ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر

قسط نمبر5

ریاض عاقب کوہلر

 

استاد عمر دراز چند لمحے سوچ کر کہنے لگا۔”یہ بہت دل چسپ داستان ہے ذیشان!….یوسف خان اور شیر بانو اسی علاقے کے حقیقی کردارہیں ۔یہ جو شیوہ گاو ¿ں سے ملحق پہاڑی آپ کو نظر آ رہی ہے اسے کرماڑ پہاڑی کہتے ہیں ۔ اس کی چوٹی پر دونوں کا مزار بنا ہوا ہے ۔ یوسف خان ترلاندی گاوں کا تھا اور شیر بانو شیرا غنڈ گاو ¿ں کی تھی ۔یوسف خان والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور شکار کا شوقین تھا اس کی ایک بہن بھی تھی ۔جو اس سے چھوٹی تھی ۔وہ ہرن کے شکار کے لیے کرماڑ پہاڑی پر جایا کرتاتھا۔وہ نہایت حسین و جمیل اورپرکشش جوان تھا ۔ایک دن شکار پر جاتے ہوئے اس کی مڈھ بھیڑ شیر بانو سے ہوگئی جو بہ ذات خود حسن کا مجسمہ تھی ۔اسے دیکھتے ہی شیربانو دل ہار بیٹھی ۔اب وہ روزانہ یوسف خان کا انتظار کرتی کہ اسے دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھا سکے ۔اور پھر زیادہ دن اس سے صبر نہ ہوسکا اور ایک دن اس نے یوسف خان کو روک کر اپنے دل کا حال کہہ سنایا۔اس کی شکل و صورت ایسی نہ تھی کہ یوسف خان انکار کرنے کے قابل ہوتا۔وہ بھی دل و جان سے اس پر فریفتہ ہو گیا ۔یوسف خان کا تعلق کسی امیر گھرانے سے نہیں تھا ۔اسی طرح شیر بانو کا تعلق بھی سفید پوش طبقے ہی سے تھا ۔بہ ظاہر نظر ان کی محبت کی راہ میں کوئی رکاوٹ موجود نہیں تھی ۔پس یوسف خان ،شیر بانو کا رشتا لے کراپنے سر پرستوں کے ہمراہ ان کے گھر پہنچ گیا ۔لیکن یہ تو اصولِ دنیا ہے، کہ دنیا والے محبت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتے رہتے ہیں ۔شیر بانو کے حسن کی وجہ سے اس کے بھی کئی طلب گار تھے ۔شیر بانو کے والدین نے یوسف خان کو ٹالنے کے لیے ایک بہت بڑی رقم کا مطالبہ کر دیا ۔اتنی رقم کہ اس کی ادائی یوسف خان کی بساط سے کیا اس کے پورے خاندان کی بساط سے باہر تھی ۔مگر وہ عاشق صادق ذرا نہ گھبرایا اور شیربانو کے والدین سے مہلت طلب کر کے رقم کے حصول کے لیے اپنا گھر بارچھوڑ کر اکبر بادشاہ کی فوج میں ملازم ہوگیا ۔وہ ایک اچھا سپاہی تھا۔جلد ہی اس نے اکبر کی فوج میں اپنے قدم جما لیے۔ اور پھر اس کی خوش قسمتی کہ کسی باغی ریاست کے نواب کی سرکوبی کے لیے اکبر نے ایک لشکر بھیجا اور یوسف کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اس مختصر لشکر کی سپہ سالاری اسے سونپ دی گئی ۔ اس جنگ میں یوسف خان کو فتح ہوئی ۔ اکبر بادشاہ اس کی کارکردگی کے متعلق سن کر بہت متاثر ہوا اور اس نے خوش ہو کر اسے شرف ِ ملاقات بخشا ۔دوران ملاقات اس نے یوسف خان سے،اپنی فوج میں اس کی شمولیت کی وجہ دریافت کی ۔جواباََ یوسف خان نے ساری کہانی کہہ سنائی ۔بادشاہ نے اسی وقت اتنی رقم یوسف خان کے حوالے کرنے کا حکم دیا جس سے وہ شیربانو کے والد کا مطالبہ پورا کر سکے ۔اور پھر رقم کی حفاظت اور یوسف خان کو بہ حفاظت اس کے علاقے تک پہچانے کے لیے سپاہیوں کا ایک دستہ بھی اس کے ہمراہ روانہ کیا۔ یوسف خان قریباََ دس برس بعد وطن واپس لوٹ رہا تھا۔اس کی بدقسمتی کہ جس وقت وہ اپنے علاقے میں پہنچا اسے اطلاع ملی کہ شیربانو کی شادی کسی اور سے طے پا گئی ہے ۔یوسف خان کو یہ اطلاع صوابی کے مشہور گاو ¿ں دوبیان میں ملی ۔ یوسف خان وہاں پڑاو ¿ ڈالنے کی تیاریوں میں تھا ۔یہ خبر سنتے ہی وہ بغیرکسی تاخیر کے شیر بانو کے گاو ¿ں شیرا غنڈا کی جانب روانہ ہوا ۔ وہاں پہنچ کر اس نے ساری رقم شیر بانو کے والدین کے قدموں میں ڈھیر کر دی ۔مگر اب اس میں ایک دوسرا خاندان بھی ملوث ہو گیا تھا ۔ جس خاندان کے لڑکے سے شیر بانو کی نسبت طے ہوئی تھی وہ ہتھیار سونت کر باہر نکل آئے اور لڑنے مرنے پر تیار ہو گئے ۔یوسف خان بھی کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا ۔اپنی جس محبوبہ کے لیے اس نے در در کی خاک چھانی تھی وہ اسے کسی دوسرے کے حوالے کرنے پر کیسے تیار ہو سکتا تھا ۔دونوں طرف کے جنگجو آمنے سامنے ہو گئے ۔گھمسان کا رن پڑا۔جس میں دونو ں طرف کے کافی لوگ مر گئے ۔ اس لڑائی میں فتح یوسف خان کی ہوئی ۔اور بالآخر وہ شیر بانو کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔اپنی دلھن کو لے کر وہ گھر پہنچا۔وہ منتیں مرادیں پوری ہونے کی رات تھی ۔جب وہ اپنی دلھن کا گھونگٹ اٹھانے کے لیے نزدیک ہوا تو شوخ و شنگ محبوبہ نے ایک عجیب شرط رکھ دی ۔کہنے لگی یوسف خان جب تمھیں پہلی بار دیکھا تھا تو تم ہرن کے شکار کے لیے جا رہے تھے اور اب میں منہ دکھائی میں بھی ہرن کے گوشت کی طلب گار ہوں ایسا ہرن جو تم نے اپنے ہاتھ سے شکار کیا ہو ؟….یوسف خان نے محبوبہ کی شرط پر سرِتسلیم خم کیا اور رات کے اسی پہر تیر کمان اٹھا کر کرماڑ پہاڑی کی جانب روانہ ہوا۔وہ محبوبہ سے وصل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتا تھا ۔اس کے دو پالتو کتے بھی اس کے ہمراہ تھے ۔اور پھر اس کی بدقسمتی کہ پہاڑی کی بلندی پر اس کا پاو ¿ں پھسلا اور محبوبہ کی شرط پوری کرنے کی حسرت دل میں لیے وہ قریباََ سو میٹر گہرائی میں جاگرا ۔وفادار جانور مالک کو گرتے دیکھ کر بھونکتے ہوئے واپس گھر کی جانب بھاگے ۔گھر والوں نے دونوں کتوں کو دردناک انداز میں بھونکتے دیکھ کرجان لیا کہ یوسف خان کے ساتھ کوئی حادثہ پیش آ گیا ہے ۔کتوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے جب وہ اس جگہ پہنچے تو یوسف خان اپنی آخری سانس لے رہا تھا ۔غم سے نڈھال محبوبہ نے بے تابانہ محبوب شوہر کا سر اپنی گود میں رکھا اور یوسف خان اسے حسرت بھری نظروں سے دیکھتا ہوا خالق حقیقی سے جا ملا۔یوسف خان کو اسی پہاڑی کی چوٹی پر دفن کیا گیا ۔اس کے بعدشیربانو بھی زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہ سکی اور جلد ہی اس کی روح اپنے محبوب سے جا ملی ۔اوراسے بھی اس کے محبوب کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ان کی قبریں آج بھی اس پہاڑی کی چوٹی پر موجود ہیں۔اورمحبت کرنے والے وہاں اپنی محبت کے حصول کے لیے دور دراز سے منتیں مانگنے کے لیے آتے ہیں ،تاکہ ان کی محبت کامیابی سے ہم کنار ہو۔اب یہاں منت پوری ہوتی ہے یا نہیں یہ تو خیر اللہ کو پتا ہے۔ مگر جہلا نے عقیدہ یہی بنایا ہوا ہے ۔پشتو کے مشہور شاعر جوشی علی حیدر نے یوسف خان اور شیر بانو کے متعلق کافی دردناک اشعار کہے ہیں جنھیں پڑھ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں ۔“استاد عمردراز وہ دردناک کہانی ختم کرتے ہوئے پوچھنے لگا۔”اب بتاو ¿ ذیشان!….کیا تم نے یوسف خان کی طرح دلھن والوں کی شرط پوری کی ہے ؟“

