ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر

سنائپر

قسط نمبر7

ریاض عاقب کوہلر

 

میرے کچھ کہنے سے پہلے اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”مسٹر ذیشن!….تمھارے ساتھی نے کیا بے وقوفی کا مظاہرہ کیا ہے ؟“

”سر !اسی سلسلے میں حاضر ہوا تھا۔یہ اصل میں انگلش زبان سے نا بلد ہے ۔راج پال نے اسے مس گائیڈ کیا اور اس نے تمام گولیاں تین سو کے فاصلے سے فائر کر دیں ۔“

”تو اس ضمن میں ،میں کیا کر سکتا ہوں ؟“

”سر !….اگر میرے ساتھی کو دوبارہ موقع دیا جائے ……..؟“

”نہیں ذیشن!ایسا کیسے ہو سکتا ہے ؟….اس طرح تو وہ تمام جو ایک دفعہ فائر کر چکے ہیں؟ دوبارہ فائر کرنے پر اصرار کریں گے ۔معذرت خواہ ہوں ۔بس اسے اپنی قسمت سمجھ کر قبول کر لو۔“

”اوکے سر !….“میجر جیمس کا حتمی لہجہ سن کر میں نے مزید منت زاری سے پرہیز کرتے ہوئے واپس جانا ضروری سمجھا۔

”میں معافی چاہتا ہوں ذیشان بھائی !….“سردار خان نے ندامت بھرے لہجے میں کہا ۔ ”میری وجہ سے یہ گڑ بڑ ہوئی ۔“

”اچھا چھوڑو یا ر!….“میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”شاید پوزیشن ہماری قسمت ہی میں نہیں تھی ؟“

واپس فائرنگ اڈے پر جا کر میں شری کانت پارٹی کو فائر کرتے دیکھنے لگا ۔خود میرا جی بالکل فائر سے اچاٹ ہو گیا تھا ۔شری کانت نے پندرہ سو میٹر سے چار گولیاں ہٹ کیں اور اس کی ایک گولی خطا گئی تھی ۔فائر اڈے سے پیچھے ہٹ کر اس نے مجھے فائر کرنے کی دعوت دی ۔

”شکریہ ….آپ جاری رکھیں ۔“میرا موڈ سخت آف تھا ۔شری کانت نے معنی خیز ہنسی کے ساتھ نیپالی سنائپرز کو دعوت دے دی ۔دونوں نیپالی سنائپر فائر کرنے لگے ۔اس کے بعد راج پال نے اپنی پانچوں گولیاں ہزار میٹر کے فاصلے سے فائر کر کے دس نمبر حاصل کرلیے ۔جینیفر نے پانچ گولیاں پندرہ سو میٹر کے فاصلے سے کامیابی سے ہٹ کر کے پندرہ نمبر حاصل کر لیے تھے ۔ جینیفر کے ساتھی نے بھی دس نمبر حاصل کیے تھے ۔ پہلی پوزیشن پرپچیس نمبر کے ساتھ جینیفرپارٹی براجمان تھی ۔چوبیس نمبر حاصل کرکے اسرائیل کاڈونلڈ پاسکو اور اس کی ساتھی سنائپر اینڈریا برٹن دوسری پوزیشن پر تھے ۔جبکہ بائیس نمبر کے ساتھ تیسری پوزیشن پر جاپانی اور انڈین سنائپر ز کی ٹیمیں آئی تھیں۔ سب سے کم نمبر ہماری ٹیم کے تھے۔سوا ایک نمبر کے ساتھ ہم سب سے آخری پوزیشن پر تھے ۔تاہم ابھی تک میرے پاس پانچ گولیاں موجود تھیں ۔میرا نام اناو ¿نس کر کے مجھے مطلع کیا گیا کہ فائر سے رہ جانے والا میں اکیلا سنائپر باقی ہوں ۔

اسی وقت جینیفر بھی وہاں پہنچ گئی ۔شاید مجھ پر طنز کرنے آئی تھی ۔”تیسری پوزیشن کی مبارک ہو مسٹر کانٹ!“وہ باآواز بلند شری کانت کو مبارک بار دیتے ہوئے بولی ۔

”شکریہ کیپٹن!….اصل مبارک باد کی مستحق تو تم ہو؟“

”صحیح کہا….“وہ طنزیہ لہجے میں کہنے لگی ۔”ویسے ہم نے اور تمھارے پڑوسیوں نے بریکٹ بنا دی ہے ۔ایک سائیڈ پر ہم اور دوسری جانب تمھارے ہمسائے ؟“

”بھلا وہ کیسے ؟“شری کانت مجھے جلانے کا کوئی موقع کیسے ہاتھ سے جانے دے سکتا تھا ۔

وہ اطمینان سے بولی ”اول ہم اور سب سے پیچھے پاکستان،درمیان میں باقی سب ۔“

جواباََشری کانت قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔”ایسی بھی کوئی بات نہیں کیپٹن!….مسٹر ذیشان کی پانچ گولیاں بقایا ہیں ۔یقینا وہ پانسو سے فائر کر کے اڑھائی نمبر لے لے گا سوا ایک نمبر ان کے پاس پہلے سے موجود ہے ۔بس پونے چار نمبر لے کر ہمارے ساتھی سیکنڈ لاسٹ ہو جائیں گے ؟….اور یہ تمھیں معلوم ہو گا کہ انڈونشین سنائپرز کے ساڑھے تین نمبر ہیں ۔“

”ہا….ہا….ہا“دونوں نے باآواز بلند استہزائی قہقہہ لگایا۔

میں خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا تھا ۔سردار ان کی گفتگو تو نہیں سمجھ پا رہا تھا مگر یہ اندازہ اسے ضرور تھا کہ وہ ہمارے متعلق ہی کچھ کہہ رہے ہیں ۔مگر اس وقت وہ اتنا پشیمان تھا کہ غصہ بھی ظاہر نہیں کر پا رہا تھا ۔اسی وقت میں نے میجر جیمس کو اپنی جانب آتے دیکھا۔

”آر یو فائن مسٹر ذیشن؟“قریب آتے ہی وہ فکر مندی سے مستفسر ہوا ۔

”یس سر !“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

”تم فائر نہیں کر رہے ہو؟….کوئی مسئلہ ؟“

”نہیں سر !….بس فائر کرنے ہی لگا تھا ۔“اپنی رائفل اٹھا کر میں فائرنگ اڈے کی جانب بڑھا۔

”سنو ؟“میجر جیمس نے مجھے متوجہ کیا ۔”تم پانچ گولیاں پندرہ سو میٹر کے فاصلے سے ہٹ کر کے چوتھی پوزیشن لے سکتے ہیں ۔اس وقت افغانی سنائپرز سولہ پوائنٹ کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر ہیں۔“

”پندرہ سو میٹر سے پانچ گولیاں ؟“شری کانت نے قہقہہ لگایا۔جینیفر اور گوپال نے بھی اس کا ساتھ دیا تھا ۔

میں ان کے قہقہے پر تبصرہ کیے بغیر فائرنگ پوزیشن بنانے لگا۔فائرنگ کے لیے سب سے بہترین اور آرام دہ پوزیشن لیٹی پزیشن ہوتی ہے ۔اس حالت میں ایک فائرر کے تمام اعضاءپر سکون حالت میں ہوتے ہیں ۔اور پھر رینج ماسٹر کے ساتھ فائر کرنے میں سب سے بڑی سہولت یہ ہے کہ رائفل کے ساتھ لگی دو پائی کی وجہ سے بیرل کو تھامنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے ۔فائرر کوصرف بٹ کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ہدف کو حرکت دینے والے بٹن کودبا کر میں نے ہدف کو پندرہ سو میٹر کے فاصلے پر ایڈ جسٹ کیا۔لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ پر بھی پندرہ سو میٹر کافاصلہ ایلی ویشن ناب پر سیٹ کر کے میں نے ہدف کے درمیان میں شست لی اور سانس روک کر ٹریگر دبا دیا۔

