ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر

قسط نمبر4

ریاض عاقب کوہلر

 

اگر میری اپنی رائفل ہوتی تو یہ ہدف نہایت آسان تھا مگر کسی دوسرے کی رائفل سے ہدف کو نشانہ بنانا نہایت مشکل ہوتا ہے ۔تین سو گزکا فاصلہ ایک سنائپر کے لیے نہ ہونے کے برابر ہے لیکن رائفل نشانہ باز ی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔یہاں قارئین کی معلومات کے لیے یہ بتاتا چلوں کہ اچھی نشانہ بازی ایک مکمل سائنس ہے ۔اس میں جہاں ایک فائرر کو بہت سی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے وہیں ہتھیارکی اہمیت بھی اپنی جگہ مسلم ہے ۔آرمی میں کسی بھی فائرنگ مقابلے یا عام روٹین کی فائرنگ سے پہلے جوان اپنے ہتھیار کو صفر کرتے ہیں ۔صفر کرنے سے مراد ہتھیار کو ایڈجسٹ کرنا ہوتا ہے تاکہ گولیاں صحیح نشانے پر لگ سکیں ۔اس معاملے میں سنائپر تو بہت زیادہ محتاط ہوتے ہیں ۔ایک سنائپر کبھی بھی اپنی رائفل دوسرے کو استعمال کے لیے نہیں دیتا ۔یقینا ایک اچھے نشانہ باز کے لیے میری پوزیشن کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں ہوگا ۔

خیر مجھے اپنے تجربے پر بھروسا تھا ۔میں نے سو گز دور پڑے ایک چھوٹے سے پتھر پر نشانہ باندھا اور سانس روکتے ہوئے ٹریگر دبا دیا ۔گولی پتھر کے دائیں کونے پر لگی تھی اس وجہ سے پتھر ایک گز بائیں جا پڑا تھا۔گویا کلاشن کوف دائیں مار کر رہی تھی ۔میں نے دوبارہ اسی پتھر کے بائیں کونے پر نشانہ باندھا ۔اس مرتبہ گولی پتھر کے درمیان میں لگی اورپتھر دو ٹکڑوں میں بٹ گیا ۔

میں نے پیچھے مڑ کر رحمت خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔

”پہلے دائیں طرف والا شیشہ ، پھر درمیانی اور آخر میں بایاں ۔“

اور سامنے مڑ کر نشانہ سادھنے لگا ۔سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس وقت ہوا بالکل ساکن تھی ورنہ ہوا فائر پر بہت زیادہ اثر ڈالتی ہے ۔سونے پر سہاگہ کہ سورج بھی میری پیٹھ پیچھے چمک رہا تھاجو نشانہ بازی کو مزید تقویت دیتا ہے ۔

کلاشن کوف کی رئیر سائیٹ پر بارہ سو تک رینج لگائی جا سکتی ہے ۔مگر ایک انسانی آنکھ ٹیلی سکوپ یا کسی دوسرے خارجی ذریعے کے بغیر تین سوسے چار سو میٹرتک صحیح نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ہتھیار بھی عموماََاس نہج پر تیار کیے جاتے ہیں ۔تین سو میٹر کے بعد شستی نقطہ اور گولی کے ملاپ میں فاصلہ بڑھنے لگتا ہے ۔یوں توگولی بہت زیادہ فاصلے تک جا سکتی ہے۔ مگر نشانے کی درستی نشانے باز کے منتخب کیے گئے فاصلے تک ہوتی ہے ۔مثلاََ اگر آرمی میں زیادہ استعمال ہونے والی رائفل جی تھری کو دیکھیں تو اس کی کارگر رینج تین سو میٹر ہے ۔اگر اسی جی تھری کے ساتھ ٹیلی سکوپ سائیٹ لگا دیں تو اس کی کارگر رینج چھے سو میٹر ہو جاتی ہے ۔جبکہ جی تھری کی گولی ساڑھے تین کلو میٹر تک ایک انسان کی جان لے سکتی ہے ۔لیکن ساڑھے تین کلومیٹر تک گولی کو منتخب ہدف تک پہنچانا ناممکن ہے ۔بلکہ کارگر رینج کے بعد ہدف کا تعین گولی خود کرتی ہے ۔گو بہت پرانے فائرر کارگر رینج کے بعد سو دو سو میٹر تک اپنے تجربے سے کچھ نہ کچھ اندازہ لگا کر ضرور کامیاب فائرکر لیتے ہیں ۔مگر یہ ان کا ذاتی تجربہ ہوتا ہے ۔عام لکھائی پڑھائی میں یہ بات نہیں آتی ۔

