ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر

قسط نمبر6

ریاض عاقب کوہلر

”یو….“وہ گالی بکنے لگی تھی مگر پھر نہ جانے کیا سوچ کر رک گئی اور لمحا بھرمجھے گھورنے کے بعد بگڑے ہوئے لہجے میں مستفسر ہوئی ۔”تمھاری گفتگو کا مطلب کیا ہے ؟“

”میرا خیال ہے ؟….میں نے تمھیں کوئی بات نہیں کی کیپٹن!“میں نے اطمینان بھرے لہجے میں جواب دیا۔

”مسٹر کانٹ،کو تو کی ہے نا ؟“اس نے شری کانت کے نام کا حلیہ بگاڑا ۔

”نہیں ….شری کانت نے ہمارا حال پوچھا اور میں نے بتا دیا کہ کل سے بہتر ہے ۔باقی وہ خود تمھاری ذات کو گفتگو میں گھسیٹ رہا تھا تو میرا جواب دینا تو بنتا تھا نا ؟“

”مسٹر ذی !….اپنی حد میں رہو ؟“

”کیپٹن جینیفر ہنڈسلے!….میرا نام ذیشان حیدرہے ۔اگر نام لینا نہیں آتا توپلیز مجھے مخاطب نہ ہوا کرو؟“

ایک لمحا مجھے گھورنے کے بعد وہ ایکسرسائز مشین کی طرف بڑھ گئی ۔

”Any problem friend?“سارجنٹ ریگن واچ ہم سے تھوڑا دور ایکسرسائز کر رہا تھا۔ہمارے درمیان تلخ کلامی سن کر اس نے میرے نزدیک آ کر پوچھا۔

”نہیں شکریہ دوست!….کیپٹن جینیفر ہنڈسلے کو کوئی غلط فہمی ہوئی تھی ۔“

”اوکے ۔“کہہ کروہ کندھے اچکاتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔

ریگن واچ کے واپس مڑتے ہی سردار نے پوچھا۔”یہ کیوں غصے میں لال پیلی ہو رہی تھی ؟“

میں نے شرارت سے کہا ۔”کہہ رہی تھی ؟ تمھارا ساتھی سردار خان اسے کیوں گھور گھور کر دیکھ رہا ہے ؟“

”اب اتنا بھی پٹھان نہیں ہوں یار !“

”کیوں پٹھان ہونا کوئی بری بات ہے کیا؟“

”تم لوگ پٹھانوں کو بے وقوف سمجھتے ہو نا؟“

”بالکل غلط ….یہ کس نے کہا کہ پٹھان بے وقوف ہوتے ہیں ۔پٹھان تو غیرت ،جرا ¿ت اور بہادری کا دوسرا نام ہیں۔البتہ انھیں سادہ کہا جاسکتا ہے کہ دل میں کوئی بات چھپا نہیں سکتے اور جذبات میں ذرا جلدی آ جاتے ہیں ؟“

” اصل بات بتاو ¿، مجھے ٹرخانے کی کوشش نہ کرو ؟“

”کمرے میں بتاو ¿ں گا یہاں دشمن سن رہے ہیں ۔“کہہ کر میں پش اپ نکالنے لگا۔

راج پال اور شری کانت ٹریک سوٹ کا اپّر اتار کر بھونڈے انداز میں اپنے مسلز کی نمایش میں لگے تھے ۔بالکل آج کل کی انڈین فلموں کے ہیروز کی طرح جو سین کی ڈیمانڈ نہ ہونے کے باوجود اپنے مسلز کی نمایش پر بہ ضد نظر آتے ہیں ۔ہاں یہ علاحدہ بات کہ فلموں میں تو کیمرہ ٹرک یا ڈمی کے استعمال سے یہ مقصد پورا ہو جاتا ہے یہاں ان دونوں کے پاس کوئی ایسے جسم موجود نہیں تھے کہ وہ کسی کو امریکن لڑکی کو متاثر کر سکتے ۔خیر یہ میری ذاتی رائے ہے ۔ضروری نہیں کہ لڑکیاں صرف مسلز دیکھ کر ہی متاثر ہوتی ہوں۔ان کی کوئی دوسری خوبی بھی ان گوریوںکو پسند آ سکتی تھی ۔