”نہیں سر !“میں نے نفی میں سر ہلا کر کہا۔”میں تو فی الحال یوسف خان کے کلی وال(گاوں والے)سے فائرنگ کے ڈھنگ سیکھنے آیا ہوا ہوں۔“

استاد عمر دراز بے ساختہ ہنس دیا۔”اچھا ٹھیک ہے ،تم آرام کرو ۔ان شاءاللہ صبح ملاقات ہو گئی ۔

”ان شاءاللہ !“میں نے اثبات میں سر ہلادیا ۔

٭٭٭

اگلے دن ہم نے صبح کی نماز کے بعد ناشتا کیا اور پھرکرماڑ پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے ۔آج مجھے وہاں محبت کی انوکھی داستان کے دونوں کرداروں کی خوشبو بہت شدت سے محسوس ہو رہی تھی ۔استاد عمردرازاپنے ایک دوست کو بھی مددگار کے طور پر ساتھ لے آیا تھا ۔گھی کے کنستر سے بنایا گیا ہدف جس کی ہیئت بالکل درمیانی جسمامت کے آدمی جتنی تھی ۔اس پر سفید کاغذ چسپاں کیا گیا تھا۔ہدف ہم نے پہاڑی کی جڑ میں گاڑااور اس کے ساتھ ایک گہرے گڑھے میںاپنے ساتھ لانے والے آدمی کو بھی بٹھا دیا۔ اس کا کام ہمیں گولی لگنے کی جگہ اشارے سے بتانا تھا اورپھرگولی سے بننے والے سوراخ پر گوند سے ایک چھوٹا سا کاغذ چپکانا تھا ۔کیونکہ ہم ہر گولی کے بعد ہدف کو قریب سے نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ ہم پانسو میٹر کے فاصلے پر پہنچ کر فائر کرنے لگے ۔اس دوران استاد عمر درازاپنی رات کی گفتگو کو عملی طور پر بروے کار لانے کے بارے بتاتا رہا ۔پانسو میٹر سے کامیاب فائر کے بعد ہم چھے سو میٹر پر چلے گئے ۔اسی طرح فاصلہ بڑھاتے بڑھاتے آخر میں ہم نو سو میٹر سے فائر کر رہے تھے ۔پہلی دونوں گولیوں میں میں ٹارگٹ ہٹ نہیں کر سکا تھا ۔استاد عمر دراز نے کہا ۔

”دیکھو بیٹے !ڈریگنوو رائفل سے ہزار میٹر کے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور تم نو سو میٹر کے فاصلے پر ناکام ہو رہے ہو ؟وجہ معلوم ہے ؟“

میرے نفی میں سر ہلانے پر اس کی بات جاری رہی ۔”اس کی دو تین وجوہات ہیں ۔نمبر ایک ، کہ تمھارا ایمونیشن کافی دیر سے دھوپ میں پڑا ہے ۔میں نے جان بوجھ کر یہ بات نظر انداز کیے رکھی کہ شاید تم غور کر لو مگر تم نے توجہ نہ دی ۔اور جانتے ہوجب ایمونیشن گرم ہو تو اس کی وجہ سے چیمبر میں پریشر بڑھتا ہے اور گولی نشانے پر نہیں لگتی ۔دوسری بات یہ ہے کہ تم پہلی دفعہ ڈریگنو و رائفل سے فائر کر رہے ہو ۔اور یہ عام سنائپر رائفل کے برعکس سیمی آٹومیٹک ہے ۔اس وجہ سے عام سنائپر رائفل کے برعکس اس سے فائر کرتے وقت جھٹکا زیادہ لگتا ہے ۔اور لا شعوری طور پر اس جھٹکے کو سہارنے کے لیے رائفل پر تمھاری گرفت سخت ہو رہی ہے ۔اس کے علاوہ تم اس جھٹکے کو سہارنے کے لیے کندھے کو بھی تھوڑا ساآگے کر رہے ہو ۔تیسری بات یہ کہ دھوپ بہت تیز ہو گئی ہے یہ وقت آئیڈیل فائر کے لیے غیر موزوں ہے۔“

” سر!ضروری تو نہیں کہ عملی زندگی میں ہدف موزوں وقت میں آئے؟“

”دیکھو پہلے تم ان غلطیوںکو درست کرو جو آسانی سے درست کی جا سکیں۔مطلب ایمونیشن کو دھوپ سے بچاو ¿،رائفل کے فائر سے ہونے والے جھٹکے کو سہارنے کے لیے وہ غلطی نہ کرو جو میں تمھیں بتا چکا ہوں۔“

”یہ تو میں کر لوں گاسر!….مگر دھوپ سے کیسے بچوں؟“

”دھوپ سے بچاو ¿ ممکن نہیں۔پر ہدف کو تو بڑا کیا جا سکتا ہے ؟“

”میں سمجھا نہیں ؟“میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔

”اچھا یہ بتاو ¿؟ایک انسان کے سر کا حجم کتنا ہوتاہے ؟“

”قریباََآٹھ سے دس انچ اونچا اور چھے انچ چوڑا۔“

”گڈ۔“کہہ کر اس نے ایک اور سوال جڑ دیا ۔”اور سر کو نکال کر اوپری دھڑ کتنا لمبا چوڑا ہوتا ہے ؟“

”قریباََ دو فٹ لمبا اوراٹھارہ سے بیس انچ چوڑا ….بازو شامل نہیں ہیں ۔“

”تو بس ،سر کے بجائے چھاتی میں گولی مارو۔سنائپر رائفل کی گولی اگر کسی کی چھاتی میں لگ جائے تب بھی اس کا بچنا مشکل ہوتا ہے اور حفظ ماتقدم کے طور پر دوسری گولی بھی مار ی جا سکتی ہے۔“ 