ساتھ لگی سکرین پر نظر ڈالنے سے پہلے میری سماعتوں تک شری کانت پارٹی کا قہقہہ پہنچ گیا تھا۔ گولی ہدف کے دائیں طرف نکل گئی تھی ۔

میں نے سٹپٹا کر سائیٹ پر لگی ڈیفلکشن ناب کو دیکھا ۔(ڈیفلیکشن ناب سے رائفل کی دائیں بائیں کی غلطی درست کی جاتی ہے )میں نے ڈیفلیکشن زیرو لگائی ہوئی تھی کیونکہ رائفل میں دائیں بائیں کی کوئی غلطی موجود نہیں تھی ۔اور چونکہ میں دو دن سے اسی ڈیفلکشن پر فائر کر رہا تھا اس لیے میں نے ڈیفلکشن ناب کو چھونے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی ۔ لیکن غلطی مجھ سے یہ ہوئی تھی کہ میں نے اپنے کمینے اور کم ظرف دشمن کو نظر انداز کر دیا تھا ۔کسی بد باطن نے ڈیفلکشن ناب کو اپنی پوزیشن سے ہلا دیا تھا ۔ اور ایسا شری کانت یا راج پال کے علاوہ کون کر سکتا تھا۔ میں انسٹرکٹر سے شکایت کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا کہ ڈیفلیکشن ناب کا جائزہ نہ لینا میری اپنی غلطی تھی ۔چند گہرے سانس لے کر میں نے اپنا بلڈ پریشر نارمل کیا ۔ ڈیفلکشن ناب کو گھما کر صفر پر لگا یااوردوبارہ فائر کے لیے تیار ہو گیا ۔اگلی گولی میں نے بڑی آسانی سے ہدف کے بیچوں بیچ ہٹ کردی تھی۔یوں دو گولیاں فائر کر کے میں نے تین پوائنٹ حاصل کر لیے تھے۔اگر میں باقی رہ جانے والی تین گولیاں اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے فائر کرتا تو تینوں گولیوں کے ہٹ ہونے کی صورت میں مجھے اٹھارہ پوائنٹ ملتے ۔تین پوائنٹ دوسری گولی کے اور سوا پوائنٹ سردار خان والے ملا کر ہم سوا بائیس نمبر لے کر تیسری پوزیشن پر آ سکتے تھے ۔اور اگر میں ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو شری کانت پارٹی کے استہزائی قہقہوں کا بدلہ لے سکتا تھا ۔یہ سوچتے ہی میرا ہاتھ ہدف کو حرکت دینے والے بٹن پر پڑا ۔اور جب تک ہدف اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے تک نہ پہنچا میں نے بٹن دبائے رکھا ۔

”اچھی کوشش ،میں تمھارے حوصلے کی داد دیتا ہوں ؟“مجھے پشت کی جانب سے میجر جیمس کی آواز سنائی دی ۔

”سٹھیا گیا ہے ؟“شری کانت نے میرے زخموں پر نمک چھڑکا ۔

”نہیں بھئی!…. پیٹر سمتھ بننے کی کوشش میں ہے ؟“اس دفعہ جینیفر کی آواز نے میرے کانوں میں زہر انڈیلا تھا ۔ 

مگر میں تمام سے بے نیاز نشانہ سادھنے لگا ۔اٹھارہ سو میٹر کا طویل فاصلہ ناقابلِ شکست کھائی کی صورت میں میری تمنا کی راہ میں حایل تھا ۔لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کے دیکھنے کی طاقت انسانی آنکھ سے پچیس گنا زیادہ ہے ۔خالی آنکھ سے نظر نہ آنے والا ہدف سائیٹ کے اندر بہت چھوٹا دکھائی دے رہا تھا۔ دو تین گہرے سانس لے کر میں نے خود کو نارمل کیااور پھر مکمل سانس روک کر ٹریگر دبا دیا ۔

”شاباش۔“میرے کانوں میں میجر جیمس کی داد دینے والی آواز گونجی ۔”جوان !….تم نے کر دیکھایا۔“

فائر کرنے کے بعد میں نے آنکھیں بند کر لی تھیں ۔آنکھیں کھول کر میں نے سکرین کی جانب دیکھے بغیر دوبارہ پہلے والی جگہ پر شست سادھی اور سانس روک کر اگلا راو ¿نڈ بھی فائر کر دیا ۔

”زبردست!….“میجر جیمس کے نعرے نے میری سماعتوں میں رس گھولا۔میں نے سکرین کی جانب دیکھا دونوں گولیاں درمیانی نقطہ سے چند انچ اوپر لگی تھیں۔تیسری گولی فائر کر کے میں شری کانت پارٹی کو ہرا سکتا تھا ۔مگر پھر بھی میں تیسری پوزیشن لے پاتا۔ایک سوچ میرے دماغ میں سرسرائی اور میں کھڑا ہو گیا ۔

”کیا ہوا ؟“میجر جیمس نے آگے بڑھ کر مجھے کندھوں سے تھاما۔”تم کر سکتے ہو ؟….بس آرام سے ۔اپنے اعصاب کو ڈھیلا چھوڑو ۔“

”شکریہ سر !“کہہ کر میں نے ایک گہرا سانس لیا ۔

”تم کچھ اور سو چ رہے ہو ؟“میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے میجر جیمس نے اضطراری انداز میں کہا ۔شاید اس نے میری سوچ پڑھ لی تھی ۔

”نہیں ….نہیں تم تیسری پوزیشن کھو دو گے ؟“اس کی گرفت میرے بازوو ¿ں پر بہت سخت ہو گئی تھی۔

”شاید ایسا نہ ہو ؟“میرے منہ سے نحیف آواز برآمد ہوئی ۔

میجر جیمس نے میرے بازو چھوڑ کر دونوں ہاتھ آپس میں رگڑے۔”اوکے….اوکے ،میں کچھ نہیں کہتا؟مگر ایسا ہو گیا تو ؟….بہت انوکھا ہو گا؟“اس نے سارا بوجھ میری جانب منتقل کر دیا ۔وہ واقعی ایک ذہین انسٹرکٹر تھا کہ اپنے شاگرد کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کا ارادہ جان گیا تھا ۔

”سرداراپنی ذمہ داری سنبھالو۔“شری کانت اور راج پال کے پژمردہ چہروں پر ایک نگاہ ڈال کر میں دوبارہ فائر کرنے کے لیے لیٹ گیا ۔

سردار جو اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے دو گولیوں کو ہٹ ہوتے دیکھ کر خوشی سے کھل اٹھا تھا ۔ ”جی ذیشان بھائی !….“ کہہ کر میرے قریب آ گیا ۔اس نے میری کمر کے قریب بیٹھ کر اپنا ہاتھ میرے کندھے پر رکھ دیا،گویا اس وقت اس کی دعائیں ،اس کا حوصلہ ،اس کی قوت سب کچھ مجھے مل گیا تھا ۔میں اکیلا نہیں تھا ہم دو تھے ۔اور یہ سنائپرز کا خاص انداز ہوتا ہے ۔کسی بھی مشکل فائر کے وقت اسے اپنے ساتھی کا جذباتی سہارا چاہیے ہوتا ہے ۔اور پھر سردار کا ہاتھ مجھے اپنے مشفق استاد عمر دراز کا ہاتھ لگا ۔اس کے ساتھ میری سماعتوں میں استاد عمر دراز کی سرگوشی گونجی ….