اپنی مشق کے اختتام پر ہم دونوں جم سے باہر نکل آئے تھے۔کمرے کی طرف جاتے ہوئے میں نے سردار خان کو جینیفر کے غصے کی بابت بتا دیا ۔

”ایک بات کہوں ذیشان بھائی !….مجھے لگتا ہے یہ گوری تمھاری ذات میں دلچسپی لے رہی ہے ؟“

”بھلا وہ کیسے ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا۔ 

”یار !….سامنے کی بات ہے ؟وہ کل سے ان لوگوں کے ساتھ گھوم رہی ہے جن سے تمھیںنفرت ہے ۔اور پھر چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ تم سے الجھنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ایسا خواہ مخواہ تو نہیں کیا جاتا۔مجھے یاد ہے کہ چنارے بیگم ہر وقت میرے پیچھے پڑی ہوتی تھی ۔مجھ سے لڑنا جھگڑنا اس کا آئے روز کا معمول تھا ۔اب دیکھو وہ میری بیوی ہے ؟“

”خان صاحب!….صاف کہو نا؟تم مجھے میری بیوی کے ہاتھو ں قتل کرانا چاہتے ہو؟“

”ہا….ہا….ہا….وہ چنارے بیگم تو نہیں ہے کہ ایسا سخت قدم اٹھائے گی ؟“

”بھول ہے تمھاری ؟یہ جنس جسے بیوی کہا جاتا ہے ؟ شوہرنام کی مخلوق کے لیے برابر خطرناک ہوتی ہیں ۔“

”ویسے ذیشان بھائی !….مجھے تو چنارے کا غصہ ،اس کا لڑناجھگڑنا ،اس کی ضد یہ بہت یاد آتا ہے ۔ یقین کرو جو پیار محبت اس کے غصے میں ہوتا ہے اس کے لیے پردیس میں ترستا رہتا ہوں ۔“

”صحیح کہا۔“میں ٹھنڈا سانس لے کر ماہین کی یادوں میں کھو گیا تھا ۔وہ بھی تو ایسی ہی تھی ۔یقینا ساری محبت کرنے والی بیویاں ایسی ہی ہوتی ہیں ۔ان کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم ان سے دور ہوتے ہیں کہ چند منٹ دیر سے گھر لوٹنے پر وہ کس کس طرح کی جرح کرتی ہیں ۔اور خفا ہوکر یا روٹھ کر بھی وہ اپنے خاوند کا اتنا ہی خیال رکھتی ہیں جتنا خوشی کی حالت میں رکھتی ہیں ۔بغیر کچھ کہے کھانے کے برتن سامنے لا دھرنا ۔بے توجہی ظاہر کرتے ہوئے بھی مکمل دھیان رکھنا کہ پلیٹ میں سالن ختم تو نہیں ہو گیا یا پانی کا گلاس تو خالی نہیں ہوگیا ۔بستر پر لیٹتے ہوئے ایسی حرکات کرنا کہ شوہر کو معلوم ہوتا رہے کہ بیگم صاحب جاگ رہی ہے سوئی نہیں اور شوہر صاحب کے پاس منانے کی گنجایش موجود ہے۔بہ ظاہر لاتعلقی کا انداز لیے شوہر کی ہر سہولت کا پوری توجہ سے جائزہ لینا؟ ایسا کوئی مشرقی بیوی ہی کر سکتی ہے ۔مغرب کے حصے میں یہ محبتیں کہاں ؟….وہاں تو بس ساری محبتوں کا محور ہی مرد و عورت کی جسمانی کشش یا دولت کا حصول ہوتا ہے ۔ 

٭٭٭

اگلے دن بریک کے دوران میں اور سردار ایک طرف کھڑے ہو کر لیوپولڈ سائیٹ کے متعلق تبادلہ خیال کر رہے تھے ۔جینیفر ہمارے قریب کھڑے جمیل خان اور سکندر علی خان کے ساتھ آ کر گپیں ہانکنے لگی ۔ان دونوں کا تعلق افغانستان سے تھا ۔دونوں کلین شیو پٹھان تھے ۔انگریزی زبان پر انھیں اچھا خاصا عبور تھا ۔جینیفر ان سے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کرنے لگی ۔میں سردار کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے تھوڑادور ہٹ گیا ۔سردار کو وہاں سے دور ہونے کی وجہ معلوم نہیں ہوئی تھی کیونکہ جینفر کی طرف اس کی پشت تھی۔البتہ جس جگہ پر جا کر ہم رکے تھے وہاں جاپانی لی زونا اپنے ساتھی کے ساتھ ایسی زبان میں محو گفتگو تھی جس کا ایک لفظ بھی ہمارے پلے نہیں پڑ رہا تھا ۔

”یہ دونوں اتنی خوب صورت گفتگو تو نہیں کر رہے کہ تم مجھے اتنی تیزی سے یہاں تک کھینچ لائے ہو ؟“سردار طنزیہ انداز میں مستفسر ہوا ۔

”خان بھائی !….لی زونا کی معصومیت تو دیکھو نا ؟“میں نے بچوں کے سے نقش رکھنے والی جاپانی لڑکی کی جانب اسے متوجہ کیا ۔

لی زونا اپنا نام میرے منہ سے سن کر چونکی اور مجھے اپنے جانب گھورتا پا کر مسکرا کر ادب دینے کے انداز میں جھک گئی ۔

میں نے بھی اسی کے انداز میں جھک کر اسے آداب کہا ۔اس کا ساتھی اور سردار میرے انداز پر ہنس پڑے تھے ۔لی زونا کے معصوم چہرے پر بھی تبسم کھلنے لگا۔

”ہائے لی زونا !….میں ذیشان حیدر اور یہ میرا ساتھی سردار خان ہے ۔“میں نے اس کی جانب مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

وہ پرتپاک مصافحہ کرتے ہوئے کہنے لگی ۔”تھینک یو ذیشان!….اینڈ تھینک یوسردار۔“اس کا ساتھی بھی ہمیں خوش دلی سے ملا تھا ۔ان سے مصافحہ کر کے ہم ان کے ساتھ ہی رک کر گپ شپ کرنے لگے ۔ میں نے کن انکھیوں سے جینیفر کی جانب دیکھا وہ ہماری جانب ہی متوجہ تھی ۔اس کا رویہ مجھے الجھن میں ڈالنے لگا تھا ۔ہر انسان اپنی خوب صورتی کے بارے خوش فہمی شکار ہوتا ہے ۔میں بھی اچھا خاصا خوب صورت اور پر کشش تھا مگر وہاں پر ایسے مرد موجود تھے جو مجھ سے خوب صورت اور قد آور تھے ۔میں تو شایدان کے عشرعشیر بھی نہیں تھا۔ درمیانی قدو قامت ،رنگت بھی ہلکی سانولی جسے زیادہ سے زیادہ گندمی کہا جا سکتا تھا۔ افغانستان سے آنے والے دونوں حضرات تو چھے فٹ سے بھی نکلتے ہوئے قد کے تھے ۔سرخ و سفید رنگت اور صحت مند جسم ۔بلاشبہ مغربی تہذیب کی میں پلی بڑھی ان عورتوں کے لیے وہ آئیڈیل ساتھی تھے ۔ان دو کے علاوہ بھی وہاں کافی خوب صورت مرد موجود تھے ۔ا ن تمام کی موجودی کے باوجود جینیفر کایوں مجھ میں دلچسپی لینا مجھے ہضم نہیں ہو رہا تھا۔

پھر مجھے خیال آیا ….میں کسی مخصوص عہدے پر براجماں کوئی بڑا آدمی نہیں ہوں کہ ایک لڑکی کے اپنی جانب مائل ہونے کو کسی سازش کا نام دے دوں۔اسی طرح کوئی الھڑ دوشیزہ بھی نہیں، کہ اپنی عزت و عصمت کا خوف لاحق ہو؟گو مرد کی بھی عزت ہوتی ہے مگر فی زمانہ اس کا خیال بھی عورتوں ہی کو کرنا پڑتا ہے ۔خودمرد کو ایسی کوئی تگ و دو نہیں کرنا پڑتی کہ اس کی عزت محفوظ رہے ۔اپنے تیئں میں یہی کر سکتا تھا کہ اسے نظر انداز کرتا رہوں اور یہی میں کر رہا تھا۔