کلاشن کوف کی کارگر رینج بھی تین سومیٹر ہے ۔پتھر کو نشانہ بنانے کے لیے میں نے سو میٹر کی رینج لگائی تھی ۔شیشہ چونکہ تین سو گز دور تھا اس لیے میں نے تین سو کی رینج لگا کر رئیر سائیٹ کی وی سے فرنٹ سائیٹ کی ٹپ کو دیکھتے ہوئے شیشے کے بائیں کنارے کا نشانہ باندھا ۔میں زمین کے اوپر بیٹھا تھا اور میری کہنیاں اپنے گھٹنوں پر ٹکی ہوئی تھیں ۔ہتھیار کو ہدف کے متوازی تھامتے ہوئے میں نے سانس روکااور ٹریگر کو آرام سے پریس کر دیا ۔دھماکے کی آواز کے ساتھ دائیں شیشے کی کرچیاں ہوا میں بکھر گئی تھیں ۔وہاں موجود افراد کے لبوں سے تحسین آمیز آوازیں بلند ہوئیں ۔اپنی پوزیشن بدلے بغیر میں نے کلاشن کوف کی مزل کو تھوڑا بائیں گھمایااور ٹریگر دبا دیا درمیانی شیشے کی کرچیاں پہلے والے شیشے کے ساتھ مکس ہو گئیں ۔اور پھر تیسرے فائر کے ساتھ میں نے تیسرا شیشہ بھی توڑ دیا تھا۔لوگوں نے تحسین آمیز نعرہ بلند کیا ۔ سب سے پہلے اویس میرے قریب آکر مجھ سے لپٹ گیا تھا ۔

”شکریہ شانی !“اس نے جذبات سے بوجھل آواز میں کہا ۔اس کے بعد نصیب خان اور پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا تھا ۔اچھا نشانہ باز پٹھانوں کے لیے ہیرو کی مانند ہوتا ہے ۔کیونکہ ہتھیار سے پٹھان کی محبت اس کے خون میں شامل ہے ۔رحمت خان نے بھی پھیکے دل سے میری تعریف کی تھی ۔وہ مجھ سے مرعوب تو ہو گیا تھا مگر اس کے ساتھ اس کی آنکھوں میں میرے لیے نفرت کا پیغام بھی صاف پڑھا جا سکتا تھا۔خیر مجھے اس سے کچھ لینا دینا تو تھا نہیں ،کہ میں اس کی نفرت یا محبت کو خاطر میں لاتا ۔گو اسے کہنے کے لیے میرے پاس کافی ذخیرہ الفاظ موجود تھا ۔مگر اس کے منہ پر تھپڑ مارنے کے لیے میری نشانہ بازی کا عملی مظاہرہ ہی کافی رہاتھا ۔ اس کے بعد وہ ہماری روانگی تک مجھے نظر نہیں آیاتھا ۔

ایک صاحب نے نزدیک آ کر میری پیٹھ تھپتھاتے ہوئے کہا ۔

”بھائی صاحب !….آج تو آپ نے یوسف خان کی طرح لڑکی والوں کی منہ مانگی شرط پوری کی ہے۔“

مجھے یوسف خان کی کہانی کا تو علم نہیں تھا ،مگر میں نے ہنس کر اس کا شکریہ ضرور ادا کر دیا تھا ۔ 

دولھن کو اس کی رشتا دار عورتیں پکڑ کر باہر لائیں اور کار میں بٹھانے لگیں ۔دوسری عورتیں اور مرد بھی بسوں وغیرہ میں بیٹھنے لگ گئے تھے ۔میں اپنی ویگن کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ اچانک مجھے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا دباو ¿ محسوس ہوا ۔میں نے مڑ کر دیکھا ۔ ایک عمر رسیدہ بزرگ کھڑے تھے ۔

”اسلام علیکم باباجی !“میں نے جلدی سے مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔مجھے اندازہ تھا کہ وہ میری نشانہ بازی پر مجھے سراہنے والا کوئی ہو گا ۔کیونکہ کافی انجان آدمیوں نے بڑی محبت اور چاہت سے میری پیٹھ تھکنے کے ساتھ مجھ سے بڑی چاہت سے معانقہ بھی کیا تھا ۔مگر جب اس بوڑھے نے لبوں کو جنبش دی تو میں ششدر رہ گیا تھا ۔

”بیٹا !….بہت مایوس کیا آپ نے ۔“اس نے افسوس بھرے انداز میں سر ہلایا۔

”وہ کیسے بزرگو!….؟“میرے لہجے میں حیرانی کے ساتھ طنز کی بھی آمیزش تھی ۔

وہ مدبرانہ لہجے میں گویا ہوا ۔”بیٹا!جسے آپ اپنے تیئں کارنامہ سمجھ رہے ہو میرے نزدیک ایک نو آموز کی درمیانہ درجے کی کارروائی ہے ۔عام لوگوں کا سراہنا اپنی جگہ مگر آپ ایمانداری سے بتائیں جب پتھر پر پہلی گولی چلانے کے ساتھ آپ کویہ پتا چل گیا تھا کہ گولی کس طرف کو جا رہی ہے تو دوسری گولی چلانے کا فائدہ ؟….یہ سراسر اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ آپ میں خود اعتمادی کی کمی ہے ۔ہوا بھی ساکن تھی ،روشنی آپ کے موافق،پھردوسری گولی کیوں ضائع کی ۔سنائپر کے لیے ایک گولی کی کتنی اہمیت ہوتی ہے کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے۔پھر آپ نے پہلے شیشے کے درمیان میں گولی ہٹ کی دوسرے شیشے پر یہ گولی دائیں کنارے پر لگی اور تیسرے شیشے پر یہ گولی بائیں کنارے پر لگی ۔میں خود قریب جا کر دیکھ کر آیا ہوں ۔یہ کون سی سنائپنگ ہے ؟….سراسر اناڑی پن ہے۔اور پہلی گولی کے بعد ہر نیا نشانہ لیتے ہوئے آپ نے دس سے پندرہ سیکنڈز ضائع کیے ۔اگلا نشانہ ایک سے دو سیکنڈ کے اندر لے لینا چاہیے تھا۔ جبکہ سنائپر رائفل کے بر عکس آپ کے ہاتھ میںکلاشن کوف تھی جو کہ آٹو میٹک ہتھیار ہے۔“

اس بوڑھے کی باتوں نے مجھے ایک دم احساس دلا دیا کہ میں کسی اہل فن کے سامنے کھڑا ہوں۔اس کا مشاہدہ غضب کا تھا ۔یقینا ایک ہی رائفل سے فائر کرنے والے اچھے فائرر کی گولیاں ایک ہی جگہ پر لگنی چاہیں تھیں۔اور نشانے کو یقینی بنانے کے لیے میں نے واقعی عام حالت کے بر عکس زیادہ وقت لگایا تھا ۔

میںنے خفیف لہجے جواب دیا ۔”آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں سر !….وہ کیا کہتے ہیں اندھوں میں کانا راجا،تو بس وہی مثال مجھ پر فٹ بیٹھتی ہے ۔مجھے کیا معلوم تھا کوئی استاد یہاں موجود ہے۔ اگر پتا ہوتا تو ضرور احتیاط کرتا ۔ گو اس کے بعد بھی آپ میری غلطیاں ڈھونڈلیتے مگر یہ یقینی بات ہے کہ ایسی صورت میں غلطیوں کی تعداد میں تھوڑی کمی ضرورہوتی ۔“

”بیٹا !….ہمیشہ یاد رکھو ایک سنائپر کے لیے ضرروی ہے کہ وہ جب بھی ٹریگر پریس کرے یہ سوچ کر کرے کہ اس کے پاس آخری گولی ہے جو نشانے پر لگنے کی صورت ہی میں اس کامشن پایاے تکمیل تک پہنچ سکتا ہے ۔“

”ویسے سر !…. آپ کو کیسے پتا چلا کہ میں سنائپر ہوں ؟“میں متجسس ہوا ۔

وہ ہنسا۔”جس نے عمر کا بہترین حصہ اس شغل میں بِتایا ہو ؟ یہ سوال اس کا مذاق اڑانے ہی کے مترادف ہے ۔“

”آپ کا نام جان سکتا ہوں سر؟“

”آج کل مجھے عمر درازخان کہتے ہیں۔ویسے کبھی عزرائیل ثانی کہہ کر پکارا جاتا تھا۔“

”کیا ؟“میں نے بے ساختہ اس کے ہاتھ تھام کر چوم لیے ۔وہ میرے استادوں کے استادوں کا بھی استاد تھا ۔اس وقت پاک آرمی میں سنائپنگ کے لیے جی تھری پرٹیلی سکوپ سائیٹ لگا کر استعمال کیا جاتا تھا۔وہ جی تھری رائفل سے چھے سو میٹر تک بھی ایک آدمی کے عین دونوں آنکھوں کے درمیان گولی مارنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔(آج کی جدید سنائپر رائفل سے ایک نو آموز بھی چھے سو میٹر پر ہدف کو آسانی سے نشانہ بنا سکتا ہے ۔مگر جی تھری رائفل سے چھے سو کے فاصلے پر کسی آدمی کو نشانہ بنانا بہت بڑاکمال تھا کجا یہ کہ اس کے سر میں گولی ماری جائے )دوسو اور تین سو میٹر کے فاصلے سے وہ ٹارگٹ پر کوئی بھی نام لکھ لیتا تھا ۔اس کی کہانیاں آج تک سنائپرز میں زبان زد عام تھیں ۔وہ کبھی اپنے مشن کو ادھورا چھوڑ کر نہیں لوٹا تھا۔ استاد ہمیں بتاتے تھے کہ وہ اڑتی ہوئی مکھی کو بھی نشانہ بنا سکتا تھا۔وہ ہمارے لیے ہیرو کا درجہ رکھتا تھا۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد وہ بہ ظاہر گم نام ہو گیا تھا مگر اس کے شاگرداور پھر شاگردوں کے شاگرد آج تک اس کے کارناموں اور اس کے نام کو زندہ رکھے ہوئے تھے ۔

”آپ مجھے جانتے ہیں ؟“اس کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ ابھری جس میں غرور کے بجائے انکساری چھپی تھی ۔

میں نے فرط عقیدت سے کہا۔”آپ میرے ہیرو ہیںسر!….بلکہ میرے کیا ہم سب کے ہیرو ہیں۔“

”آپ لوگوں کی محبت ہے بیٹا!“

اسی وقت اویس نے مجھے آواز دی ۔”ذیشان!….ہم بس تمھاراہی انتظار کر رہے ہیں ۔“

”اچھا سر !….اجازت دیں ۔“ میں نے ایک مرتبہ پھر اس کے دونوں ہاتھوں کو تھا م کر چوما۔ ”میں ان شاءاللہ جلد ہی آپ کو ملنے دوبارہ آو ¿ں گا ۔“

”ضرور بیٹا !“اس نے مجھے کھینچ کر چھاتی سے لگایا اور میرے ماتھے پر بوسا دیتے ہوئے بولا۔ ” لگتا ہے تم میرا ریکارڈ توڑ دو گے ۔“اس نے اپنائیت سے مجھے آپ کے بجائے تم کہا تھا۔جو مجھے بہت اچھا لگاتھا۔

”مشکل ہے سر !“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”ہاں البتہ کوشش ضرور کروں گا ۔“

”گڈ ،اور جب ملنے آنا تو وہ میرا مکان ہے ۔“اس نے تھوڑی دور موجود ایک سفید رنگ کے پختہ مکان کی طرف اشارہ کیا ۔

میں ”شکریہ ۔“کہہ کر منتظر کھڑی ویگن کی طرف بڑھ گیا ۔

٭٭٭

اگلے دن اویس کی دعوتِ ولیمہ تھی ۔جہاں میں مرکزِ نگاہ بنا رہا ۔مرد تو کیا گاو ¿ں کی عورتوں کوبھی میرے کارنامے کی بابت پتا چل گیا تھا ۔اویس تو میرے صدقے قربان جا رہا تھا ۔اس نے ہنستے ہوئے اپنی نئی نویلی دولھن کا شکریہ بھی مجھ تک پہنچا دیا تھا۔

”بس یار اللہ پاک نے عزت رکھ لی ۔“میں نے انکساری سے اس کی بات کا جواب دیا ۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا ۔”بالکل اللہ پاک ہی سب کی عزت رکھنے والا ہے ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر بندہ اس طرح کی استادی نہیں دکھا سکتا ۔“

اس وقت بشیر بابا نے آکر مجھے چھاتی سے لگا لیا ۔”واہ میرے شیر !….دل خوش کر دیا ہے ۔ اگرآپ نہ ہوتے تو کل شایدپٹھان بھائیوں کے سامنے ہماری سبکی ہو جاتی ۔“

”عزت ذلت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے چچا ۔“

”ہاں بیٹا !صحیح کہا ۔ سبب بھی تووہی پا ک پروردگار پیدا فرماتا ہے ۔“

میں اثبات میں سر ہلا کر اویس کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گیا ۔صبح دس بجے ہی کھانا کھلانے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا ۔میں چونکہ دولھا کا قریبی دوست تھا اس لیے میں بھی انتظامیہ میں تھا ۔اور پھر دن بارہ بجے کے قریب ابوجان نے وہیں آکر مجھے ایک مہمان کی آمد کی اطلاع دی ۔

”کون ہے ابو جان ؟“

”تمھارا فوج کا کوئی ساتھی ہے بیٹا!“

”اسے یہیں ساتھ لے آنا تھا۔“

ابوجان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”وہ ہمارا مہمان ہے بیٹا ….تمھارے دوست اویس کا نہیں ۔“

”اچھا آپ چلیں ،میں اویس کو بتا کے آتا ہوں ۔“

ابوجان سر ہلاتے ہوئے واپس مڑ گئے اور میں اویس کی طرف بڑھ گیا،کہ اس سے اجازت لینا ضروری تھا ۔

”یار مہمان کو بھی یہیں لے آتے ۔“اویس نے بلا تکلف آفر کی ۔

”میرا بھی یہی ارادہ تھا مگر ابوجان کہتے ہیں گھر کی رحمت پر پہلا حق اسی گھرانے کا ہوتا ہے جہاں رب پاک نے وہ رحمت بھیجی ہوتی ہے ۔“

”چلو ٹھیک ہے ۔“وہ پھیکی مسکراہٹ سے بولا اور میں گھر کی جانب چل دیا ۔

بیٹھک میں ابوجان کے ہمراہ شہزاد بیٹھا تھا ۔اس کاتعلق بھی تلہ گنگ ہی سے تھا ۔

”ارے شہزادے !….

تم؟“میں بازو پھیلا کر اس کی جانب بڑھا ۔وہ بھی مسکراتے ہوئے کھڑا ہو گیا تھا ۔پرتپاک معانقے کے بعد میں اس کے ساتھ ہی چارپائی پر بیٹھ گیا ۔

”اچھا آپ لوگ گپ شپ کرومیں کھانے کا دیکھ لوں ۔“ابوجان گھر کے اندر کی جانب بڑھ گئے ۔ٹیبل پردھرے چاے کے برتن وہ ساتھ لے جانا نہیں بھولے تھے ۔

”سناو ¿ بھئی !کیسے رستا بھول پڑے ؟“

وہ ہنسا۔”کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔“

”یا اللہ خیر۔“میں نے ڈرنے کی اداکاری کی ۔

” اتنا بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بس تمھاری بقیہ چھٹی منسوخ ہو گئی ہے ۔“

”دھت تیرے کی ۔“میں نے منہ بنایا۔

”گھبرا گئے ؟“

”نہیں بہت خوش ہوں ۔“میں نے طنزیہ لہجے میں جواب دیا ۔

”وجہ نہیں پوچھو گے؟“

”نہیں ….پہلے چھٹی کی منسوخی کی خبر ہضم کر لوں ۔“

”اب اتنا بھی خراب نہیں ہے تمھارا ہاضمہ ۔“

”اچھا پھوٹو ….تمھارے پیٹ میں درد ہو رہا ہو گا ۔“

”ہا….ہا….ہا۔“اس نے قہقہہ لگایا۔”یقین مانو کسی فوجی کے لیے سب سے بری خبر چھٹی سے بلاوے کی ہوتی ہے ۔“

”صحیح کہا یار !“میں نے تکیے کے ساتھ ٹیک لگالی ۔

”کسی کورس کے سلسلے میں ملک سے باہر جانے کا سنا ہے میں نے ۔“اس نے محتاط الفا ظ میں مجھے اصل بات بتانا چاہی ۔

”ملک سے باہر ،کیا میں نے جانا ہے ؟“میرے لہجے میں بے یقینی تھی ۔

”دو نشانہ باز جائیں گے اور ان کا انتخاب کارکردگی کی بنیاد پر ہو گا ۔“

”تو دو بندوں کے جانے کا میری چھٹی سے کیا تعلق ….؟“

”کل سے تمام لوگوں کی دو ہفتوں کی پری ٹریننگ شروع ہو رہی ہے ۔ٹریننگ کے اختتام پر اچھی کارکردگی والے دو سنائپرز امریکہ جائیں گے ۔وہاں پر دوسرے ممالک سے بھی کچھ سنائپرز آ رہے ہیں ۔ اس اکٹھ میں پہلا ہفتہ تو رینج ماسٹر کی سائیٹ کے بارے جان کاری مہیا کرنے کے متعلق ہوگااس کے بعد آٹھ ہفتوں کاسنائپر کورس ہے جس میں کارکردگی کی بنیاد پر سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیے جائیں گے اور یقینا ہر ملک چنے ہوئے افراد ہی بھیجے گا ۔اور یہی کوشش ہمارے کمانڈر کی بھی ہے ۔“

”مگر یار!…. رینج ماسٹر تو برطانیہ کا ہتھیار ہے ؟“میں نے حیرانی سے پوچھا ۔(ان دنوں رینج ماسٹر نئی نئی پاکستان آرمی میں وارد ہوئی تھی ۔یہ ایک لانگ رینج اور بڑے کیلیبروالی سنائپر رائفل ہے ۔ اوراپنی ٹیلی سکوپ سائیٹ کی مدد سے کوئی بھی اچھا نشانے باز اس سے ڈیڑھ سے دو کلومیٹر تک کسی انسان کو نشانہ بنا سکتا ہے ۔اپنے بڑے کیلیبر کی وجہ سے اسے افراد کے علاوہ میٹریل کے خلاف بھی استعمال کیا جا سکتاہے۔)

”ہاں ،مگر لیوپولڈ سائیٹ ایک امریکن کمپنی کی ایجاد ہے ۔“اس نے میری معلومات میں اضافہ کیا ۔

”جانا کب ہے ؟“

”بتایا تو ہے ۔دو ہفتوں کی ٹریننگ کے بعد جن افراد کا انتخاب ہوگا وہی جائیں گے۔ شاید ہفتہ ایک مزیدکاغذی کارروائی وغیرہ میں لگ جائے ۔“

”مطلب دو ہفتوں بعد مجھے بقیہ چھٹی مل جائے گی ؟“

اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”کیوں ؟تم نہیں جانا چاہتے ؟“

”میرے چاہنے سے کیا ہو گایار!،کئی پرانے سنائپر موجود ہیں وہ ہمیں آگے تھوڑابڑھنے دیں گے۔“

وہ خلوص سے بولا۔”کوشش کرو۔ تم جا سکتے ہو۔“

”خوش فہمی ہے تمھاری ۔“

”نہیں ….خوش فہمی ہمیشہ اپنے بارے ہوا کرتی ہے ۔“اس نے کہا ۔اسی وقت ابوجان کھانے کے برتنوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے ۔میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔

”ابو جان!مجھے آواز دے لی ہوتی۔“میں نے جلدی سے برتن ان کے ہاتھ سے پکڑ لیے ۔

”کوئی بات نہیں بیٹا !….“ابو جان نے مسکرا کر کہا۔”یہ کون سا بھاری بوجھ ہے ۔چند روٹیاں اور ڈونگا بھر سالن ہی تو ہے۔“

”بات وزن کی نہیں احساس کی ہے ابو جان !“

مجھے نادم دیکھ کر ابو جان نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔”مہمان کے لیے لایا ہوں بیٹا!“

”آپ بھی آئیں نا ۔“انھیں واپس جاتے دیکھ کر میں نے کہا ۔

”میں کھا چکا ہوں ۔“

”میں بھی آپ کا ساتھ نہیں دے سکتا ۔“کھانے کے برتن شہزاد کے سامنے دھرتے ہوئے میں صاف گوئی سے بولا۔

”کیوں ڈائیٹنگ کر رہے ہو یابھابی کی اجازت نہیں ہے۔“

”میں ولیمے سے آ رہا ہوں ۔کیا کوئی گنجایش سے ہو سکتی ہے ؟“

”یقینا نہیں ۔“کہہ کر وہ کھانے کو جڑ گیا ۔مگر اس دوران اس کی زبان نہیں رکی تھی ۔

”یار شانی !….تمھارا نشانہ بہت اچھا ہے اور سنائپنگ میں نشانے کی بہت اہمیت ہوتی ہے ۔“

”اچھا ایک اور بات بتاو ¿ں….“مجھے استاد عمر دراز سے ملاقات یاد آئی ۔”کل اپنے دوست کی اویس کی شادی کے سلسلے میں ہم صوابی گئے تھے وہاں اتفاق سے استاد عمر دراز سے ملاقات ہو گئی ۔“

”عمر دراز ….؟“

میں ہنسا۔ ”تم اسے عزرائیل ثانی کے نام سے جانتے ہو گئے ۔“

”کیا ….یعنی وہ ایک حقیقی کردار ہے ؟“اس نے چبائے بغیر نوالہ نگلتے ہوئے حیرانی سے پوچھا۔

اس کی حیرانی بجا تھی استاد عمر دراز کے اتنے زیادہ قصے ہم نے سنے تھے کہ ہمیں وہ افسانوی کردار لگتاتھا۔

”بالکل ۔“

”مگر تم نے اسے کیسے پہچانا،مطلب تمھارا تعارف کیسے ہوا؟“

جواباََمیں نے ملاقات کی ساری تفصیل دہرا دی ۔

اس نے بے ساختہ مجھے داد دیتے ہوئے کہا۔”واہ ….اس کا مطلب ہے جناب کی نشانہ بازی کی شہرت پنجاب سے خیبر پختون خواہ تک پھیل چکی ہے۔“

”شہرت کہاں یار!….استاد عمر دراز نے میرے شیخی کے غبارے سے ایسے ہوا نکالی کہ اب تو شرمندگی ہو رہی ہے ۔“

”بے وقوف ہو تم ….اس جیسے اہل فن کا تمھاری نشانہ بازی پر بات کرنا ہی تمھارے لیے باعثِ فخر ہے ۔“

”صحیح کہا ۔“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

”ویسے وہ دکھنے میں کیسا ہے ؟“

”درمیانی قد و قامت کا ہے ۔قریباََ میرے جتنا ہی قد ہو گا ۔“

”کبھی موقع ملا تو ملاقات کو چلیں گے ۔“

”انشا ءاللہ ،ضرور۔“میں نے کہا۔

”واپسی کا کیا ارادہ ہے ؟“

”اپنی کہو ۔“

”جمعہ کو آیا تھا اور آج ہی واپسی ہے ۔“

”ٹھیک ہے بس اڈے پر میرا انتظار کرنا۔اکٹھے چلیں گے ