ۔کل ملاقات ہو گی ۔“

اورمیں مسکراتے ہوئے اسے الوداع کہنے کے لیے کھڑاہوگیا۔

دروازے کے قریب پہنچ کر وہ ایک دم مڑی اور مجھ سے لپٹ کر میرے گال پر بوسا دیتے ہوئے بولی ۔”سوری ذی !….یہ ہماری ثقافت ہے ۔“میں سوائے خفت سے سر جھکانے کے اور کچھ نہ کہہ سکا۔

دروازہ بند کرکے میں سردار کا حال پوچھنے لگا۔

”کیا ہوا خان صاحب!….تمھاری صورت پر کیوں بارہ بج رہے ہیں ؟“

”کچھ نہیں یار !….بس گھر یاد آرہا ہے ۔“

”گھر تو خیر مجھے بھی یاد آ رہا ہے ۔“

”کچھ دیر کھلی فضا میں نہ پھر لیں ؟“اس نے مشورہ دیا ۔

”میرا تو خیال ہے سونا چاہیے ؟“

وہ مصر ہوا ۔”بس جاگنگ ٹریک کا ایک چکر لگا کر واپس آ جائیں گے ؟“

”اچھا چلو ۔“اس کا اصرار دیکھتے ہوئے میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا ۔

ٹریک کے قریب پہنچتے ہوئے وہ پر اسرار لہجے میں کہنے لگا۔”میںتمھیں ایک خاص بات بتانے کے لیے کمرے سے باہر لایا ہوں ۔“

”خاص بات ؟“

”ہاں ….لی زونا کہہ رہی تھی تمھیں بتا دں کہ جینیفر سے تھورادور رہے ؟“

میں نے منہ بنایا ۔”تو یہ کمرے میں بھی کہا جا سکتا تھا؟“

”نہیں ۔“اس نے نفی میں سرہلایا۔”وہ کہہ رہی تھی یہ بات تمھیں کمرے سے باہر لے جا کر بتاو ¿ں ۔اور وہ خودبھی مجھے یہ بتانے کے لیے تازہ ہوا میں ٹہلنے کے بہانے کمرے سے باہر لے گئی تھی۔“

”جینفر سے محتاط رہنے کا بھلا کیا مقصد ہو ا؟“

”بس اس نے آسان لفظوں میں یہی بتایا تھا ۔اور مزید یہ کہا کہ موقع ملنے پر وہ تمھیں سار ی بات سمجھا دے گی ۔“

”لی زونا جاسوس تو نہیں ہے ؟“میں نے مزاحیہ لہجے میں پوچھا۔

”صحیح پہچانا۔“سردار نے داد دینے والے انداز میں کہا ۔”اس کا تعلق جاپان انٹیلی جنس سے ہے ۔“

”ویسے مجھے خود جینیفر کے رویے پر حیرانی تھی ۔مجھ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ وہ یوں فریفتہ ہو جاتی ؟“

”شایدتمھاری کسی صلاحیت کی وجہ سے وہ تمھاری جانب مائل ہوئی ہو ؟“سردار نے خیال ظاہر کیا ۔

”نہیں ….اس کی دلچسپی مجھے پہلے روز دکھائی دے گئی تھی ۔گو یورپین ممالک میں یہ ایک عام سی بات ہے ،مگر کافی پرکشش اور خوب صورت قد کاٹھ کے جوانوں کو چھوڑ کر اسے میری ذات سے جو عشق ہو گیاتھاوہ ضرور اچنبھے میں ڈالنا والاتھا اور اب لی زونا کی بات نے میرے شبے کی تائید کر دی ہے کہ جینیفر مجھ سے کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے ؟“

سردار نے کہا۔”اچھا چلو واپس چلتے ہیں ؟….بعد میں لی زونا سے مل کر مزید تفصیل پوچھ لینا۔“

”چلو ۔“میں اس سے متفق ہوتا ہوا بولا۔اور ہم اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے ۔

٭٭٭

اگلے دن سر شام ہی جینیفر ایک خوب صورت لباس پہنے میرے پاس پہنچ گئی ۔میں نے سردار اور لی زونا کو ساتھ لے جانے پر اصرار کیا مگر وہ فقط مجھے لے جانے پر بہ ضد ہوئی ۔مجبوراََ مجھے خاموش ہونا پڑا۔اس کے پاس اپنی کا رموجود تھی ۔ٹریننگ کیمپ سے نکل کر بجائے شہر کی طرف جانے کے وہ باہر کی جانب مڑ گئی ۔

”کہاں جا رہی ہو ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔

اس نے اطمینان سے جوا ب دیا”پہلے لانگ ڈرائیو ؟اس کے بعد ڈنر کریں گے ۔“

”دیر ہوجائے گی ؟“میں نے فکر ظاہر کی ۔

”کوئی نہیں ہوتی دیر ۔“ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ سنبھالتے ہوئے اس نے اپنا دوسرا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔

”جیسے تمھاری مرضی ۔“میں نے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا ۔

اسی وقت اس کے موبائل فون پر کال آنے لگی ۔وہ میرا ہاتھ چھوڑ کر کال رسیو کر نے لگی ۔”جی ! میں مہمان کے ساتھ ڈنر پر جارہی ہوں ؟“مختصر جواب دے کر اس نے رابطہ منقطع کر دیا ۔اس وقت پاکستان میں بھی موبائل فون خواص کے دائرے سے نکل کر عوام کے ہاتھوں میں نظر آنے لگ گئے تھے ۔ گو میں خود اس نعمت سے محروم تھا مگر موبائل میرے لیے کوئی نئی چیز نہیں تھا ۔

قریباََ دس کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد اس نے ایک ذیلی سڑک پر کار موڑ دی ۔کار کے تھوڑا سا آگے بڑھتے ہی میری نظر چھوٹی دیواروں والی فارم نما عمارت پر پڑی ۔گویا وہ ذیلی سڑک کے بجائے اس عمارت تک پہنچنے کا رستا تھا ۔

”یہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟“میں نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

”ہا….ہا….ہا۔“اس نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا۔”اسے کہتے ہیں سر پرائز ؟….یہ فارم ہاو ¿س میرے ابو کے دوست کا ہے ۔آج ہم یہیں ڈنر کریں گے ؟….اور فکر نہ کرو میں نے اسے بتا دیا تھا کہ میرا مہمان ایک مسلم ہے ۔اس نے گوشت وغیرہ کسی مسلم ہی سے لایا ہوگا ؟“

”مگر ہم تو کسی ہوٹل میں جانے والے تھے نا ؟“میں نے ناراضی سے پوچھا ۔

”نہیں ۔“اس نے فارم ہاوس کے داخلی دروازے پر کار روک کر ہیڈ لائیٹ بجھائی ۔اسی لمحے خود کاردروازہ کھل گیا ۔کار آگے بڑھاتے ہوئے وہ تسلی بخش انداز میں بولی ۔”میں نے فقط باہر جانے کی بات کی تھی ۔اگر تم نے خود سے ہوٹل سمجھ لیا تو میرا کیا قصور ؟“یہ کہتے ہوئے اس نے کھلے صحن میں کار روک دی ۔

”اور ابھی آتے وقت بھی کچھ ایسا کہا تھا کہ لانگ ڈرائیو کے بعد ڈنر کریں گے ؟“

وہ ہنسی ۔”تو کیا یہ غلط ہے ؟“یہ کہتے ہوئے وہ نیچے اتر گئی ۔میں بھی دروازہ کھول کر باہر آ گیا ۔

اسی وقت اندرونی عمارت سے ادھیڑ عمر کا ایک مرد اور ایک عورت برآمد ہوئی ۔عمارت میں ہر طرف لگے بڑے بڑے انرجی سیورز کی وجہ سے دن کا سا سماں تھا ۔

انھوں نے قریب آتے ہی جینفر کو گلے سے لگا کر پیار کیا اور مجھ سے پرتپاک مصافحہ کیا ۔

جینیفر نے تعارف کا فریضہ سر انجام دیتے ہوئے مرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔”یہ ہیں جنا ب !….انکل انتھونی گرانٹ اور یہ ہیں آنٹی پیٹریشیا۔“اور پھر میرا ہاتھ پکڑ کر بولی ۔”اور یہ ہیں مسٹر ذیشن،جسے میں ذی کہہ کر مخاطب کرتی ہوں ۔“

”تم سے مل کر خوشی ہوئی ۔“انتھونی نے رسمی انداز میں کہا ۔

”اندر چلتے ہیں ؟“پیٹریشیا نے مشورہ دیا ۔”بقیہ گفتگو وہاں کریں گے ۔“

عمارت اندر سے بہت سجی ہوئی اور خوب صورت تھی ۔ڈرائینگ روم کے اندر بچھے ہوئے قیمتی صوفوں کو دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ وہ کوئی فارم ہاو ¿س وغیرہ نہیںتھا ۔

ہمارے نشست سنبھالتے ہی ایک باوردی ملازم ٹرالی دھکیلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔ٹرالی درجن بھر گلاس مختلف قسم کے رنگ کے مشروب سے بھرے ہوئے رکھے تھے ۔

”لڑکے !….گھبرانا نہیں ؟یہ مختلف قسم کے جوس ہیں ۔“انتھونی نے مسکراتے ہوئے مجھے تسلی دی ۔

میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک گلاس اٹھا لیا ۔

”رستے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ؟“پیٹریشیا مستفسر ہوئی ۔

جینیفر نے جواب دیا ۔”ہم کون سا پیدل آئے ہیں آنٹی !“

”تو کیسی جا رہی ہے ٹریننگ ؟“انتھونی مجھے مخاطب ہوا تھا ۔

میں نے مختصراََ کہا۔”بہت اچھی ؟“

پیٹریشیا نے پوچھا ۔”اس سے پہلے کبھی امریکہ آنا ہوا ؟“

”نہیں آنٹی !….یہ پہلا موقع ہے ؟“

”تو پھر ؟….پسند آیا ہمارا ملک ؟“اس کے لہجے میں دنیا کی طاقتور مملکت کا شہری ہونے کا غرور کوٹ کوٹ کر بھرا تھا ۔

میں نے حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا ۔”کیا تبصرہ کروں ؟….آج پہلی بار ٹریننگ کیمپ سے نکلا ہوں اور وہ بھی رات کے وقت ۔“

انتھونی نے کہا ۔”اتوار کو تو چھٹی ہوتی ہے ؟….گھوم پھر لیا کرو ؟“

”اسے ٹریننگ میں پہلی پوزیشن کے حصول کا بخار چڑھا ہے ؟….چھٹی کے دن بھی ٹریننگ میں جتا رہتا ہے ۔“کافی دیر سے خاموش بیٹھی جینی نے شوخ لہجے میں کہا ۔

”ویسے یہ تو زیادتی ہے اپنے ساتھ ،کہ امریکہ میں آکر اس طرح ٹریننگ کیمپ میں محدود ہو کر بیٹھا رہا جائے ؟“انتھونی نے افسوس بھرے انداز میں سرہلایا۔

”میرا خیال ہے پہلے ڈنر کرتے ہیں ؟….باقی گپیں بعد میں ہانکیں گے ؟“جینیفر نے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا ۔پیٹریشیا اور انتھونی مسکرا کر کھڑے ہو گئے ۔میں نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا ۔

وسیع ڈائیننگ ٹیبل مختلف لوازمات سے بھری ہوئی تھی ۔

”لڑکے !….چکن اور بیف ایک مسلم کی دکان سے خریدا ہے ،بلکہ یہ ساری ڈشیں پکانے والا بھی ایک انڈین مسلمان ہے ۔میں نے جینی کی ہدایات پر پورا عمل کیا ہے ؟….تم بے فکر ہو کر ہر ڈش پر ہاتھ صاف کر سکتے ہو ؟“

”شکریہ انکل !“جینی نے انتھونی کا شکریہ ادا کرنے میں دیر نہیں لگائی تھی ۔

کھانا کھانے کے بعد ہم دوبارہ ڈرائینگ روم میں آ گئے تھے ۔انتھونی اور پیٹریشیا مجھ سے پاکستان کے بارے مختلف سوال کرنے لگے ۔طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشت گردی کی اٹھنے والی لہر زیادہ تر ان کے سوالا ت کا موضوع رہی ۔

”اچھا تم لوگوں کے لیے اوپر والا کمرہ ٹھیک کر دیا تھا ۔ہم آرام کرنے جا رہے ہیں تم بھی انجوائے کرو ؟“انتھونی پیٹریشیا کو ساتھ لیے کھڑا ہو گیا ۔

میں نے گھبرا کر کہا ۔”نہیں ،ہم واپس جائیں گے ؟“

”ٹھیک ہے ،واپس چلے جانا ۔“انتھونی نے بے پرواہی سے کہا اور وہ دونوں ڈرائینگ روم سے باہر نکل گئے ۔

”چلیں ؟“میں نے جینیفر سے پوچھا ۔

”گھڑی دو باتیں بھی کر لو ؟ہم خالی ڈنر کرنے تو نہیں آ ئے تھے ؟“

”باتیں وہاں جا کر بھی ہو سکتی ہیں ۔“

”کچھ باتوں کے لیے خلوت کی ضرورت پڑتی ہے نا ؟“معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے وہ میرے بالکل قریب ہو گئی ۔

اتنا تو میں بھی جانتا تھا کہ وہ مجھے وہاں بغیر کسی مقصد کے لے کے نہیں آ ئی تھی ۔اور پھر اتنی خوب صورت اور دلکش لڑکی جب کسی کو گناہ پر مائل کرنا چاہے تو بچنے کے لیے جنید بغدادیؒ کازہد اور شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا تقویٰ چاہیے ہوتا ہے ۔میں یقینا اس کے حسن کی لپیٹ میں آ جاتااور فخر کرنے کے لیے میرے پاس کچھ نہ بچتا ،مگر لی زونا کی چھوٹی سی نصیحت مجھے چیخ چیخ کسی خطرے سے روشناس کرا رہی تھی ۔اگر گزشتا رات سردار مجھ تک لی زونا کی بات نہ پہنچاتا تو یقینا میں بہک گیا ہوتا۔مگر اب میرے جذبات پر عقل غالب تھی ۔اور یہ تو اصول دنیا ہے کہ جب انسان خود کو کسی ان دیکھے خطرے میں گھرا پائے تو اس کے جذبات کی آگ عقل پر غالب نہیں آ سکتی ۔مجھے اس وقت واضح طور پر لگ رہاتھا کہ کوئی نادیدہ آنکھ ہماری نگرانی کر رہی ہے ۔

میں خود کو اس کی گرفت سے آزاد کراتا ہوا کھڑا ہوا ہوگیا ۔

”میرا خیال ہے اس بارے میں نے تمھیںپہلے سے بتا دیا تھا ؟“

وہ جلدی سے میرا ہاتھ کو پکڑتے ہوئے بولی ۔”ذی !….لڑکی میں ہوں اور گھبرا تم رہے ہو ؟“

”ہاں ….کیونکہ میرا مذہب،میری تہذیب ،میرا معاشرہ اور پاک آرمی کا قانون مجھے اس کام کی اجازت نہیں دیتا ۔“

”ہا….ہا….ہا“وہ کھڑے ہوکر بے باکی سے مجھ سے لپٹ گئی ۔”یہ لطیفے کسی اور دن کے لیے سنبھال رکھو جانی !“

”جینیفر !….میرا خیال ہے ،تمھاری گاڑی کے بغیر مجھے کیمپ تک پہنچنے کے لیے گھنٹے سے زیادہ کا وقت نہیں لگے گا ؟“یہ کہتے ہوئے میں بڑی سختی سے خود کو اس کی گرفت سے چھڑایا تھا،کیونکہ اگر وہ مزید کچھ دیر مجھ سے لپٹی رہتی تو شاید میری مدافعت دم توڑ دیتی ۔

جینیفر کے چہرے پر خجالت اور غصے کے آثار دیکھ کر میں بغیر معذرت کے باہر کی جانب چل پڑا۔لیکن اس سے پہلے کہ میں داخلی دروازے تک پہنچتا میری سماعتوںسے انتھونی کی آواز ٹکرائی ۔

”مسٹر ذیشان !….ایک منٹ ؟“

میں نے حیرت سے مڑ کر دیکھا ۔پیٹریشیا اور وہ دونوں اکٹھے کھڑے تھے ۔

انتھونی نے کہا۔”ہماری بات سن کر چلے جانا ۔“

اس کے انداز کو دیکھتے ہوئے میں خاموشی سے پلٹ کر ان سامنے پہنچ گیا ۔

”جی فرمائیں ؟“

”بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔“اس نے مجھے نشست سنبھالنے کا اشارہ کیا ۔اس نے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بریف کیس پکڑا ہوا تھا ۔میرے سامنے بیٹھتے ہوئے اس نے جب وہ بریف کیس ٹیبل پر رکھا تبھی میری نظر اس بیگ پر پڑی۔

”بیٹھ جاو ¿ کیپٹن!“اس مرتبہ انتھونی کے لہجے میں پہلے والی شفقت اور پیار محبت کی جگہ حکم کا اثر واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا تھا ۔

جینیفر بھی سر جھکائے خاموشی سے بیٹھ گئی ۔

انتھونی نے بریف کیس کھول کر میری طرف گھمایا۔ سو سو ڈالر کے نئے کڑکڑاتے نوٹوں کی گڈیاں دیکھ کر میں ششدر رہ گیا تھا ۔

”یہ پچاس ہزار ڈالر میں ….تمھارے ملک کی کرنسی میں یہ کتنے ہوتے ہیں ؟یہ حساب خود کر لینا۔“انتھونی نے اطمینان سے وہ بریف کیس میری جانب کھسکا دیا ۔

”کس خوشی میں ؟“بریف کیس کو ہاتھ لگائے بغیر میں مستفسر ہوا۔

”ایک چھوٹے سے کام کا یہ پیشگی معاوضا ہے ۔بقیہ کا آدھا معاوضا کا م ہو نے کے بعد ؟“

”یقینا مجھے کسی غیر قانونی کام میں دلچسپی نہیں ہو گی ؟“

”قانون کون بناتا ہے ؟….حکومت ؟….“اس نے تصدیق چاہتے ہوئے پوچھا ۔”کیا میں صحیح کہہ رہا ہوں ؟“

”ہاں ۔“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔

”تمھاری تسلی کے لیے عرض ہے کہ یہ امریکن حکومت ہی کا کام ہے ۔اور میرا تعلق امریکن سی آئی اے سے ہے ۔تسلی کے لیے میراکارڈ دیکھ سکتے ہو ۔اس نے جیب سے اپنا سروس کارڈ نکال کر میرے سامنے رکھ دیا ۔

میں نے کارڈ کو ہاتھ لگائے بغیر اس کے مندرجات پر نگاہ دوڑائی ۔کرنل سکاٹ ڈیوڈ لکھا ہوا نظر آیا ۔

”میرا اصل نام سکاٹ ڈیوڈ ہے ؟اور یہ کرنل جولی روز ویلٹ ہیں ؟“

”شایدتم صحیح کہہ رہے ہو؟….مگر میں پاکستان آرمی کے زیرِ کمان ہوں ۔اس رقم کے بجائے مجھے میرے سینئرز سے حکم دلوا دیں ۔اتنی رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ؟“

”کچھ کام ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں خفیہ رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ؟“

”چھپا کر کرنے والا کام غلط ہی ہوتا ہے سر !“میں نے حتی الوسع کوشش کی تھی کہ میرے لہجے سے تلخی یا طنز نہ جھلکے ۔

وہ ہنسا ۔”غلط فہمی ہے تمھاری مسٹر ذیشان!….میاں ،بیوی کا جسمانی تعلق رکھنا کسی قوم اور مذہب کے نزدیک غلط یا ناجائز نہیں ہے لیکن ہم یہ کام چھپ کر سر انجام دیتے ہیں ۔قضائے حاجت کے لیے بھی ہم لوگوں کی نظروں سے چھپ کر جگہ ڈھونڈتے ہیں ۔بچے کو دودھ پلاتے ہوئے ماں بچے اور اپنے جسم کو چادر سے ڈھانپ لیتی ہے ۔آپریشن کرنے کے لیے ڈاکٹر کسی غیر متعلق شخص کو آپریشن کی کارروائی دیکھنے کی اجازت نہیں دیتے ….وغیرہ وغیرہ ….میں اس موضوع پر اور بھی درجنوں مثالیں پیش کر سکتاہوں ،کہ ہر چھپا کر کیا جانے والا کام جرم نہیں ہوتا ؟“

”سر !….یہ تمام کام چھپ کر سر انجام دینے کے باوجود سب کی نظروں کے سامنے ہوتے ہیں ۔کیا لوگ نہیں جانتے کہ میاں بیوی بند کمرے میں کیا کر رہے ہیں ؟یا ماں کے بچے کو چادر سے ڈھانپنے کا مطلب کیا ہے ؟….یقینا سب ان کاموں کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں ۔میںتمھاری مثال سے بالکل متفق نہیں ہوں ؟“

”ذیشان !….ہر حکومت کی ترجیحات میں رازداری پہلے نمبر پر آتی ہے ؟“

”تو ٹھیک ہے ،اس کے لیے حکومت کا ایسا آدمی بھی ڈھونڈنا چاہیے جو راز داری برت سکے؟“

”اچھا تم کام کے متعلق توسن لو ؟….کرنے نہ کرنے کا فیصلہ بعد میں کرنا ؟“کافی دیر سے خاموش بیٹھی جولی روزویلٹ نے زبان کھولی ۔

”میڈم !….اگر کوئی ایسا خفیہ کام ہے جس کے بارے جان لینے کے بعد، وہ کام نہ کرنے کے فیصلے پر مجھے جانی نقصان پہنچ سکتا ہو تو براہ مہربانی مجھے نہ بتائیں ؟….یوں بھی، اطمینان رکھیں کہ میں یہ کام نہیں کرنے والا۔“

”تو یہ تمھاراآخری فیصلہ ہے ؟“کرنل سکاٹ نے تیکھے لہجے میں پوچھا ۔

”جی سر !….میں اپنی حکومت کی مرضی جانے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتا ۔“

”اوکے ….تمھاری صاف گوئی پسند آئی ۔“کرنل سکاٹ نے بیٹھے بیٹھے میری جانے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔

اس سے ہاتھ ملا کر میں کھڑا ہو گیا ۔کرنل جولی روزویلٹ خاموش بیٹھی مجھے کڑے تیوروں سے گھورتی رہی ۔میں نے بھی اس کی جانب ہاتھ بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی ۔

”کیپٹن !….تم لوگ جاسکتے ہو؟“کرنل سکاٹ ،خاموش بیٹھی جینیفر سے مخاطب ہو ۔

اور وہ ۔”یس سر !“کہہ کر کھڑی ہو گئی ۔ہم دونوں آگے پیچھے چلتے وہاں سے باہر نکل کر کار میں بیٹھ گئے ۔جینیفر نے خاموشی سے کار موڑی ،خود کار دروازہ خود بہ خود کھل گیا تھا ۔مین روڈ پر چڑھتے ہی وہ نارمل رفتا ر سے ڈرائیونگ کرنے لگی ۔

”خفا ہو ؟“مجھے خاموش پا کر اس نے گفتگو کی ابتداءکی ۔

”کیا نہیں ہونا چاہیے ؟“میں نے سرسری لہجے میں پوچھا

”ہاں ….کیونکہ میں نے تمھیںنقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی ؟“

”تو یہ کیا تھا ؟….اتنی رقم کی آفر کسی خطرناک کام کے لیے ہی کی جاتی ہے ؟“

”مجھے حکم ملا تھا ؟“اس نے صفائی پیش کرنے کی کوشش کی ۔

”دھوکا دینے کے لیے محبت اور دوستی کا سہارا نہ لیا ہوتا؟“یہ بات میں بہ مشکل پوری کر پایا تھا کہ جینیفر نے ایک دم بریک لگاکر میری جانب مڑی ۔

”ایسی کوئی بات نہیں ہے ذی !“اس نے میرے دونوں ہاتھ تھام کر وارفتگی سے کہا ۔”تمھیں پہلی بار کلاس روم میں دیکھا اورتم مجھے اچھے لگے ۔یاد ہے میں پہلے دن ہی تمھاری جانب متوجہ ہو گئی تھی؟ گو اس کے بعد ہم ایک دوسرے سے تھوڑے خفا رہے ۔اس دوران میں نے جو الٹی سیدھی حرکتیں کیں ؟ ساری کی ساری تمھاری توجہ اپنی جانب مبذول کرنے کے لیے کی تھیں ؟….اور جہاں تک اس کام کا تعلق ہے جو تم سے کرنل سکاٹ لینا چاہ رہے ہیں ؟تو اس بارے مجھے پرسوں حکم ملا ہے ؟“

”مجھے اب اس موضوع پر بات نہیں کرنی ؟….یوں بھی کافی دیر ہو گئی ہے اب چلنا چاہیے ؟“

”تم مجھ سے خفا نہیں ہو سکتے ؟“اس کی آنکھوں میں مجھے ہلکی سی نمی کی جھلک نظر آئی ۔اگر یہ اداکاری تھی تو کمال کی اداکاری تھی ۔

خواہ مخواہ بات بڑھانا مجھے مناسب نہ لگا ۔میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔”میں تم سے خفا نہیں ہوں جینی !….اب آگے بڑھو ؟“

”سچ کہہ رہے ہو ؟“اس نے خوشی سے بھرپور لہجے میں پوچھا ۔

”مجھے جھوٹ بولے کی ضررت ہی کیا ہے ؟“

”شکریہ ذی !“اس نے بے تکلفی سے آ گے ہو کر میرے گال پر بوسا دیا اور پھر سیدھے ہو کر کارآگے بڑھا دی ۔اس کے بعد کیمپ کے آنے تک ہم نے اس موضوع کو نہیں چھیڑا اور دائیں بائیں کی گفتگو کرتے رہے ۔

کیمپ میں پہنچتے ہی اس نے مجھے کار سے اترنے سے پہلے کہا ۔”ذی !….یقیناتم آج کے واقعے کا ذکر کسی سے نہیں کرو گے ؟“

”بے شک ۔“کہہ کر میں کار سے باہر نکل آیا ۔مجھے کمرے کے دروازے تک پہنچا کر اس نے الوداع کہا۔مگر جاتے جاتے وہ اپنی ثقافت پر عمل کرنا نہیں بھولی تھی ۔

سردار کمپیوٹر پر سنائپر سے متعلق ایک فلم دیکھ رہا تھا۔مجھے اندر داخل ہوتا دیکھ کر وہ چہکا۔

”شکر ہے تمھیں اپنی جینی سے فرصت ملی ؟….میں تو سوچ رہا تھا شاید صبح ہی واپسی ہو گی ؟“

”فضول کی نہ ہانکا کرو یار !“میں جوتوں کے تسمے کھولنے لگا ۔

”ویسے ذیشان بھائی !….اسی کو ڈیٹ پر جانا کہتے ہیں نا؟“یہ کہہ کر وہ زور زور سے ہنسنے لگا۔

اور میں پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ واش روم میں گھس گیا ۔

جاری ہے