”ذیشان بیٹا!….ناممکن صرف وہ کام ہے جس کے بارے سوچا نہ جا سکے ۔پیٹر سمتھ نے اٹھارہ سو میٹرسے کامیاب فائر کیا تھااور تم نے بھی یہ کر دکھایا،لیکن یاد رکھو ررینج ماسٹر کی کارگر رینج دو ہزار میٹر ہے ۔اورایک سنائپر کو رسک لیتے رہنا چاہیے ۔ورنہ اس کے پاس صرف ہار کا آپشن بچے گا ۔ اور ہارنا تو دنیا کا آسان ترین کام ہے ۔ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ جاو ¿؟…. ہار جاو ¿ گے ۔“

میرا ہاتھ ہدف کو حرکت دینے والے بٹن کی طرف بڑھا۔بٹن پریس ہوتے ہی ہدف آگے کو سرکنے لگایہاں تک کہ سکرین پر انیس سو میٹر کا ہندسہ چمکنے لگا تھا۔اگر میں انیس سو سے گولی ہٹ کر لیتا تو مجھے نو نمبر ملتے اورسوا پچیس نمبروں کے ساتھ ہم پہلی پوزیشن حاصل کر لیتے۔

اپنی جسمانی ہیئت درست کر کے میں نے رائفل کے بٹ کو اپنے دائیں کندھے میں پھنسایا، بایاں ہاتھ بٹ پر رکھ کر میں نے رائفل کو مضبوطی سے جکڑا،اپنی بائیں آنکھ بند کر کے میں نے دایاں گال مخصوص جگہ پر ٹیکا ۔آنکھ کو ٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسے سے برابر فاصلے ایڈجسٹ کیا۔اورمیری دائیں آنکھ کی دیدٹیلی سکوپ سائیٹ کے عدسوں سے گزرتی ہوئی انیس سو میٹر دور موجود ہدف پر جا رکی ۔میں نے شست درمیانی نقطے سے ذرانیچے لی تھی کیونکہ اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے فائر ہونے والی گولی درمیانی نقطہ سے چند انچ اوپر لگی تھی ۔دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی نے ٹریگر کے گرد اپنا گھیرا تنگ کیا ۔اور پھر سانس روکتے ہوئے میں نے ٹریگر پریس کر دیا ۔اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی آنکھیں بند کرکے اپنا ماتھا زمین پر ٹیک دیا ۔بالکل خاموش چھا گئی تھی ۔

اور پھراس خاموشی کو میجر جیمس کی پاٹ دار آواز نے توڑا ۔

”ناقابل یقین!….“اور اس کے ساتھ میرے کانوں میں تالیوں کی آواز گونجی ۔تمام سنائپرز آہستہ آہستہ اسی فائرنگ اڈے کے قریب جمع ہو گئے تھے ۔

”مبارک ہو ذیشان بھائی !….“سردار خان کی خوشی سے چہکتی ہوئی آواز نے میرے کانوں میں رس انڈیلا۔اور میں گہرا سانس لے کر کھڑا ہو گیا ۔سردار خان پر جوش انداز میں مجھ سے لپٹ گیا تھا ۔ میں نے سکرین کی جانب نگاہ دوڑائی۔یہ گولی پہلے والی دونوں گولیوں کے درمیان لگی تھی ۔

سردار خان سے گلے مل کر میں جیسے ہی آگے بڑھا ،میجر جیمس نے مجھے بانہوں میں بھرکر میرا ماتھا چوم لیا ۔اور اس کے بعد فرداََ فرداََ تمام ملنے لگے ۔شری کانت اور راج پال وہاں سے کھسک لیے تھے کہ کوشش کے باوجود مجھے نظر نہ آئے ۔جینیفر البتہ ایک جانب کھڑی ہونٹ کاٹ رہی تھی ۔اس نے گہری نظروں سے میری جانب دیکھا ضرور تھا مگر مبارک باد دینے آگے نہیں بڑھی تھی ۔میں نے ایک لمحے کے لیے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پھر اپنی رائفل کی جانب بڑھ گیا ۔کیونکہ میجر جیمس نے واپسی کا اعلان کردیا تھا۔

اپنی رائفل کو بیگ میں رکھتا ہوا سردار خان دوبارہ مجھ سے لپٹ گیا ۔

”شکریہ ذیشان بھائی !….تم نے مجھے بہت بڑی شرمندگی اور پشیمانی سے بچا لیا۔“

”نہیں سردار !….شکریہ تمھارا کہ مجھے یہ موقع فراہم کیا ۔ورنہ دوسری صورت میں، میں کبھی بھی اتنا بڑا رسک نہ لے پاتا۔“

” ان بنیوں کی شکلیں تواس وقت دیکھنے والی تھیں جب تم اٹھارہ سو میٹر سے دوسری گولی بھی ہٹ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے ۔“

”ویسے نظر نہیں آ ئے ؟“

”نظر تو اب وہ کافی دن تک نہیں آئیں گے ؟“سردار خان نے قہقہہ لگا کر کہا۔اور ہم پارکنگ میں کھڑی لگژری بس کی طرف بڑھ گئے ۔

٭٭٭

اتوار کا دن ہم دن چڑھے تک سوتے رہے ۔اٹھے تو دوپہر کے کھانے کا وقت تھا ۔حوائج ضروریہ سے فارغ ہو کر ہم ڈائیننگ روم کی جانب بڑھ گئے۔وہاں ہمیں بس چند آدمی ہی نظر آئے ۔ جاپانی لی زونا اور ساتھی کے ہمراہ موجود تھی ۔مجھے دیکھتے ہی وہ مسکرا نے لگی ۔

”لو جی !….تمھاری کارکردگی دیکھ کر لڑکیاں کافی متاثر ہوئی ہیں ۔“

”یہ تو ہر کسی کو ہنس کر ملتی ہے ۔بہت سادہ سی ہے ؟“اسے کہہ کر میں نے لی زونا اور اس کے ساتھی کو ”ہیلو۔ “ کہا۔

”مجھ سے تو کبھی ہنس کر نہیں ملی ؟نہ کبھی بات ہی کی ہے ؟“سردار خان نے منہ بنایا۔

”اردو یا پشتو بولنا اسے نہیں آتا،جاپانی اور انگلش سے تم ناواقف ہو تو اسے اپنی ہنسی ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے بھلا؟“

”کیسے ہومسٹر ذیشان !“ہمارے کرسیاں سنبھالتے ہی لی زونا نے پوچھا۔

”بالکل ٹھیک ۔ہوں سسٹر!“میں نے خوش دلی سے کہا۔

”ویسے اگر میں جاپانی سیکھ لوں تو ؟“سردار خان نے میرے کان میں سرگوشی کی ۔

”کیا فائدہ ؟….جب تک تم جاپانی زبان سیکھوگے لی زونا بوڑھی ہو چکی ہو گی ۔“

”تم میرے بارے کیاکہہ رہے ہواپنے ساتھی کو ؟“میرے ہونٹوں سے اپنا نام سن کر لی زونا نے دلچسپی سے پوچھا۔

میں نے بغیر لگی لپٹی رکھے کہا۔ ”میرا ساتھی جاپانی زبان سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا تھا ….تو میں نے مشورہ دیا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ جب تک تم جاپانی زبان سیکھو گے لی زونا بوڑھی ہو چکی ہو گی ؟“