”شاید یہ دلچسپی کے بجائے نفرت ہو ؟“میرے دماغ میں ایک قابلِ قبول سوچ لہرائی ۔اسی وقت بریک ختم ہونے کی گھنٹی ہوئی اور میں سر جھٹک کر کلاس روم کی طرف بڑھ گیا ۔

تین دن لیوپولڈ ٹیلی کوپ سائیٹ کے بارے پڑھانے کے بعد چوتھے دن ہمیں عملی طور پر فائرنگ رینج پر لے جایا گیا ۔جدید سہولیات سے مزین وہ ایک بہترین فائرنگ رینج تھی۔یہاں پاکستان میں آو ¿ٹ ڈور فائرنگ رینج میں مختلف فاصلوں پر فائر کرنے کے لیے فائرر کو ہدف سے دور جانا پڑتا ہے اور ہدف ایک جگہ پیوست ہوتے ہیں ۔وہاں اس کے برعکس حرکتی ہدف لگے ہوئے تھے ۔فائرر کواپنی جگہ سے ہلنا نہیں کرنا پڑتا تھا ۔بٹن دبا کر ہدف کو پچیس میٹر سے لے کر تین ہزار میٹر کے فاصلے تک با آسانی قریب یا دور کیا جا سکتا تھا۔ کلاس کے طلبہ کی تعداد کے برابر رینج ماسٹر سنائپر رائفلز دستیاب تھیں۔تمام سنائپرز کو علاحدہ علاحدہ رائفل ملی ۔ہر ایک نے اپنی رائفل کو خود ہی فائر کے لیے درست کرنا تھا ۔رہنمائی کے لیے انسٹرکٹرز موجود تھے ۔رینج پردس ہدف نصب کیے گئے تھے ۔اور ہر ہدف طاقتور کیمرے کی زد میں تھا۔ ایک فائرر اپنے ہر فائر کے بعد قریب لگی سکرین پر فائر شدہ گولی کو با آسانی دیکھ سکتاتھا۔اگلے دو دن ہم نے مختلف فاصلوں سے ہدف پر فائر کرنے میں گزارے ۔فائرنگ کی کارروائی دوپہر تک ہوتی اس کے بعد ہم واپس آ جاتے۔

دوسرے دن فائر کے اختتام پر انسٹرکٹرز نے ہمیں اگلے دن فاینل فائر کے متعلق بتا دیا ۔ لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ کا اختتامی فائر تھا ۔اس کے بعد سنائپر کورس کی شروعا ت ہونا تھی ۔

ہم دونوں اپنی اپنی رائفل کمرے ہی میں اٹھا لاتے تھے ۔وہاں رائفل کمرے میں لانے کی اجازت تھی ۔البتہ کسی بھی سنائپر کو ایمونیشن کمرے میں لے جانے کی اجازت نہیں تھی ۔

سردار خان مجھے مخاطب ہوا۔”ذیشان بھائی !….کل ہندوو ¿ں کو آگے نہ بڑھنے دینا ؟“

”سینئر تم ہوسردار بھائی !….اور یہ تمھاری ذمہ داری ہے میری نہیں ؟“

”لانس نائیک اور سپاہی میں فرق ہی کتنا ہوتا ہے ؟“

میں ہنسا ۔”یہ تو تمھاری سوچ ہے ؟پاک آرمی میں تو ایک دن پہلے آنے والا سینئر گردانا جاتا ہے اورتم دو مختلف رینکوں کو مماثل کرنے کے چکر میں ہو ؟“

وہ ترکی بہ ترکی بولا۔”مگر یہ پاکستان تو نہیں ہے نا ؟“

میں کب پیچھے رہنے والا تھا ۔فوراََ جواب دیا ۔”ہم تو پاکستانی ہیں نا بھائی ؟“

”تم شاید بھول رہے ہو؟وہاں پہلے نمبر پرکون آیا تھا؟“

”پہلے نمبر پر آنے سے عہدے میں فرق نہیں پڑتا میرے بھائی ؟“

”اچھا مزاق چھوڑو نا یار!….میں اپنی پوری کوشش کروں گا ،مگر یہ بھی دیکھو کہ تمھارا فائر مجھ سے کہیں بہتر ہے ؟“

” ٹھیک ہے ۔فی الحال تو رائفل کو صاف کرلیں ۔“میں اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کلیننگ راڈ میں چندی ڈالنے لگا ۔

”چلو ۔“وہ بھی اپنی رائفل کی طرف متوجہ ہو گیا۔(رائفل کی بیرل فائر کے بعد اندر سے بہت زیادہ گندی ہو جاتی ہے ۔فائر سے پیدا ہونے والی آلودگی رائفل کی بیرل کے اندر جم جاتی ہے ۔اگر اس آلودگی کو صاف نہ کیا جائے تو بہت جلد بیرل اندر سے خراب ہو جاتی ہے ۔نتیجے کے طور پر رائفل فائر کے قابل نہیں رہتی ۔ایک اچھا سنائپر اپنی رائفل کی صفائی کا اہتمام اپنے چہرے سے بھی زیادہ کرتا ہے )

٭٭٭

اگلے دن فائرنگ رینج پر پہنچتے ہی ہمارے سینئر انسٹرکٹرمیجرجیمس میتھونی ہمیںاختتامی فائر کے متعلق ضروری ہدایات دینے لگا ….

”آج لیوپولڈ ٹیلی سکوپ سائیٹ سے فائر کرنے کا اختتامی مرحلہ ہے ۔کسی بھی سکھلائی کی کلاس میں اگر مقابلے کی فضا پیدا نہ کی جائے تو سکھلائی کے اندر طلبہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اختتامی فائر کے باقاعدہ نمبر دیے جائیں گے ۔ہر سنائپر کو پانچ گولیاں دی جائیں گی ۔جنھیں وہ اپنی مرضی سے کسی بھی فاصلے پرسے فائر کر سکتا ہے ۔فاصلے کی اکائی تین سو میٹر ہے ۔ اور یہاں سے ایک گولی کے ہدف کولگنے کے نمبر عشاریہ پچیس ہوں گے ۔پانسو میٹرسے ایک گولی کے نمبر عشاریہ پچاس ،سات سو میٹرسے ایک گولی کا ایک نمبر،ہزار میٹر سے ایک گولی کے دو نمبر ،پندرہ سو میٹر سے ایک گولی کے تین نمبراور اٹھارہ سو کے فاصلے سے ایک گولی کے چھے نمبر ہوں گے۔کوئی بھی فائرر اپنی تمام گولیاں تین سو میٹر کے فاصلے سے بھی فائر کر سکتا ہے اور اٹھارہ سو میٹر کے فاصلے سے بھی بلکہ انیس سو یا دو ہزار میٹر سے فائر کرنے کی بھی ممانعت نہیں ہے ۔انیس سو میٹر پر ایک گولی کے نو نمبر ہوں گے ۔یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ لیوپولڈ سائیٹ کی رینج دو ہزار میٹر تک ہے مگر میں خود سترہ سو کے بعد ہدف کو نشانہ بنانے میں ناکام رہا ہوں ۔ ہمارے ایک انسٹرکٹر ہوا کرتے تھے پیٹر سمتھ ۔وہ اٹھارہ میٹر کے فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنا لیتے تھے ۔ لیکن تم لوگوں کی بدقسمتی کہ میں ان سے تمھاری ملاقات نہیں کرا سکتا ، کیونکہ قریبا دو ماہ پہلے وہ وفات پا چکے ہیں ۔ خیریہ ایک ضمنی بات تھی میں تم لوگوں کے حوصلے کو مہمیز نہیں کرنا چاہتا ۔اور یاد رکھنا کہ یہ فائر جوڑیوں کی صورت میں ہو رہا ہے اس لیے دو آدمیوں کے نمبر ملا کر نتائج کا اعلان کیا جائے گا ۔اب تمام سنائپرز اپنے فائرنگ اڈوں پر تشریف لے جا سکتے ہیں ۔“

میجرجیمس میتھونی کی بات ختم ہوتے ہی ہم فائرنگ اڈوں کی جانب بڑھ گئے ۔میں سردار خان کو فائرنگ کی ہدایات کے متعلق بتانے لگا ۔میری بات ابھی تک درمیان میں تھی کہ مجھے میجرجیمس میتھونی نے پکارا۔

”مسٹر ذیشن!“وہ میرے نام میں الف کو حذف کر دیتے تھے ۔

”جی سر !….“میں نے رک جواب دیا۔

”میرے پاس آ سکتے ہو ؟“

”یس سر !….“کہہ کر میں نے سردار کو کہا۔”تم جاو ¿ میں انسٹرکٹر کی بات سن کر آتا ہوں۔اور سردار سر ہلا کر فائرنگ اڈے کی سمت چل پڑا ۔جبکہ میں میجر جیمس میتھونی کی جانب بڑھ گیا ۔

اس کے نزدیک ،جینفر ہنڈسلے ،یہودی ڈونلڈ پاسکو،جاپانی مان ین لی ،شری کانت اور جمیل خان افغانی کھڑے تھے ۔

”جی سر !….“میں نے قریب جا کر اسے سیلوٹ کیا ۔

سر کے اشارے سے میرے سیلوٹ کا جواب دیتے ہوئے وہ گویا ہوا ….

” تمام کو بلانے کا مقصد یہ ہے کہ پریکٹس فائرکی کمپیوٹر رپورٹ کے مطابق چھیؤں کا فائرنگ رزلٹ سب سے اچھا ہے ۔آج فاینل ٹیسٹ ہے اور میری خواہش ہے کہ پہلی پوزیشن پر تمھی میں سے کوئی کھڑا نظر آئے ۔لیکن یہ یاد رکھنا کہ کسی اکیلے کی کارکردگی اسے پہلا نمبر نہیں دلا سکتی ۔ سنائپنگ میں اپنے ساتھی کو بھی ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے ۔کیپٹن ہنڈسلے !….تمھارے پاس تو ساتھی کے چناو ¿ کی تین آپشن موجود ہیں ۔اسی طرح مسٹر ڈونلڈ کے پاس بھی تین آپشن موجود ہیں کہ یہ اپنے کسی بھی ہم وطن کا انتخاب کر سکتا ہےں ۔لیکن باقی چاروں کے پاس ایسی کوئی آپشن موجود نہیں ہے ۔اس لیے احتیاط کی ضرورت ہے۔ پہلی تین پوزیشنوں کا حصول تمھار ے اورتمھارے ملک کے لیے ضرور قابل فخر بات ہو گی ۔کیا میں درست کہہ رہا ہوں ؟ “

”جی سر !….“ہم نے بیک زبان کہا ۔اسی وقت فائرنگ کی آوازیں ہمارے کانوں میں پڑنا شروع ہو گئی تھیں۔

”اوکے !….بیسٹ آف لک ۔“میجر جیمس نے ہمیں واپس جانے کا اشارہ کیا ۔اور ہم اپنے اپنے فائرنگ اڈوں کی جانب بڑھ گئے ۔وہاں چونکہ فائرنگ کے دس اڈے بنائے گئے تھے اس لیے ہر اڈے پر سات ،آٹھ سنائپر فائر کرتے تھے ۔ہمارے اڈے پر انڈین اور نیپالی سنائپربھی ہمارے ساتھ موجود تھے ۔

میں اس لحاظ سے باقیوں سے خوش قسمت تھا کہ میرا ساتھی بھی ایک اچھا فائرر تھا ۔یہ سوچ میں میرے دماغ میں سرگرداں تھی کہ رزلٹ اناو ¿نسمنٹ کرنے والی کی دلکش آواز میرے کانوں میں پڑی ۔ اعلان کیا تھا کہ اس نے میرے سر پر بم پھوڑ ڈالا تھا ۔

”پاکستان سے تعلق رکھنے والے سردار خان نے تین سو میٹر کے فاصلے سے پانچ گولیاں کامیابی سے ہدف پر ہٹ کر دی ہیں ۔“وہ دوسرے کچھ نام بھی لے رہی تھی ۔مگر میرے دماغ میں سائیں سائیں ہونے لگی تھی ۔میرے ساتھ چلنے والے شری کانت نے قہقہہ لگایا۔

”لو جی ساتھی !….تمھارے بڈی نے کامیابی سے پانچ گولیاں ہدف پر مار دی ہیںاورایک نشانہ بھی خطا نہیں ہوا ۔“

غم و غصے کو ضبط کرتا میں فائرنگ اڈے پر پہنچا ۔”سردار خان !….یہ کیا کر دیا ؟“

میرا لہجہ اور انداز ایسا نہیں تھا کہ وہ پریشان نہ ہوتا۔

”کیا ہوا ذیشان بھائی ….؟دیکھو تو میں نے تمام گولیاں ہٹ کر دی ہیں ؟“

میں نے جھلا کر کہا۔”تمھیں کس نے کہا تھا کہ فائرنگ شروع کرو ؟“

”مم….مجھے اس نے کہا تھا ۔“اس نے راج پال کی جانب اشار ہ کیا۔

راج پال معصومانہ لہجے میں کہنے لگا۔”میں نے تو فقط اتنا بتایا تھا کہ ہرسنائپر کو اجازت ہے وہ جس فاصلے سے چاہے فائر کرے ؟اور کیا یہ غلط ہے ؟“

”ذیشان بھائی !….آخر ماجرہ کیا ہے ؟….مجھے بھی تو بتاو ¿۔کیا غلط کر دیا ہے میں نے ؟اور تمھیں معلوم تو ہے مجھے انگریزی زبان نہیں آتی ؟“

شری کانت طنزیہ لہجے میں بولا۔”اسی لیے مشورہ دیا تھا کہ پڑھ لکھ کر آنا تھا ؟“

”مسٹر شری کانت !….پلیز اپنے کام سے کام رکھیں ۔اور یہ سارا قصورتمھارے ساتھی کا ہے؟ اسے کیا ضرورت تھی آدھی بات بتانے کی ؟“

راج پال نے تلخی بھرے لہجے میں کہا۔”میں کسی کا نوکر نہیں کہ ترجمہ کرتا پھروں؟“

ساتھ ہی شری کانت نے لقمہ دیا۔”ہمیں دوش دینے کے بجائے اپنی ساتھی کو جھڑکو؟“

راج پال کی حرکت گھٹیا ہونے کے باوجود میں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ۔سردار خان بھی برابر کا قصور وار تھا اسے میرا انتظار کرنا چاہیے تھا۔

”میرے ساتھ آو ¿ سردار!“میں واپس میجر جیمس کی جانب مڑ گیا ۔سردار بھی سر ہلاتا ہوا میرے ساتھ ہو لیا ۔

”ذیشان بھائی !….بتاو ¿ تو سہی ہوا کیا ہے ؟“سردار نے پریشانی بھرے لہجے میں پوچھا۔

”یار سردار !….تمھیں میرا انتظار کرنا چاہیے تھا؟….ہندو کو دشمن سمجھنے کے باوجود تم نے اس کا اعتبار کر لیا؟“

”اس نے مجھے چیلنج کیا تھا کہ ایک منٹ میں پانچ گولیاں فائر نہیں کی جا سکتیں ؟….بس مجھے غصہ آگیا ۔میں نے سوچا جب ہر آدمی کی مرضی ہے کہ وہ جس فاصلے سے چاہے فائر کرے تو کیوں نا؟ تین سو سے فائر کر کے اس ہندو کا منہ تو بند کر دوں ۔یقین کرو تمھارے آنے سے پہلے اس نے میری پیٹھ تھپتھا کر مجھے شاباش د ی تھی ۔“

”ہاں شاباش تو اس نے دینا تھی کہ ہمیں پوزیشن سے جو آو ¿ٹ کر دیا ۔“

”کیا مطلب ؟“

”مطلب یہ ہے جناب!….کہ تین سو کے فاصلے سے ایک گولی لگنے کے عشاریہ پچیس نمبر ہیں اور تمھاری پانچ گولیوں کے ٹوٹل سوا ایک نمبر ملے ہیں ۔اب بس میرے والی پانچ گولیاں رہتی ہیں اور ان پانچ گولیوں سے ہم کیسے کسی پوزیشن پر آ سکتے ہیں ؟“

میری بات سن کر سردار ایک دم چپ ہو گیا تھا ۔اسے غلطی کا احساس تو ہو گیا تھا مگر اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔

میجر جیمس نے ہمیں اپنی جانب آتے دیکھ لیا تھا ۔وہ ایک بڑی سکرین پر مختلف سنائپر ز کے فائر کا جائزہ لے رہا تھا ۔