استاد عمر دراز کی بات میری سمجھ میں آ گئی تھی ۔اس لیے تیسری اور چوتھی گولی میں نے کامیابی سے ہدف کی چھاتی میں مار دی ۔

استاد عمر دراز نے میری پیٹھ ٹھونکی ۔

”دیکھا،بس اتنی سی بات تھی ۔بہت جلدی تمھاری سمجھ میں آ گئی۔“

”جی سر !“میں سعادت مندی سے بولا۔حالانکہ میں کہہ سکتا تھا ”کہ اتنی جلدی کہاں آئی ، میں کئی سال سے سنائپر کی ٹریننگ حاصل کر رہا ہوں۔“مگر ایسا کہنا استاد کی بے ادبی ہوتا۔

”اچھا کھانا کھانے چلتے ہیں۔“اس نے کہا اور میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔

کھانا ہم نے گھر جا کر کھایا ۔اس کے بعد ہم نے ظہر کی نماز پڑھی اور دوبارہ اسی جگہ پہنچ کر فائر کی مشق کرنے لگے ۔شام کی آذان کے ساتھ ہم نے مشق ختم کی اور گھر لوٹ آئے ۔رات گئے تک استاد عمر دراز مجھے اپنے واقعات ایسے انداز میں سناتا رہا جن میں فائر کی باریکیوں اور موقع محل کی مناسبت سے ایک سنائپر کی ترجیحات واضح ہوتیں؟اگلے دن بھی ہم دوپہر تک مشق کرتے رہے اس کے بعد میں استاد عمر دراز سے اجازت لے کر واپسی کے لیے روانہ ہوا ۔صوابی کی حدودتک ان دیکھے یوسف خان پرچھائیاں میری سوچ میں سرگرداں رہیں ۔اپنی یونٹ میں پہنچ کر میں اس کہانی کو ذہن سے جھٹک کر اپنے کورس کی تیاریوں میں مصروف ہو گیا ۔یوں بھی اس ظالم دنیا میں جانے کتنے یوسف خان اور کتنی شیر بانوسماج کے اندھے قانون کی بلی چڑھ گئے ہیں۔اور اگر کوئی سخت جان ہر آزمایش عبور کر کے اپنی محبت کے قریب پہنچ بھی گیا تو مقدر نے اسے اوندھے منہ گرا دیا ۔

سوموار کومیں نے پہلی مشق ہی میںتیرہ سو میٹر کے فاصلے سے ساری گولیاں ہدف پر ہٹ کر دیں ۔ہم ہیوی سنائپر رائفل سے فائر کر رہے تھے۔اور اسی رائفل کی ٹیلی سکوپ سائیٹ کے بارے پڑھنے کے لیے ہم میں سے دو سنائپرز نے امریکہ بھی جانا تھا ۔اس کی کارگر رینج دو ہزار میٹر ہے ۔صوبیدار تصور صاحب نے مجھے خصوصی شاباش دی تھی ۔باقی کا دن بھی میرا فائر سب سے نمایاں رہا ۔استاد عمر دراز کی معیت میں گزرے دو دن میرے لیے بہت مفید رہے تھے ۔

ہفتے کے اختتام پر ہمارا امتحان ہوا جس میں میں نے پہلی اور سردار خان نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی ۔وہ مجھ سے پانچ سال پہلے بھرتی ہوا تھا ۔تین مرتبہ مشن پر سرحد پار بھی جا چکا تھا ۔بڑا ہنس مکھ اور پرمزاح بندہ تھا۔لیکن ہنس مکھ اور پر مزاح وہ صرف اپنے دوستوں کے لیے تھا ۔دشمن کے لیے و ہ خالص پٹھان تھا۔گھٹا ہوا جسم ،میانہ قد ،سرخ و سفید رنگت ،خوب صورت نین نقش رکھنے والا یہ پٹھان بہت محنتی اور اچھا نشانہ باز تھا ۔اس کا تعلق مردان سے تھا۔میںہدف پر صرف ایک گولی اس سے زیادہ مار سکا تھا ۔اس نے خوش دلی سے مجھے پہلی پوزیشن کی مبارک باد دی تھی ۔

ایک ماہ کے اندر ہم نے امریکہ کے لیے اڑان بھرنی تھی ۔یہ ایک مہینا تیاریوں میں گزرا ۔دو ہفتے ہمیں انگریزی زبان کی کلاس بھی اٹینڈ کرنا پڑی ،تاکہ وہاں جا کر بول چال میں کوئی مسئلہ نہ ہو ۔ اس دوران پاسپورٹ بھی بننے ، ویزہ وغیرہ لگااور پھر ہم جانے کے لیے تیار تھے ۔روانگی سے تین چار دن پہلے ہمیں گھر جانے کی اجازت ملی ۔دوتین گھر گزار کر ہم واپس پہنچ گئے ۔ اور پھر ایک دن ہم جہاز میں بیٹھے اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ تھے ۔ہماری منزل امریکہ کا ساحلی شہر نیو جرسی تھا۔

٭٭٭

وہاں پینتیس ممالک سے سنائپرز آئے ہوئے تھے ۔مختلف ممالک سے آنے والے سنائپرز کی تعداد مختلف تھی ۔کسی ملک سے صرف ایک سنائپر آیا تھا تو کسی ملک سے چار سنائپرز بھی تھے ۔انڈیا سے بھی دو سنائپر آئے تھے ۔ دونوں ہندو تھے ۔ایک کانام شری کانت اور دوسرے کا راج پال تھا ۔دونوں نے بڑی کینہ توز نظروں سے ہمیں گھورا تھا ۔ابتدائی دو تین دن انتظامی و انصرامی کارروائیوں کی نظر ہو گئے اور پھر نئے ہفتے کی شروعات کے ساتھ باقاعدہ کلاس کی ابتداہوئی ۔تمام طلبہ سوّل سوٹ پہن کر آئے تھے ۔ کیونکہ لباس کے بارے کوئی ہدایت جاری نہیں کی گئی تھی ۔طلبہ کی تعداد 76 تھی جن میں سات لڑکیاں بھی شامل تھیں ۔امریکہ کے چار طلبہ تھے جن میں سے دو لڑکیاں کیپٹن جینیفرہنڈسلے اور لیفٹیننٹ کیٹ واٹسن تھیں۔جبکہ مردوں میں سارجنٹ ریگن واچ اور سارجنٹ نارمن تھے۔اسرائیل سے بھی دو لڑکیاں اور دومرد آئے تھے ۔ ایک لڑکی کا تعلق جاپان سے تھا۔فرانس ،برطانیہ ،چین یاروس جیسے ممالک سے کوئی بھی نہیں آیا تھا ۔

سری لنکا ،نیپال ،بنگلہ دیش ،ایران اور انڈونیشیا سے بھی دو دو سنائپرز آئے ہوئے تھے ۔یہاں تک کہ دو سنائپرز افغانستان سے بھی آئے تھے ۔لیکن شکل و صورت سے وہ بالکل افغانی نہیں لگ رہے تھے۔ دونوں کلین شیو تھے ۔تمام سنائپرز میں داڑھی والا ایک میں ہی تھا ۔گو میری داڑھی بھی بس کہنے کی حد تک ہی داڑھی تھی مگر پھر بھی میرے چہرے پر چند بال موجود تھے ۔زیادہ تر مرد کلین شیو ہی تھے ۔میرا ساتھی سردار خان بھی شیو کرتا تھا ۔البتہ اس کے چہرے پر گھنی مونچھیں ضرور موجود تھیں ۔

پہلا پیریڈ تعارف ہی میں گزر گیا تھا ۔گوصرف سرسری سا نام لینے سے ہر کسی کونام یاد نہیں رہ جایا کرتے ۔البتہ اس معاملے میں میر ی یاداشت کافی بہتر تھی ۔خاص کر استاد عمر دراز سے ملنے کے بعد تو میں ارد گرد کی چیزوں کواور زیادہ غور سے دیکھنے لگا تھا ۔اب تو میںعام سے عام بات کو بھی نظر انداز نہیں کرتا تھا ۔میں نے تعارف کے درمیان قریباََ پوری کلاس کے نام اپنی یاداشت میں محفوظ کر لیے تھے ۔ جیسے ہی کوئی کھڑے ہوکر اپنا اوراپنے ملک کا نام بتاتا،میں اپنی یاداشت میں اس کانام بٹھا کر زبانی طور پر بھی اس کا نام دہرانا شروع کر دیتا ۔اور اس وقت تک زیر لب اس کا نام دہراتا رہتا ، جب تک کہ دوسرا آدمی کھڑا ہو کر اپنا تعارف نہ شروع کر دیتا ۔

دوسرے پیریڈ میں باقاعدہ پڑھائی کا آغاز ہوا ۔انسٹرکٹر لیوپولڈ سائیٹ کے بارے پڑھانے لگا۔گو سنائپر پری کیڈر کے بعد ہم نے دو ہفتے تک انگلش زبان کی کلاس اٹینڈ کی تھی مگر پھر بھی گورے انسٹرکٹرکی روانی میں بولی گئی انگلش سمجھنے میں مجھے تھوڑی دشواری محسوس ہو رہی تھی ۔خیرمیں توپھر بھی گزارا کررہا تھا، کہ میری تعلیم بی اے تھی اور مجھے انگریزی سے اچھی خاصی شد بد تھی ۔اصل دشواری تو سردار خان کو تھی جس کی تعلیم میٹرک تھی اور میٹرک بھی ایسی کہ جیسے وطن عزیز میں لاکھوں ،کروڑوں جوان میٹرک کی سند لیے گھوم رہے ہیں، کہ نام ہی کی سند ہی ہاتھ میں پکڑی ہوتی ہے ۔انسٹرکٹرکی باتیں اس کے سر سے کافی اونچی گزریں تھیں ۔ پیریڈ کے اختتام پر میں نے اپنے ساتھی کا مسئلہ انسٹرکٹر کے گوش گزار کر دیا ۔

ایک لمحا سوچ کر اس نے کندھے اچکائے اور معذرت خواہانہ لہجے میں کہنے لگا ….

”It,s very deficult to arrange any translator today. However I will try my best tomorrow.“ (آج تو کسی ترجمان کا بندوبست کرنا مشکل ہے البتہ کل میں پوری کوشش کروں گا)

ہندو سنائپر شری کانت طنزیہ لہجے میں بولا۔”پڑھ لکھ کر آنا تھا نا ؟“یہ بات اس نے ہندی میں کہی تھی ۔(اور یہ بات تو قارئین جانتے ہوں گے کہ ہندی اور اردو بولنے کی حد تک قریباََایک جیسی ہیں ۔ البتہ ہر ایک کا رسم الخط مختلف ہے )

میں نے ترکی بہ ترکی کہا۔”میرا خیال ہے ہم پی ایچ ڈی کرنے نہیں آئے ؟“

گورے انسٹرکٹر کی سمجھ میں ہماری بات چیت تو نہیں آئی تھی ،لیکن لہجے کا اتار چڑھاو ¿اسے محسوس ہو گیا تھا ۔اس نے جلدی سے سبق شروع کر دیا ….

”اوکے گائیز!….وی آر لرننگ اباو ¿ٹ ڈیفلیکشن….“

ہمیں مجبوراََ چپ ہونا پڑا تھا ۔ورنہ سردار خان کے تیور بدلنے شروع ہو گئے تھے ۔اور یہ تو صرف مجھے معلوم تھا کہ وہ خوش اخلاق سا پٹھان اندر سے خالص اور کھرا پٹھان تھا ۔ہندوسے وہ اتنی ہی نفرت کرتا تھا جتنا کہ وہ اس کے مستحق ہیں ۔

پیریڈ کے اختتام پرہم کلاس روم سے باہر نکل آئے تھے ۔کچھ لوگوں نے سگریٹ سلگا لیے تھے اور چند ایک واش روم کی طرف بڑھ گئے تھے ۔

میں اور سردار باقی لوگوں سے تھوڑاسا ہٹ کر کھڑے ہوگئے ۔میں اسے انسٹرکٹر کی بتائی ہوئی خاص خاص باتو ں سے آگاہ کرنے لگا۔اسی وقت سنہری بالوں والی خوب صورت جینیفرہمارے قریب آئی….

”ہائے ….آئی ایم جینیفر !….“اس نے بے تکلفی سے مصافحے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔اگر وہ اپنانام نہ بتاتی تب بھی مجھے اس کا نام یاد تھا ۔بلکہ مجھے یقین تھا کہ پوری کلاس کو اس کا نام ازبر ہو گیا ہو گا؟ اور اس کی وجہ اس کے علاوہ کوئی نہیں تھی کہ وہ ایک پرکشش اور خو ب صورت لڑکی تھی ۔

میں نے مسکرا کر کہا ۔”تعارف تو ہو چکا ہے ،کیپٹن جینیفرہنڈسلے ۔“

”اوہ !….میرا خیال ہے تمھیںصرف میرا ہی نام یادرہ گیا ہو گا ؟“وہ معنی خیز مسکراہٹ سے بولی ۔وہ ایک امریکن لڑکی تھی پاکستانی لڑکی نہیں کہ اپنی خوب صورتی نہ جتاتی ۔

میں اطمینان سے بولا۔”تم باقی کلاس کے بارے ایسا کہہ سکتی ہیں ؟“

وہ دلچسپی سے بولی ۔”اور تم ؟“ 

”مجھ سے کسی کا نام بھی پوچھ سکتی ہو ؟“

اس نے شوخی سے کہا ۔”اچھا ….یہ ساتھ والے صاحب کو نام لے کر بلائیں ؟“اس کا اشارہ سری لنکا سے تعلق رکھنے والے کالے رنگ کے سورن منگ سے تھا ۔

”مسٹرسورن!….تمھارا ایک منٹ ضائع کر سکتا ہوں ؟“میں نے سورن کو نام لے کر بلایا۔

”یس پلیز !….“وہ خوب صورت مسکراہٹ بکھیرتاہمارے قریب آ گیا ۔

”تمھارانام سورن منگ ہی ہے نا ؟“میں نے اس سے مصافحہ کرتے ہوئے خوش اخلاقی سے پوچھا ۔

”جی جی !….بالکل ….“اس نے میرے ساتھ کھڑے سردار خان اور جینیفر کو بھی ہاتھ ملاتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔”مگر مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرا نام اتنا خوب صورت ہو سکتا ہے کہ اتنے پرکشش لوگوں کو یاد رہ جائے ۔“اس کا اشارہ واضح طور پر جینیفر کی طرف تھا ۔

”یہ واش روم سے کون باہر آ رہا ہے ؟“سورن منگ کی بات پر جینیفر نے ہلکا سا قہقہہ لگا کر مجھے واش روم کے دروازے کی طرف متوجہ کیا۔جہاں سے امریکن سارجنٹ باہر آرہا تھا ۔

میں نے منہ بناتے ہوئے کہا ۔”اس کا نام تو مجھے بالکل پسند نہیں آیا ۔بھلا ریگن واچ بھی کوئی نام ہے ؟“

”اور وہ جو سگریٹ پی رہا ہے ؟“جینیفر میرا امتحان لینے پر تل گئی تھی ۔

”وہ بے چارہ اسرائیلی ….اگر اس کے والدین مجھ سے پوچھتے تو میں کبھی انھیں کلارک نام رکھنے کا مشورہ نہ دیتا ۔“

”تو اس اسرائیلی دوشیزہ کا کیا نام رکھتے ؟“جینیفر نے کالے بالوں والی اسرائیلن دوشیزہ کی جانب اشارہ کیا جسے دونوں ہندو ¿وں نے گھیرا ہوا تھا ۔یوں بھی یہود و ہنود کی آپس میں گاڑھی چھنتی ہے ۔ اور اس دوستی کو تقویت دونوںکی مسلم دشمنی دیتی ہے ۔

میں ہنسا۔”بہ ہر حال سکارلیٹ نہ رکھتا ۔“

”تو کیا رکھتے ؟“

”کیٹ ٹھیک تھا بے شک اس کے باپ کا نام واٹسن نہ ہوتا ۔“میں نے جینیفر کی امریکن ساتھی کیٹ واٹسن کا نام دہرایا۔

”میں تم سے متاثر ہو رہی ہوں ۔“جینیفر کی مسکراہٹ میں حیرانی تھی ۔

”اور میں اینڈریا برٹن سے ۔“میں نے دوسری اسرائیلی دوشیزہ کی طرف اشارہ کیا۔جس کا مختصر لباس دعوت نظارہ دے رہا تھا ۔”کیا خوب صورت لباس زیبِ تن کیا ہے؟“

”اگر تمھیں وہ اس لباس میں اچھی لگ رہی ہے تو میرے پاس اس سے بھی اچھا لباس موجود ہے ۔“جینیفر معنی خیز انداز میں بولی ۔

میں نے گھبرا کر کہا۔”نہیں تم جینز ہی میں بہت اچھی لگ رہی ہو۔اور میں تو اینڈریا پر طنز کر رہا تھا ۔“

”جہاں تک میں سمجھا ہوں امریکن بیوٹی ہمارے پاکستانی بھائی کا امتحان لے رہی ہے ؟“ سورن منگ نے ہماری گفتگو سے کامیاب اندازہ لگایا۔

”مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے ۔“میں نے اثبات میں سر ہلا یا۔

سورن منگ نے منہ بنا کر کہا ۔”مجھے تو بس ان دو انڈین کے نام یاد رہ گئے ہیں اور وہ بھی اس لیے کہ ہمارا تعارف پہلے سے ہو چکا تھا ۔“

”تم شاید شری کانت اور راج پال کی بات کر رہے ہو ؟“

”یہ لیں جی مس امریکا!….بھائی کو ان کے نام بھی یاد ہیں ۔“

”میرا نام جینیفر ہے ۔“جینیفر کو شایدمحسوس ہواتھا، کہ سورن منگ کو اس کانام نہیں آتا۔

”شکریہ ….مس جینیفر!….اب کم از کم تمھارانام مجھے نہیں بھولے گا ۔تم بے شک ہماری واپسی کے بعد فون کر کے بھی میرا امتحان لے سکتی ہو ؟بلکہ روزانہ امتحان لیتی رہا کرنا اس بہانے ہم بھی یہ خوب صورت اور رسیلی آواز سن لیا کریں گے؟“اس کی بات پر جینیفر نے ایک خوب صورت سا قہقہہ اچھالا۔اور اس سے پہلے کہ ہم میں سے مزید کوئی بات کرتا انسٹرکٹر کی طرف سے بلاوا آگیا اگلا پیریڈ شروع ہوگیا تھا ۔

کلاس روم کے دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے جینیفر پوچھنے لگی ۔

”اب اپنا تعارف بھی کرا دیں ؟“

”میرا نام ذیشان ہے اور میرے ساتھی کا نام سردار خان ہے ۔“میں نے سردار خان کی طرف اشارہ کیا جو اس ساری گفتگو میں خاموش رہا تھا۔

”ذی ژان….؟“اس نے عجیب سے تلفظ سے میرا نام لیا۔

”بس ایسا ہی کچھ کہہ لیا کرو؟“مجھ میں اپنے نام کی مزید مٹی پلید کرانے کا حوصلہ نہیں تھا ۔اس سے کچھ بعید نہیں تھا کہ تلفظ ٹھیک کرتے کرتے اگلی مرتبہ جانے کیا کہہ دیتی ۔

”اگر میں صرف ذی کہہ لیا کروں تو ؟“اس نے شوخ نظروں سے میری جانب دیکھا۔ ”بدلے میں تم بھی مجھے جینی کہہ لینا ۔“

میں نے قہقہہ لگایا۔”نہیں میں صرف جی کہوں گا ۔“

”جی ….؟“وہ آنکھیں میچتے ہوئے دلربانہ انداز میں مسکرائی اور کہا۔”ڈن۔“

”یہ بھی بتادوں ؟….”جی “ہمارے ہاں خود سے زیادہ مرتبہ والے شخص کو اثباتی جواب دینے کے لیے کہا جاتا ہے ۔“

”ہا….ہا….ہا“وہ بے ساختہ ہنسی ۔”ویسے میں تم سے سینئر تو ہوں نا ؟….آخرکو کیپٹن ہوں؟“

اور میں بھی جوابی مسکراہٹ اچھال کر انسٹرکٹر کی جانب متوجہ ہو گیا تھا ۔جینیفر میرے اور سردار کے درمیان ہی بیٹھ گئی تھی ۔

تین پیریڈز کے بعد آدھا گھنٹا ٹی بریک کرنے کے لیے ملا ۔میس نزدیک ہی تھا۔میرے او ر سردار کے علاوہ بس چند آدمیوں نے چاے یا کافی کے مگ کو ہاتھ لگایا تھا۔اکثریت نے ام الخبائث کا جام تھامنے میں دلچسپی لی تھی ۔جینیفر نے بھی ہمیں کمپنی دینے کے لیے کافی پینا پسند کیا تھا ۔

دوران گفتگووہ پوچھنے لگی۔

”مسٹر ذی !….پہلے پیریڈ میں تم اس انڈین سے کیوں تلخ ہو رہے تھے ؟“جینی کا اشارہ شری کانت کی طرف تھا ۔

”وہ ہماری تعلیم پر پھبتی کس رہا تھا؟“

”انگریزی نہ جاننے سے تعلیم کا کیا تعلق ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔

میں نے کہا۔”یہ بات کم از کم تمھاری سمجھ میں نہیں آ سکتی؟“

”میں سمجھنا بھی نہیں چاہتی ۔مجھے تو بس یاداشت بہتر کرنے کے طریقے بتاو ¿؟“

”ایک شرط پر ؟“

وہ معنی خیز لہجے میں بولی ۔” شرط سنے بغیر کم از کم کسی خوب صورت لڑکی کو ہاں نہیں کرنی چاہیے؟“

”کوئی اتنی بڑی یا بری شرط نہیں ہے ؟“میں نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”بس تم اپنی خوب صورتی کے راز کھول دو ۔ یاداشت بہتر کرنے کے طریقے میںبتا دیتا ہوں ؟“

جواباََاس کا مترنم قہقہہ گونجا۔اسی وقت سامنے بیٹھاراج پال اپنے ساتھی شری کانت کو کہنے لگا۔ ”ویسے اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاں مسلے نے لڑکی دیکھی وہیں رال ٹپکانی شروع کر دی ۔“یہ بات اس نے ہندی میں کہی تھی ۔

میں نے اس کی بات کا برا مانے بغیر جواب دیا۔”صحیح کہامہاراج!….اور اسی وجہ ہی سے تو تم لوگ ہمیں بہت آسانی سے پھانس لیتے ہو ؟“

”تم حد سے بڑھ رہے ؟“راج پال کا غصہ ظاہر کر رہا تھا کہ اس کی سمجھ میں میری بات آ گئی تھی۔

”نہیں !….“میں اطمینان سے بولا۔”تم اپنی حد عبور کر رہے تھے اس لیے تمھیں تمھاری جگہ واپس دھکیلنا ضروری تھا ۔“

”میرا خیال ہے تم لوگوں کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہو گئی ہے ؟“جینی نے ایک دم صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی ۔اس دوران سردار خان نے اپنا کوٹ اتار کراپنی کرسی کے پیچھے لٹکایااور اپنی آستین اڑسنے لگا۔گو اس نے زبان سے کچھ نہیں کہا تھا مگر اس کا انداز ایسا تھا کہ دیکھنے والے خود بہ خود سمجھ گئے تھے ۔

”مسٹر کھان پلیز!….“جینی نے اسے بازو سے پکڑ کر کرسی پر بٹھاناچاہا۔

وہ اردو ہی میں جینی سے مخاطب ہوا۔”اس خنزیر کے بچہ کو زبانی بات سمجھ میں نہیں آتا بی بی ؟“

”سردار !….تم بیٹھو؟میں نے انھیں ان کی زبان میں سمجھا دیا ہے ۔“میں نے سردار کو بازو سے تھام کر دوبارہ کرسی پر بٹھا دیا ۔

شری کانت اور راج پال ہمیں کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے وہاں سے تھوڑی دور پڑی ہوئی کرسیوں کی جانب بڑھ گئے تھے ۔

”ذی !….تم لوگ ایک دوسرے کے اتنا خلاف کیوں ہو ؟“

”تم لوگ ،رشین اور چائنیز کے خلاف کیوں ہو ؟“

”اوکے چھوڑو؟….تم شاید نہیں بتانا چاہتے ۔“

میں نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔”بتا تو دیا ہے ۔“

”اوکے ۔“روکھے لہجے میں کہتے ہوئے وہ وہاں سے اٹھ گئی تھی ۔یقینا اسے روس اور چائنہ کا ذکر پسند نہیں آیاتھا ۔

میں بھی اسے منانے کے بجائے سردار کی طرف متوجہ ہو گیا ۔

”یار سردار!….خود پر قابو پایاکرو ؟….ہم میدانِ جنگ یا بارڈر پر نہیں ہیں کہ تم فوراََ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جاتے ہو ؟“

”ان خنزیروں کو دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے ۔“سردار کا غصہ ابھی تک نہیں اترا تھا ۔

”تمھاری بات درست ہے مگر جگہ بھی تو دیکھی جاتی ہے ؟اورتمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ہمیں واپس بھی بھیجا جا سکتا ہے ؟….کتنا دکھ ہو گا ہمارے سینئرز کو ؟….معلوم بھی ہے ہمیں یہاں بھیجنے کے لیے کتنی رقم خرچ ہوئی ہے ؟“

”معذرت خواہ ہوں ذیشان بھائی !….آیندہ خیال رکھوں گا ؟“اس نے نادم ہو کر کہا ۔

” ٹریننگ کے میدان میں انھیں نیچا دکھا کر ہم اپنا غصہ نکال سکتے ہیں ؟“

”ان شاءاللہ ایسا ہی ہو گا۔“سردار خان نے پرعزم ہوکر کہا۔

”اچھا چلیں بریک ختم ہونے والی ہے ۔“لوگوں کو کلاس روم کی طرف بڑھتا دیکھ کر میںکھڑا ہو گیا ۔سردار نے بھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے میری تقلید کی تھی ۔ٹی بریک کے بعد انسٹرکٹر نے صرف ایک پیریڈ پڑھا کر ہمیں یہ کہہ کر چھٹی دے دی ،کہ اگلے دن ہرسنائپر اپنے ملک کی آرمی یونیفارم میں ہوگا۔

٭٭٭

شام کو کوئی کلاس وغیرہ نہیں تھی ہم دونوں ٹریک سوٹ ڈال کر پی ٹی گراو ¿نڈ میں چلے گئے ۔ بڑا خوب صورت ٹریک بنا ہواتھا ۔چار سو میٹر کے ٹریک پر بیس چکر لگانے کے بعد ہم دونوں جم میں گھس گئے تھے ۔ایک اچھے سنائپر کے لیے جسمانی اور ذہنی دونوں لحاظ سے صحت مند ہونا ضروری ہوتا ہے۔اس کے ساتھ اس میں بلا کی قوت برداشت بھی چاہیے ہوتی ہے ۔سردار خان کی طرح جوشیلے سنائپر زیادہ دیر اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکتے ۔کیونکہ دورانِ مشن ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں جہاں ذلت آمیز برداشت کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے ۔اپنے ساتھی کو آنکھوں کے سامنے مرتا دیکھ کر دم سادھ کر لیٹنا پڑتا ہے ۔ اس کے قاتل کو کیفر کردار تک پہنچانے کی سکت ہونے کے باوجود اسے چھوڑ دینا پڑتا ہے ۔اور پھر بھوک پیاس کا تو سنائپر کے ساتھ جنم جنم کا ساتھ ہے ۔یہ ایسی باتیں ہیں کہ سنائپر کی ٹریننگ کی شروعات کے ساتھ استاد اپنے شاگردوں کے ذہن میں ڈالنا شروع کر دیتے ہیں مگر وقت پڑنے پر بہت کم سنائپرز ان باتوں پر پورا اترتے ہیں۔

ہم جم سے باہر نکلے تو سورج غروب ہونے والا تھا ۔ کمرے میں جا کر ہم نے نیم گرم پانی سے غسل کیا اور کپڑے بدل کر شام کی نماز وہیں کمرے میں پڑھ لی ۔

رات کو ڈائیننگ ٹیبل پر ایک بار پھر تمام سے ملاقات ہوئی ۔جینیفر مجھے شری کانت کے ساتھ گھومتی نظر آئی مگر میرے لیے یہ بات کسی اہمیت کی حامل نہیں تھی ۔یوں بھی میں یوسف ثانی نہیں تھا کہ وہ میرے اطراف میں گھومتی رہتی ۔اتنی گپ شپ بھی اس نے جانے کس لیے کر لی تھی ۔سب سے بڑھ کر میں خود بھی اس کے ساتھ تعلق رکھنے کے حق میں نہیں تھا کہ کسی لڑکی کی قربت میں مجھ سے کوئی غلط کام بھی ہو سکتا تھا اور پھر لڑکی بھی جینیفر جیسی، جو لاکھوں میں ایک ہو؟۔سب سے بڑھ کر اس وقت میں پاک آرمی کی نمایندگی کر رہا تھا ۔گو اس علاقے میں عورت کی قربت کوغلط نہیں سمجھا جاتا،مگر میرا دین اور معاشرہ تو اس تعلق کو برا گردانتا ہے اور میرے لیے یہی کافی تھا ۔

ڈائیننگ ٹیبل پر حرام اور حلال ہر قسم کی خوراک دستیاب تھی ۔حلال کھانے والوں کے لیے برتن تک علاحدہ دستیاب تھے ۔حلال کھانے میں سبزی ،چاول اور چکن کی ڈشیںبنی تھیں جبکہ دوسروں کے لیے جو کچھ پکا تھا نہ تو ہم ان ڈشوں سے واقف تھے اور نہ واقفیت کا کوئی شوق ہی تھا ۔اس لیے ہم اپنے کھانے کی جانب متوجہ رہے ۔

ہم وہاں پر دس مسلمان تھے ۔پاکستان،ایران ،بنگلہ دیش ،انڈونیشیااور افغانستان سے تعلق رکھنے والے ہم سارے مسلم کھانے کی ٹیبل پر اکٹھے ہو گئے تھے ۔اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ مسلم چاہے کسی بھی قوم ،علاقے یا ملک سے تعلق رکھتے ہو ں۔خدا ،رسول و قران کی ایک ان دیکھی ڈور انھیں آپس میں باندھے رکھتی ہے ۔کھانے کے دوران ایک بار پھر تعارف کا سلسلہ شروع ہوا ۔سب سے زیادہ مسئلہ سردار خان کے لیے تھا کہ اسے اردو اور پشتو کے علاوہ کوئی زبان بولنی نہیں آتی تھی ۔اس کے لیے مجھے ہی مترجم کے فرائض سر انجام دینے پڑتے ۔

کھانے کے بعد ہم دونوں اپنے کمرے کی جانب چل دیے کہ دوسری خرافات کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں تھا ۔جینیفر بھی مجھے اکیلی ہی ایک سپورٹس کار کی طرف بڑھتی دکھائی دی ۔شاید وہ باہر کسی سے ملنے جا رہی تھی ۔یوں بھی اس عمر تک امریکن لڑکیاں درجنوں بوائے فرینڈ بھگتا چکی ہوتی ہیں۔

ہمارے کمرے کے اندر بھی ایک LEDموجود تھی مگر ہم دونوں کی دلچسپی سنائپنگ کے متعلق کتابوں اورسنائپرز فلموں کے ساتھ تھی ۔ایک شیلف میں سنائپنگ کے متعلق مختلف کتابیں موجود تھیں کچھ سنائپرز رائفلز کے متعلق تھیں اور کچھ مختلف سنائپرز کے تجربات کے بارے تھیں ۔کمرے میں ایک کمپیوٹر اوردرجنوں سی ڈیز بھی موجود تھیں ۔ہم سنائپر کی زندگی کے متعلق ایک معلوماتی فلم لگا کر دیکھنے لگے ۔میں یہ تو نہیں کہتا کہ ایک امریکن سپاہی پاکستان کے سپاہی سے بہتر ہے ۔لیکن یہ ضرور کہتا ہوں کہ ان کی تربیت بہت بہتر اور جدید سہولیات کو بروے کار لا کر کی جاتی ہے ۔جیسے ہم سنائپر کورس کے لیے آئے تھے تو ٹریننگ میدان کے علاوہ ، ہم تمام کے رہایشی کمروں میں بھی انھوں نے ایسی سہولیات مہیا کر د ی تھیں کہ ہم اپنے کمرے میں آرام کرتے وقت بھی سنائپنگ کے متعلق کافی کچھ سیکھ سکتے تھے ۔

کوئی بھی انسان کبھی اپنے فن میں کامل نہیں ہوتااورکوئی بھی عقل مند زندگی کے کسی مرحلے پر یہ کہنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ ابھی اسے سب کچھ معلوم ہے ۔بہ قول ِ سقراط”سب سے زیادہ جاننے والا وہ ہے ،جو یہ جانتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا ۔“

فلم دیکھنے کے دوران میں نے سردار حسین کو کہا۔” آج کے بعد ہم پشتو میں گفتگو کریں گے ۔“

”کیا مطلب ؟“اس نے حیرانی سے پوچھا۔

”مطلب یہ خان صاحب !کہ مجھے پشتو سیکھنے کا شوق ہے اور اب ایک خان کی صحبت بھی میسر آ گئی ہے تو کیوں نہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے ؟اور اس بارے مجھے استاد عمر دراز نے بھی تاکید کی تھی ؟“

”استاد عمر دراز ؟“

”ہاں استاد عمر دراز ……..“میں نے اسے استاد عمر دراز سے ہونے والی ملاقات کا حال بتا دیا ۔

”بڑے خوش قسمت ہو یارا !….میں بھی کہوں ایک دم تمھارا فائر مجھ سے بہتر کیسے ہو گیا ؟“

”یہ تو ہے ؟“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

”ویسے پشتو سیکھنا کسی فارغ وقت کے لیے موّخر کر دیتے تو ٹھیک تھا ۔کہیں سنائپر ٹریننگ ہی سے نہ ہاتھ دھو بیٹھو؟“

”فکر مہ کوہ مڑہ۔“(فکر نہ کرو)میں مزاحیہ لہجے میں بولا۔اور وہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔

٭٭٭

اگلے دن ہم پاک آرمی کی یونیفارم پہن کر گئے تھے ۔تمام اپنے اپنے ملک کی یونیفارم میں تھے ۔پیریڈ شرع ہوا توایک ادھیڑ عمر کا شخص سردار خان اور میرے درمیان آ کر بیٹھ گیا ۔وہ ترجمان تھا ۔ انسٹرکٹر کی کہی ہوئی باتیں وہ سردار کے سامنے دہراتا گیا ۔بریک ٹائم میں میںسردار کے ساتھ کھڑا ٹوٹی پھوٹی پشتو بولتے ہوئے اسے ہنسا رہا تھا ،کہ مجھے اپنی پیٹھ پیچھے جینیفر کی شوخ آواز سنائی دی وہ سورن منگ سے مخاطب تھی ۔

”ویسے نام یاد رکھنا وقت کا ضیاع ہی ہے سورن صاحب!….اب دیکھو نا تمام کی چھاتیوں پر نیم پلیٹ لگی ہے ۔نام پڑھ لو یونھی ہی دماغ کھپانے کا فائدہ ؟“

مجھے معلوم تھا کہ وہ یہ سب کچھ مجھے سنانے کے لیے کہہ رہی ہے ،مگرمیں اس کی بات پر توجہ دیے بغیر سردار سے محو گفتگو رہا ۔

اس دن بھی ہمیں چار پیریڈز پڑھائی کرنا پڑی ۔سہ پہر کو ہم ٹریک پر دوڑ رہے تھے کہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والے کلارک اور ڈونلڈ پاسکو تیز رفتاری سے دوڑتے ہوئے ہمارے قریب سے گزر گئے ۔ چند قدم آگے بڑھنے کے بعدڈونلڈ پاسکونے پیچھے مڑ کر دیکھااور طنزیہ انداز میں مسکرا دیا ۔یہ یہودی مجھے کافی دفعہ شری کانت پارٹی کے ساتھ بیٹھا ہوا نظر آیا تھا۔

”ان کی ایسی کی تیسی ؟“سردار خان نے اپنی رفتار تیز کرنا چاہی ،مگر میں نے جلدی سے اس کا بازو تھام لیا ۔

”انھوں نے اس رفتار سے ٹریک کے ایک یا دو چکر لگانے ہیں بھولے بادشاہ!….اور ہم نے پانچ کلو میٹر کا فاصلہ پورا کرنا ہے ۔“

”میں پانچ کلومیٹر کا فاصلہ بھی پورا کروں گا اور انھیں آگے بھی نہیں نکلنے دوں گا ؟“سردار خان کی پٹھانی حس بیدار ہو گئی تھی ۔

”یار!…. دماغ کو تھوڑاسا ٹھنڈا رکھو؟سنائپر کو غصہ نہیں کرنا چاہیے ۔“میں نے اسے سمجھا بجھا کر ان کا پیچھا کرنے سے روک دیا ۔اور اگلے چکر ہی میں وہ دونوں ٹریک سے اتر کر جم کی طرف جا رہے تھے ۔

”دیکھ لیا ….بس یہی ان کی پریکٹس تھی ۔“

”وہ ہمیں چڑا رہے تھے ذیشان!“سردار کا غصہ اب تک نہیں اترا تھا ۔

”تو چڑاتے رہیں؟ہمیں ضرورت ہی کیاہے چڑنے کی ؟….یہ کوئی مقابلہ تو نہیں تھا نا؟“

”تمھارا تو ہر بات میں علاحدہ فلسفہ ہوتا ہے ؟….کل اس خوب صورت لڑکی کو بھی خفا کر دیا تھا۔اب وہ ہندوو ¿ں کے ساتھ گھوم رہی تھی ۔“

میں نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔”تمھیں اس کے خفا ہونے کا غم ہے یا اس کے ہندوو ¿ں کے ساتھ گھومنے پر ؟“

وہ چند لمحے سوچنے کے بعد بولا ۔”اس کے ہندوو ¿ں کے ساتھ گھومنے پر ۔“

”مطلب میں اسے کہہ دوں کہ وہ ہندوو ¿ں کے ساتھ نہ گھوما کرے ؟….کیونکہ میرے خان بھائی کو تکلیف ہوتی ہے ۔اور اگر وہ خود کو اکیلا سمجھتی ہے تو سردار خان اس کا اکیلا پن دور کر سکتا ہے ؟“

وہ جھٹ بولا۔”یہ بھلا کیسے ممکن ہے ؟….چنارے بیگم میری جان کو آ جائے گی ؟“

”میری باجی کو کیا پتا کہ اس کا شوہر امریکہ میں کیا کرتا پھر رہا ہے ؟“

”وہ مجھے سونگھ کر بتا دیتی ہے کہ میرے دل میں کیا ؟“

”یعنی آ پ کے خیالات اتنے بدبودار ہیں کہ ان کی بو ہماری بہن فوراََ سونگھ لیتی ہے ۔

”یار !….مذاق اڑانے کی کوشش نہ کرو؟میں نے یونھی کہہ دیا تھا ۔میری طرف سے بھاڑ میں جائے ۔“

جواباََ میں ہنس کر خاموش ہو گیا تھا کہ زیادہ باتیں کرنے کی وجہ سے ہمارا سانس پھولنے لگا تھا ۔ 

اسی وقت ہم نے جینیفر کو آتے دیکھا ۔وہ اکیلی نہیں تھی ۔اس کی امریکن ساتھی کیٹ واٹسن بھی اس کے ہمراہ تھی ۔دونوں نے چست پاجامے پہنے ہوئے تھے ۔بالائی لباس بھی فقط بلاو ¿ز پر مشتمل تھا۔ مگریہ پاکستان تو تھا نہیں کہ ہمیں حیرانی ہوتی ۔وہاں کی عورتوں کے نزدیک تو وہ ایک مکمل لباس تھا ۔

”بے حیا عورتیں ۔“سردار خان نے ناک بھوں چڑھائی ۔

”دیکھ لو….تم مجھے ان سے دوستی کا مشورہ دے رہے تھے ۔“میں نے سردار کوشرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔

”وہ کیا کہتے ہیں جنگ اور محبت میں ہر کام جائز ہوتا ہے ۔“

”اس سے محبت کون کرتا ہے ؟“

وہ فلسفیانہ لہجے میں بولا۔”محبت نہ سہی ؟ہندو کے بچے سے جنگ تو ہے نا ؟“

”سردار !….جانتے ہو ؟تمھاری باتوں سے کیا نتیجہ نکلتا ہے ؟“

”کیا ….؟“

”یہی کہ تم خالص اور کھرے پٹھان ہو۔“

وہ خفت سے بولا۔”ذیشان بھائی !….طنز کر رہے ہو ؟“

”تو اور کیا کروں ؟….تم نے اس کے علاوہ مجھے کسی قابل چھوڑا ہی نہیں ہے؟“

”وہ دیکھو کافر کے بچے بھی پہنچ گئے ؟“سردار خان نے دور سے آتے ہوئے شری کانت اور راج پال کو دیکھ کر نفرت بھرے لہجے میں کہا ۔

”بھاڑ میں جائیں یار !“سردار کو کہہ کر میں امریکن تتلیوں کی پشت کو گھورنے لگا جو۔” صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ۔“سے بھی ایک قدم آگے کا لباس زیب تن کیے ہم سے تیس پینتیس میٹر آگے دوڑ رہی تھیں ۔ان کے پاجامے ،جسم کا اصل رنگ چھپانے کے علاوہ کسی عضو کو چھپانے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے ۔آج کل تو خیر سے پاکستان میں بھی اس طرح کے سکن ٹائیٹ پاجامے کا عام رواج ہے ۔بلکہ ہمارے لبرلز ہم وطنوں کا پسندیدہ لباس یہی ہے ۔وہ دونوں لڑکیاں ہماری طرح جاگنگ ہی کر رہی تھیں اس لیے ہمارے بیچ فاصلہ برقرار رہا تھا۔ شری کانت اور راج پال ٹریک کے کنارے کھڑے ہو کر ان کے قریب آنے کے منتظر رہے ۔جیسے ہی وہ دونوں ان کے قریب پہنچیں وہ ان کے ساتھ قدم ملا کر دوڑنے لگے ۔ہمارا بیسواں چکر مکمل ہو گیا تھا اس لیے ہم جم کی طرف بڑھ گئے ۔

تھوڑی دیر بعد وہ چاروں بھی شوخ جملو ں کا تبادلہ کرتے ہوئے جم میں داخل ہوئے ۔

شری کانت نے ہمیں دیکھ کر معنی خیز لہجے میں پوچھا۔”کیا حال ہے ساتھیو!“وہ گویا ہمیں یہ جتا رہا تھا کہ اس نے جینیفر کو ہم سے چھین لیا ہے ۔

سردار کے کچھ کہنے سے پہلے میں نے مسکرا کر کہا ۔”آج ،کل سے کچھ بہتر ہے کہ یہ بلا سر سے ٹلی؟۔“

شری کانت نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔”اتنی خوب صورت لڑکی کو بلا کہنے کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ انگور کھٹے ہیں ؟“

میں سادگی سے بولا۔”اب مجھے اس کے ذائقے کا کیا پتا؟….میں نے چکھا تھوڑی ہے اسے؟….یوں بھی ہم مسلمانوں کا مزاج اس بارے مختلف ہوتا ہے ۔ہم کسی کے بچے یا پھینکے ہوئے مال کو منہ نہیں لگاتے ؟“

”ہا….ہا….ہا“شری کانت نے مصنوعی قہقہہ لگایا۔”اسے کہتے ہیں کھسیانی بلی کھمبا نوچے؟“

”ہا….ہا….ہا“میں نے بھی قہقہہ لگا کر اس کا ساتھ دیا تھا ۔

اسی وقت جینیفر نے راج پال سے ہم دونوں کی گفتگو کا مطلب پوچھا ۔جواباََ راج پال نے بغیر لگی لپٹے رکھے سب کچھ اس کے گوش گزار کر دیاتھا۔اس کی بات سنتے ہی جینیفر لال بھبکا ہو کر میری طرف بڑھی ۔