”ہا….ہا….ہا“لی زونا اور مان ین لی نے زوردار قہقہہ لگایا۔

”محترم!…. یقینا تم نے اصل بات پھوٹ دی ہو گی ؟اسی لیے یہ دونوں اتنا زور سے ہنسے ہیں؟“سردار نے کہا۔”ویسے سودا گھاٹے کا نہیں ہوا ،ہنستے ہوئے یہ اور بھی خوب صورت لگتی ہے ۔“

”اسے بتا دوں ؟“

”کہہ دو ،میری صحت پر کیا اثر پڑتا ہے ؟بات بگڑنے لگی تو میں مکر جاو ¿ں گا۔ انھیں کون سا اردو زبان سمجھ میںآتی ہے ؟“

”ویسے تمھاراساتھی چاہے تو میں اسے بوڑھا ہونے سے پہلے جاپانی زبان سکھا سکتی ہوں۔“لی زونا نے شرارت بھرے لہجے میں کہا ۔

میں نے اس کی بات کا ترجمہ سردار کے سامنے دہرایا۔

”مکمل زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں ؟بس اتنا ہی سکھا دے کہ کسی کو آئی لو یو کیسے کہتے ہیں ؟“

اور میرے منہ سے سردار کا جواب سن کر مان ین لی تو زور زور سے ہنسنے لگا البتہ لی زونا شرما کر کہنے لگی ۔

”شکل سے تو بہت بھولا لگتا ہے ؟واقعی میں یہ سب کچھ اسی نے کہا ہے ؟ یا تم اپنی طرف سے کہے جا رہے ہو ؟“

”تمھیں کیسے یقین آئے گا ؟“

”اچھا چھوڑیں ؟“وہ اپنے سامنے دھری پلیٹ کی طرف متوجہ ہو گئی ۔

”کیا کہہ رہی ہے ؟“سردار خان نے بے تابی سے پوچھا ۔

”خان صاحب!….میرا خیال ہے چنارے بیگم کے ہاتھوں حرام موت مرنے سے بہتر ہے تم کسی مشن میں جامِ شہادت نوش کرو؟“

”اس میں چنارے بیگم کہاں سے آن ٹپکی ؟….اور اسے بھلا یہ کون بتائے گا ؟“

”تو کیا لی زونا کے ہاتھوں گولی کھانی ہے ؟کافی اچھا نشانہ ہے ۔کل دس پوائنٹ حاصل کیے ہیں محترما نے ؟“

”اب تم نے پھر اس کا نام لے لیا اور وہ ہماری جانب دیکھ رہی ہے ؟کیا سوچ رہی ہو گی ہمارے بارے ؟“لی زونا کو اپنی جانب گھورتا پا کر سردار خان پریشانی سے بولا۔

میں نے اطمینان سے کہا۔”ہمارے نہیں ؟….تمھارے بارے خا ن صاحب!“

لی زونا نے ٹشو اٹھا کر ہاتھ صاف کیے اور اپنی نشست سے اٹھتے ہوئے بولی ۔”ویسے میں کافی بہت اچھی بناتی ہوں ذیشان صاحب!“مان ین لی بھی اس کی تقلید میں کھڑا ہو گیا تھا ۔

”ضرور ۔“میں نے خوش دلی سے کہا۔”ڈنرکے بعد ہم تمھاراٹیسٹ لینے آئیں گے ؟“

”سر آنکھوں پر ۔“وہ ایک گہری نگاہ سردار خان پر ڈال کر مان ین لی کے ساتھ چل پڑی۔

”ضرور میرے بارے کچھ برا کہا ہو گا؟جبھی تم بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کر رہے تھے؟“ان کے ڈائیننگ ہال سے نکلتے ہی سردار شکوہ کناں ہوا ۔

”نہیں یار!….وہ کافی پینے کی دعوت دے رہی تھی ؟“

”تو ٹھیک ہے نا ؟….انکار کیوں کر دیا ؟“سردار خان نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیے تھے ۔

”انکار کہاں کیا ہے ؟….رات کے کھانے کے بعد جائیں گے ؟“

”چلو پھر ٹھیک ہے ۔“سردار خان دوبارہ کھانے کو جڑ گیا ۔

٭٭٭

سنائپرزلڑکیاں علاحدہ بلاک میں تھیں۔اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جینیفرلی زوناکی روم میٹ ہے تو میں کبھی بھی وہاں نہ جاتا۔جس وقت ہم دونوںلی زونا کے کمرے میں پہنچے وہ اکیلی بیٹھی ٹی وی پر کوئی جاپانی فلم دیکھ رہی ۔

”آئیں ذیشان صاحب!“اس نے فرداََ فرداََ ہم دونوں سے مصافحہ کیا۔ ”بیٹھیں ۔“اس نے بیڈ کی جانب اشارہ کیا ۔

ہم دونوں اس کے بیڈ سے متصل پڑے بیڈ پرگئے ۔”مان ین لی نظر نہیں آ رہا ؟“میں نے بیٹھتے ساتھ پوچھا ۔

”ابھی اپنے کمرے کی طرف گیا ہے ؟اسے نیند آئی ہوئی تھی ۔“

”اگر تم نے بھی سونا ہو تو ….؟“

وہ قطع کلامی کرتے ہوئے سرعت سے بولی ۔”نہیں نہیں ….میں اتنا جلدی نہیں سوتی ۔“

سردار نے میرے کان میں سرگوشی کی ۔”مجھے اس کی صورت دکھانے ساتھ لائے ہو ؟“

میں نے مسکراتے ہوکہا۔”کیا یہ کم ہے ؟“

مجھے ہنستے دیکھ کر لی زونا بھی اپنے ہونٹوں پر تبسم بکھیرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔”کیا بات ہو رہی ہے ؟“

” کہہ رہا ہے مجھے اپنا مترجم بنا کر لایا ہے اور میں نے خودتم سے گپ شپ ہانکنی شروع کر دی ہے؟“

”اچھا بڑا تیز ہے یہ ؟“وہ معنی خیز لہجے میں کہتے ہوئے کھڑی ہوئی ۔”میں کافی بنالوں ؟“وہ کونے میں بنے کیبنٹ کی طرف بڑھ گئی جہاں الیکٹرک کیتلی رکھی ہوئی تھی۔

”کیا کہہ دیا اسے ؟“

”وہی جو تم نے کہا تھا۔“

”ساتھ اس کا جواب بھی بتا دیا کرو ؟“

”کافی بنا رہی ہے ۔“

”کافی تو ہم اپنے کمرے میں بھی بنا کر پی سکتے تھے ؟“سردار نے منہ بنایا۔

اسی وقت کمرے کا دروازہ کھول کر جینیفر اندرداخل ہوئی ۔ہم دونوں پر نظر پڑتے ہی وہ ٹھٹھک کر رک گئی تھی ۔

”جینی آو ¿….“اسے دیکھتے ہی لی زونا خوش دلی سے بولی ۔”مہمانوں کے لیے کافی بنا رہی ہوں تم لینا پسند کرو گی ؟“

جینیفرنے اس کی بات کا جواب دیے بغیر سخت لہجے میں کہا۔”یقینا مہذب لوگوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ کسی کے بیڈ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھنے کی زحمت کریں ۔“

”جینی !….سوری تمھیںبرا لگا ۔اصل میں انھیں میں نے یہاں بیٹھنے کو کہا تھا ۔“اس کا تلخ لہجہ سن کر لی زونا گھبرا گئی تھی ۔

میں سردار کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا ہوگیا ۔”ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ تمھارا بیڈ ہے ورنہ کبھی ایسی جسارت نہ کرتے ؟“

”عذرِ گناہ بد تر از گناہ ؟“جینیفر نے انگریزی میں جو کچھ کہا اس کا بامحاورہ ترجمہ یہی بنتا تھا۔

”اوکے لی زونا !….پھر کبھی سہی ؟“لی زونا کو کہہ کر میں نے سردار کو چلنے کا اشارہ کیا ۔

”پلیز ذیشان !….بیٹھیں نا؟….میرے بیڈ پر بیٹھ جائیں یا یہ کرسیاں لے لیں؟“ لی زونا نے ایک کونے میں پڑی ہوئی دو کرسیوں کی جانب اشارہ کیا ۔وہ جینیفر کے رویے اور ہمارے ردعمل پر پریشان ہو گئی تھی ۔

”نہیں شکریہ ۔تمھاری طرف سے کافی ہو گئی ۔“یہ کہ کر میں سردار کے ساتھ باہرجانے لگا۔ میری طرف سے سخت جواب نہ ملنے پر جینیفر نے مزید کوئی بات نہیں کی تھی ۔بس خاموش کھڑی کڑے تیوروں سے مجھے گھورتی رہی ۔

”اب کیا ہوا ؟….“باہر نکلتے ہی سردار خان نے معصومیت سے پوچھا۔”میں تو بس بے زبان جانوروں کی طرح بغیر کچھ جانے تمھارے پیچھے پیچھے چلتا رہتا ہوں؟“

”یار وہ کیپٹن صاحبہ کو ہماری وہاں موجودی پر اعتراض تھا ۔“

”تو وہ اس اکیلی کا کمرہ تو نہیں ہے ؟“

”بے شک نہ ہو ؟….مگر ہم وہاں خواہ مخواہ لڑائی جھگڑا تو نہیں کر سکتے تھے؟یوں بھی اسے اپنی ہار کا غم ہے ؟وہ کوئی ایسی بکواس بھی کر سکتی تھی کہ جسے شاید میں برداشت نہ کر پاتا اور بات بہت بڑھ جاتی۔“

”صحیح کہا ۔“سردار نے میرے ساتھ متفق ہونے میں تاخیرنہیں کی تھی ۔

٭٭٭

سوموار کے دن سنائپر کورس کی شروعات میجر جیمس میتھونی کے لیکچر سے ہوئی ۔

”تمام کو ایک بار پھر خوش آمدید۔لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کی سکھلائی کی ایک سنائپر کے لیے کارآمد سہی، مگر اس کے باوجود اس کی اہمیت اتنی زیادہ نہیں ہے کہ کوئی آدمی اس کے بارے مکمل جانکاری حاصل کرنے کے بعد اچھا سنائپر بننے کا دعوا کر سکے ۔ہراچھا سنائپر اچھا نشانہ باز ضرورہوتاہے ،مگر ہر اچھا نشانہ باز اچھا سنائپر نہیں ہو سکتا ۔سنائپنگ کے لیے نشانہ بازی کے علاوہ بھی بہت خوبیوں کی ضرورت پڑتی ہے ۔اچھا مشاہدہ ،قوت برداشت ،بہترین یاداشت ،بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت ،بھو ک، پیاس ،سردی، گرمی برداشت کرنے طاقت اور اس کے علاوہ بھی کافی کچھ ۔ابھی اگر میں مشاہدے اور یاداشت کی بات کروں تو میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ تمام لوگوں میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں ہوگا جو سامنے آکر کلاس کے ہر فرد کو اس کے نام سے پکار سکے ۔حالانکہ تم لوگ ایک ہفتے سے ساتھ ہو؟کیا میں غلط کہہ رہا ہوں ؟“میجر جیمس نے سوالیہ انداز میں اپنی طائرانہ نگاہ چاروں طرف گھمائی پہلی قطار میں بیٹھی جینیفر نے پیچھے مڑ کر میری جانب گہری نظروں سے دیکھا ۔ میں خاموش بیٹھا رہا ۔گو میں میجر جیمس کا دعوا غلط ثابت کر سکتا تھا ،مگر وہ میرا استاد تھا ۔اور مجھے میرے استادوں ہی نے اپنے استاد کا چیلنج قبول نہ کرنے کی ہدایت کی ہوئی تھی ۔میجر جیمس کی بات جاری رہی ….

”یہ میں نے صرف ایک مثال دی ہے ۔کافی حضرات کو شاید میری باتیں ہضم نہیں ہو رہی ہوں گی ؟اوراچھی یاداشت ،قوتِ برداشت وغیرہ انھیں فضول کی باتیں لگ رہی ہوں گی؟لیکن ذرا تصور کروشدید گرمی میں، بھاری گِلی سوٹ پہن کر، کسی تیار فصل میں ،براہ راست دھوپ کی زد میں لیٹے ہوئے سنائپر کا،جسے ہدف کے کے انتظار میں کئی گھنٹے بے حس و حرکت وہیں لیٹنا ہو ؟….اسے کتنی قوت برداشت کی ضرورت پڑے گی ؟….یا وہ سنائپر جو کسی انجان علاقے سے گزرتے ہوئے رستے کی نشانیوں کو ذہن میں بٹھانے کی کوشش میں مصروف ہو تاکہ وہ واپس پلٹتے وقت رستا نہ بھول جائے ۔ ایسے وقت میں کیسی یاداشت درکار و گی ؟……..“ میجر جیمس مثالوں کے ذریعے اپنی بات کی وضاحت کرتا گیا۔

پہلا مکمل پیریڈ اس نے لیکچر میں گزار دیا تھا ۔بریک میں سورن منگ میرے قریب آ کر مستفسر ہوا ….”ارے پاکستانی بھائی !….تم میجر جیمس کا دعوا غلط کر سکتے تھے ؟“

”فائدہ ؟“میں نے مسکرا کر پوچھا۔

”اس کے دل میں تمھاری دھاک بیٹھ جاتی ؟“

”شاید ….“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔”مگر عزت ختم ہو جاتی ۔“

”بھلا وہ کیسے ؟“

”سورن بھائی !….استاد کاچیلنج قبول کرنے کے لیے نہیں ہوتا؟سمجھانے کے لیے ہوتا ہے ۔ ایک میرے سامنے آنے سے میجر جیمس کی بات میں وہ اثر نہ رہتا جو اب طلبہ پر پڑا ہو گا۔“

”صحیح کہا ۔“سورن منگ اثبات میں سر ہلا کر میری پیٹھ تھپتھائی اور اپنے ساتھی کی جانب بڑھ گیا ۔سردار اس وقت جمیل خان اور سکندر علی خان کے ساتھ پشتو میں مصروفِ گفتگو تھا ۔

اسی وقت لی زونا نے میرے قریب آکر ”ہیلو “کہہ کر مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔

”کیسی ہو ؟لی زونا !“میں نے اس کا ملائم ہاتھ تھام کر پوچھا۔

”میں رات والے واقعے پر معذرت خواہ کرنے آئی ہوں ۔نہ جانے جینیفر کو کیا ہو گیا تھا ؟وہ ایسی بد اخلاق ہے تو نہیں ؟“

”کوئی بات نہیں ۔اور معذرت کیوںکر رہی ہو ؟“

”تم میرے مہمان تھے نا ؟“

اسی وقت سردار خان افغانیوں سے گفتگو چھوڑ کر ہمارے قریب آ گیا ۔

”ارے تم تو پشتو تازہ کر رہے تھے نا ؟“اسے دیکھ کر میں نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔

”اوہ ہاں ….مگر اچانک ایک ضروری بات یاد آگئی تھی ۔“

”کیا ؟“

”یہی کہ مجھے انگریزی سیکھ لینی چاہے ۔“یہ کہہ کر کو لی زونا کو مخاطب ہوا ۔”ہیلو !….مائی نیم از سردار خان اینڈ آئی بیلانگ ٹو پاکستان۔“اس کی پٹھانی لہجے میں بولی گئی انگلش سن کر لی زونا کا دلکش قہقہہ فضا میں گونجا۔

”اینڈ ائی ایم لی زونا فرام جاپان۔“وہ سردار کے انداز ہی میں بولی تھی ۔

”یس یس آئی نو ….“سردار نے جلدی سے سر ہلا یا اور پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔”آگے کیا کہوں ؟“

”کچھ بھی کہہ دو ،اس نے کون سا برا ماننا ہے ؟“

”سردار!…. مجھ سے بات کرو نا ؟“لی زونا نے ٹھہرٹھہر کرچھوٹا سا فقرہ ادا کیا۔

”مائی انگلش از فنش جی !….آئی سپیک لٹل لٹل انگلش ۔“اس مرتبہ لی زونا کے ساتھ میں بھی اپنی ہنسی ضبط نہیں کر پایا تھا ۔اور ہمارے قہقہے سن کردائیں بائیں کھڑے کافی لوگ ہماری جانب متوجہ ہو گئے تھے ۔

”ویری انٹرسٹنگ ….“لی زونا نے ہنستے ہوئے سردار کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا تھا ۔

”تھینک یو ،تھینک یو۔“کہہ کر وہ مجھے مخاطب ہوا ۔”ٹھیک کہا ہے نا ؟“

”بالکل درست ۔“میں نے انگوٹھا اٹھا کر اسے شاباش دی ۔

اسی وقت بریک ختم ہونے کی گھنٹی بجی اور ہم کلاس روم کی طرف بڑھ گئے ۔

ٹی بریک کے وقت بھی لی زونا ،سردار خان کو ڈھونڈتے ہمارے قریب آ گئی تھی ۔سردار مجھ سے چھوٹے چھوٹے انگلش کے فقرے پوچھ کر اس سے گپ شپ کرنے لگا ۔خود جاپانیوں کی انگلش بھی اتنی فصیح نہیں ہوتی ،مگر لی زونا کو انگلش پر کافی عبور تھا ۔وہ سردار خان کی ذات میں بھی کافی دلچسپی لے رہی تھی ۔

ٹی بریک کرتے ہوئے اس نے سردار خان کو سکاچ پینے کی دعوت دی تھی ۔مگر سردار نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔

”نو…. نو…. لی زونا!….ڈرٹی تھنگ ۔“

وہ ہنسی ۔”بٹ وائے ؟“

سردار میری جانب مڑا ۔”اب کیا کہوں ؟“

میں نے انگریزی میں کہا۔”کہہ دو ہمارے مذہب میں شراب پینا حرام ۔“

چونکہ لی زونابھی میری بات سن رہی تھی اس لیے سردار کے دوبارہ دہرانے سے پہلے وہ مجھے مخاطب ہوئی ۔

”لیکن ذیشان !….کھانے پینے کی چیز کا مذہب سے کیا تعلق ؟“

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔اور ایک مسلمان کے لیے صرف عبادت کرنا ضروری نہیں ہوتا ،بلکہ ہر کام میں مذہب سے پوچھ کر قدم اٹھا نا ہوتا ہے ۔“

اس نے دلچسپی سے پوچھا۔”تو کیا تم ہر کام میں مذہب کی مکمل پیروی کرتے ہو ؟“

”ہم دونوں کی حد تک تو میر ا جواب نفی میں ہوگا ۔البتہ ہمارے ملک میں ایسے لاکھوں مسلمان موجود ہیں جو ہر کام میں مذہب کی شمولیت کو لازم خیال کرتے ہیں ۔“

”جب ہر بات پر عمل نہیں کرتے تو شراب پینے میں کیا مضائقہ ہے ؟“

”کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن سے خصوصی طور پر منع کیا گیاہے ۔اور ان میں سے ایک شراب بھی ہے ۔“

”یار!….اسے کن باتوں میں لگا لیا ہے ؟“سردار شکوہ کناں ہوا ۔”مجھے انگلش سیکھنے دو ؟“

”انگلش بولنا مجھے بھی آتا ہے ؟“میں نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔

”ٹھیک ہے مگر لی زونا کی باتیں میری سمجھ میں زیادہ آتی ہیں ۔“

لی زونا پوچھنے لگی ۔”کس بحث میں پڑ گئے ہو؟“

”موصوف نے تم سے انگلش سیکھنی ہے ؟ا س لیے براہ مہربانی جناب سے مخاطب ہوں ۔“لی زونا کو کہہ کر میں نے کرسی سے ٹیک لگا کر لگا لی ۔ جبکہ وہ ہنستے ہوئے سردار خان کی طرف متوجہ ہو گئی ۔اور بریک کے خاتمے تک مجھے سردار خان کی فصیح و بلیغ انگلش سے بہرہ مند ہونا پڑا۔

٭٭٭

پہلا ہفتہ ہم کلاس روم تک محدود رہے ۔انسٹرکٹرز لیکچر کے ساتھ مختلف وڈیوز وغیرہ دکھا کر ہمیں سنائپنگ سے متعلق زیادہ سے زیادہ آگاہی دیتے رہے ۔اس کے باوجود کہ ہم دونوں عملی طور پر بھی سنائپنگ کر چکے تھے ،وہاں بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا تھا ۔ہمیں جدید سنائپر رائفلوں کو دیکھنے ،سمجھنے اور استعمال کرنے کا موقع ملا ۔مختلف ممالک کے گِلی سوٹوں کو دیکھنے اور پہننے کا موقع ملا ۔سرکشوں اور باغیوں کے خلاف کاروائیوں میں ہمیں ایسا ایمونیشن مہیا کیا گیا جسے پینٹ ایمونیشن کہتے تھے ۔نرم پلاسٹک کے بُلٹ میں سرخ رنگ کا پینٹ بھرکرتانبے کے کیس میں فٹ کیا گیا تھا۔یوں کہ فائر ہونے کے بعد گولی جس جگہ پر بھی لگتی سرخ رنگ کاان مٹ نشان چھوڑ جاتی ۔اس ایمونشن کو فائر کرنے کے لیے نقل بہ مطابق اصل سنائپر رائفلیں بھی موجود تھیں ۔مختلف حرکتی ہدفوں پر ہم اصل گولیاں فائر کرتے ۔مگر مقابلے وقت یا کسی عمارتی علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف ہونے والی کارروائی میں پینٹ ایمونیشن استعمال کرایا جاتا۔

اس دن ہمیں صبح ناشتے کے بعد ایک ایک راو ¿نڈ دے کر ہمیں اپنی پٹ (سنائپر کے زمین پر چھپنے کی جگہ )میں چھپ جانے کا حکم ملا ۔ہم جوڑیوں کی شکل میں تھے ۔کام یہ تھا کہ ہمیں سارا دن اس پٹ میں گزار کر ہدف کا انتظار کرنا تھا ۔ہدف کسی بھی وقت نمودارہو سکتا تھا ۔ہر جوڑی کو ان کے مطلوبہ ہدف کی نشان دہی اسی وقت کی جاتی ۔ہدف نمودار ہونے کے ایک منٹ کے اندر ہدف کو نشانہ بنانا تھا ۔کھانے پینے کے نام پر ہوامیں موجود آکسیجن اور صبر کے گھونٹ ہی تھے ۔ہماری حرکات پر نظر رکھنے کے لیے ہر پٹ پر ایک کیمرہ بھی نصب تھا جو ذرا سی بے قاعدہ حرکت کو اجاگر کرکے سنائپر کے کارکردگی نمبرز میں نمایاں کمی کرا سکتا تھا ۔

علاقہ سرسبز تھا اس لیے ہم نے پٹ بناتے وقت سبزے کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا تھا۔

”ویسے ،کسی نے اپنی مرضی کی جوڑی بنانے اجازت نہیں دی ورنہ ضرور میں اتنا افسردہ نہ ہوتا؟“سردار نے پٹ میں جگہ سنبھالتے ہی موشگافی کی ۔

”کچھ لوگوں کی نیت کے بارے انسٹرکٹر زکو اچھی طرح اندازہ ہے ؟وہ ایسا غلط فیصلہ کبھی بھی نہیں کر سکتے ؟“

سردارتر کی بہ ترکی بولا۔”میں نے تمھاری اور جینیفر کی بات نہیں کی تھی کہ تم نیت کو بیچ میں لے آئے ؟“

”یہ بھی خوب کہی؟….جبکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ جینیفر اور میں ایک دوسرے کو کتنا نا پسند کرتے ہیں؟“

”خوش فہمی ہے جناب کی ؟….کیپٹن صاحبہ !….ہر وقت تمھاری ٹوہ میں لگی رہتی ہے ؟‘

”ہاں ،اسے خدا واسطے کا بیر جو ہوا ؟“

”نہیں ،وہ چاہتی ہے تم اس کے آگے پیچھے پھرو ؟“

”راج پال اور شری کانت کم ہیں کیا ؟“

”وہ دونوں تو ہیں ہی بونگے ،کئی بار لی زونا کے ارد گرد بھی منڈلا چکے ہیں ؟“

”تمھارا مطلب ہے لی زونا کے گرد منڈلانے والے بونگے ہوتے ہیں ؟“

”بس میرے پیچھے پڑے رہو ؟“الفاظ سردار کے ہونٹوں پہ تھے کہ گولی چلنے کی آواز آئی ۔یقینا کسی کے سامنے اس کا ٹارگٹ نمودار ہو گیا تھا ۔

”لیں جی ؟کسی بھائی کا انتظار تو اختتام پذیر ہوا ؟“

”تم شاید بھول رہے ہو کہ ہم نے جوڑیوں میں کارروائی کرنی ہے ؟“

”ہاں یہ تو ہے ۔“سردار نے اثبات میں جواب دیا۔

اچانک میرے سامنے پڑے میسج رسیور پر ہلکی سی ٹون کے ساتھ ایک میسج نمودار ہوا۔

”سردار خان کے لیے ،نوے ڈگری،فاصلہ پانسو میٹر ،سرخ رنگ کا غبارہ ،وقت ایک منٹ۔“

میں نے پٹ بناتے وقت شمال کی سمت کے تعین کے لیے ایک پتھر رکھ لیا تھا ۔اور شمال کی سمت اتفاق سے ہماری ناک کی سیدھ میں بن رہی تھی ۔

میں نے فوراََ سردار کو مطلع کیا ۔”سردار پورا دائیں طرف ،پانسو میٹر کے فاصلے پر نظر آنے والا سرخ غبارہ تمھارا ہدف ہے ۔تمھارا وقت شروع ہے ۔“

”اوکے باس !“بغیر کسی پریشانی کے سردار نے ٹیلی سکوپ سائیٹ پر پانسو میٹر کی رینج لگا ئی اور دائیں سمت مڑ کر دور نظر آنے والے غبارے پر شست باندھ لی ۔ہر سنائپر کے پاس فائر کرنے کے لیے ایک منٹ کا وقت تھا۔میری نگاہ گھڑی پر تھی سردار کو پینتیس سیکنڈ ہو گئے تھے ۔

”اطمینان سے سردارتمھار پاس پچیس سیکنڈ ہیں ۔“اسے کہتے ہوئے میری نگاہ گھڑی کی سیکنڈز والی سوئیوں پر تھی ۔

”پندرہ سیکنڈ بقایا….پچاس ……..“اور اس کے ساتھ ہی سردار نے ٹریگر دبا دیا تھا ۔گولی چلنے کے دھماکے ساتھ میں نے غبارہ پھٹتے دیکھا۔

”شاباش سردار !….“میں نے اسے داد دیتے ہوئے کہا ۔”لیکن وقت زیادہ لگا ہے ۔

سردار نے منہ بنایا۔”تم خود کہہ رہے تھے کافی وقت ہے اور اب کہہ رہے ہو کہ وقت زیادہ لگاہے؟“

”وہ تو میں اس لیے کہہ رہا تھا کہ کہیں گولی مس ہی نہ کر دو؟ورنہ ہر پانچ سیکنڈ کا ایک بونس نمبر ہے ۔“

”تو کیا جس نے پہلے پانچ سیکنڈ میں نشانہ بنا لیا اسے گیارہ بونس نمبر ملیں گے ؟“

”بالکل !“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

”پہلے کیوں نہیں بتایا؟“

”بتایا تھا حضور!….مگر اس وقت تم لی زونا سے محو گفتگو تھے تو اس غریب کی بات پر کہاں کان دھرتے ۔“

”یار !سچ کہوں تو لی زونا بالکل چنارے بیگم کی ڈپلی کیٹ لگتی ہے ؟“

”جی جی بالکل ….تمام لڑکیاں ایک دوسرے کی ڈپلی کیٹ ہی ہوتی ہیں بس نین نقش کا فرق ہوتا ہے ۔ورنہ تو وہی دو آنکھیں ،دو کان ،ایک ناک ،ایک ٹھوڑی اورباقی کا پورا جسم ؟“

”تم میرا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہے ہو؟“

”یہ بھی جناب کی غلط فہمی ہے ۔ورنہ تو میں تمھاراٹھیک ٹھاک مذاق اڑا چکا ہوں ۔“

اسی طرح کی گپ شپ میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا تھا۔سہ پہر کے قریب میسج رسیور پر میرے نام کا پیغام ایک ہلکی سی ٹون کے ساتھ اجاگر ہوا ۔

”ذیشان حیدر کے لیے ،دو سو سترڈگری،فاصلہ چارسو میٹر ،سبز رنگ کا غبارہ ،وقت ایک منٹ۔“

پیغام پڑھتے ہی میں فوراََ بائیں ہاتھ لیٹا ۔ایلی ویشن ناب جو کہ سردار کے فائر کے بعد میں نے پانسو میٹر پر لگا دی تھی۔اسے چار سو میٹر پر سیٹ کرتے ہی سائیٹ کے ساتھ آنکھ لگائی اور بغیر کسی وقفے کے سانس روکتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔رائفل کے دھماکے ساتھ غبارہ پھٹنے کا دھماکا شامل تھا ۔

”تیرہ سیکنڈز۔“سردار نے بغیر توقف کے اعلان کیا ۔

”میرا خیال ہے بہترین ہو گیا ؟“ایک گہرا سانس لے کر میں ڈھیلا پڑ گیا تھا ۔

سردار نے پوچھا۔”اب کیا کریں گے ؟“

”انتظار۔“میں نے کہا۔”جب تک واپسی کا حکم نہیں ملتا ہم پٹ نہیں چھوڑ سکتے ؟“

اگلے آدھ گھنٹے میں ہمیں واپسی کا حکم مل چکا تھا ۔ہم سارے بسوں کی پارکنگ میں جمع ہونے لگے۔وہاں سے ہماری رہایش تک کاایک گھنٹے کا سفر تھا ۔ تمام کی گنتی پوری ہوتے ہی ہمیںبسوں میں سواری کا حکم ملا ۔میں بس میں گھس کے شیشے والی طرف بیٹھ گیا ۔سردار ابھی تک سوار نہیں ہونے پایا تھا۔میں باہر دیکھنے لگا ۔اسی وقت کوئی میرے ساتھ آکر بیٹھا ۔میں نے سمجھا سردار ہے ۔باہر جھانکتے ہوئے مجھے دو غبارے نظر آئے ۔

”سردار !….وہ دیکھودوغبارے نظر آ رہے ؟یقینا یہ کچھ لوگوں کے ناکام فائر کا اعلان کر رہے ہیں ۔“

جواباََ دلکش انداز میں گلا کھنکارا گیا۔میں نے چونک کر پلٹا ۔اور ششدر رہ گیا ۔میرے ساتھ والی سیٹ پر کیپٹن جینیفر بیٹھی تھی ۔

اسے دیکھتے ہی میں بے ساختہ کھڑا ہوگیا۔

”پلیز تھوڑا رستا دیں ؟“مجھے اس کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہیں تھا۔

مجھے رستا دیے بغیر اس نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔”ذی !….تمھیں نہیں لگتا کہ ہمیں اب صلح کر لینی چاہیے ؟“

”میرا تم سے کوئی جھگڑا ہی نہیں ہے کیپٹن صاحب ؟“بے رخی سے کہتے ہوئے میں نے اپنے گھٹنے سے اس کی ٹانگوں کو ٹہوکا دیا تاکہ میرا رستا چھوڑ دے ۔

”اگر جھگڑا نہیں ہے تو پھر بیٹھیں ۔“اس نے بے تکلفی سے میرے بازو کو پکڑ کر کھینچا ۔

مگر میں ایک جھٹکے سے بازو چھڑا کر اسکی ٹانگو ں کے اوپر سے گزر کر باہر آ گیا ۔سردار مجھے کہیں نظر نہیں آ رہا تھا ۔یقینا وہ کسی دوسری بس میں سوار ہو گیا تھا ۔اور اس میں تو شک کی کوئی گنجایش ہی نہیں تھی کہ وہ لی زونا کے ساتھ تھا۔

میری اس حرکت کاکوئی بھی نوٹس نہیں لے پایا تھا کہ ابھی تک تمام لوگ سیٹوں پر بیٹھ نہیں پائے تھے ۔

دائیں بائیں دیکھنے پر مجھے صرف ایک سیٹ خالی نظر آئی ۔مختصر سا سکرٹ پہننے والی یہودن اینڈریا برٹن ،گلیِ سوٹ میں کافی عجیب لگ رہی تھی ۔

”آفیسر !کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟“وہ لیفٹیننٹ تھی ۔اس سے پوچھے بغیر وہاں بیٹھنا مجھے مناسب نہیں لگا تھا۔

”مجھے خوشی ہو گی مسٹر ذیشان!“اس نے خوش دلی سے سر ہلایا۔

”شکریہ ۔“کہہ کر میں بیٹھ گیا ۔

”آج میں نے سات بونس نمبر لیے ہیں ؟“اس نے خوشگوار لہجے میں مجھے اطلاع پہنچائی ۔

”ویلڈن !….“میں نے تعریفی لہجے میں کہا ۔”اورتمھارے بڈی نے ؟“

”تین ۔“

”بہت خوب۔“

”اور تم؟“

میں نے مسکرا کر کہا ۔”بس ،غبارہ پھاڑ لیا تھا ۔“

”شاید تم بتانا نہیں چاہتے ۔“

”کیا ؟“

”یہی کہ آ پ نے کتنے سیکنڈز میں گولی فائر کر لی تھی؟“

”میرا ساتھی تو تیرہ سیکنڈ بتا رہا تھا ؟“

وہ گہرا سانس لیتے ہوئے بولی ۔”میں جانتی تھی ،میرے خوشی زیادہ دیر رہنے والی نہیں ہے ؟“

”میں تو تمھاری خوشی کو کل تک برقرار رکھناچاہ رہا تھا ؟تم نے خود ہی اگلوا لیا ؟“

اس نے معصومیت سے پوچھا۔”ویسے ہم آپس میں بڈی نہیں بن سکتے ؟“

”شایدتم مسٹر پاسکو کے ہاتھوں میرا قتل کرانا چاہتی ہو ؟“میں نے خوفزدہ ہونے کی اداکاری کی ۔”پورا باڈی بلڈر ہے ۔معلوم نہیں کیا کھاتاہے ؟“

”ہا….ہا….ہا“اس کا سریلا قہقہہ گونجا ۔جینیفر پیچھے مڑ کر قہر آلود نظروں سے ہمیں گھورنے لگی تھی ۔

”یہ کیپٹن صاحبہ کو کیا ہوا ؟“اینڈریا حیرانی سے پوچھنے لگی ۔

”کیا پتا ؟ تمھارا قہقہہ ان کی طبع نازک پرگراں گزرا ہو ؟“

”ہونہہ!….کیپٹن ہو گی امریکن آرمی کی ؟“اینڈریا نے منہ بنا کر کہا۔”ویسے پتا ہے کورس سے واپسی پر میں نے بھی کیپٹن کارینک لگا لینا ہے۔“

میں نے جلدی سے کہا۔”پیشگی مبارک ہو ؟“

”شکریہ ۔اور اس خوشی میںتمھیں ڈنر کرا سکتی ہوں ؟“

”نہیں آفیسر !….شکریہ ۔یوں بھی جب سے ہم آئے ہیں باہر نہیں نکلے ؟“

”پھر تو ڈنر اور ضروری ہو جاتا ہے ؟“وہ اصرار کرنے لگی ۔

”پھر کسی دن سہی ؟“میں نے جان چھڑائی ۔کیونکہ میں جانتا تھا کہ ڈنر کی شروعات کے ساتھ باہر جانے کا آغاز ہوجانا تھا جسے روکنا مشکل ہوجاتا۔اور ہمارے پاس اتنے اخراجات نہیں تھے کہ گوریوں پر لٹا سکتے ۔آرمی کے خرچے پر امریکہ میں کورس کے لیے جانا ایک علاحدہ بات تھی ۔ورنہ اپنی محدود تنخواہ میں تو ہم بس عزت کی روٹی کھا سکتے تھے ۔

”جیسے تمھاری مرضی ۔“اس نے مزید اصرار نہیں کیا تھا۔

رہایش پر پہنچ کر ہم نیچے اترے ۔اینڈریا نے پرجوش مصافحے کے ساتھ مجھے الوداع کہا اور میں اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا ۔

پارکنگ سے ہمارا کمرہ نزدیک ہی تھا۔کمرے میں گھستے ہی میں بیڈ پر بیٹھ کر اپنے جوتوں کے تسمے کھولنے لگا ۔اچانک دروازے پر دستک ہوئی ۔

”آجاو ¿؟“میں نے حیرانی سے کہا ۔کیونکہ سردار کبھی بھی دروازہ کھٹکھٹانے کی زحمت نہیں کرتا تھا ۔

دروازہ کھول کر جینیفر اندر داخل ہوئی ۔اسے دیکھ کر میں ششدر رہ گیا تھا۔

اند ر داخل ہوتے ہی وہ بغیر کسی تمہید کے بولی ۔”ذی !….تم نے اچھا کیا جو مس اینڈریا کے ساتھ ڈنر کی حامی نہیں بھری ۔میں تمھیں کبھی بھی اس کے ہمراہ جانے کی اجازت نہ دیتی ۔“

گہرا سانس لے کر میں نے اپنے غصے کو نارمل کیا ۔اور اس کی بات کا جواب دیے بغیر بایاں جوتا اتار کر دائیں جوتے کے تسمے کھولنے لگا۔

جاری ہے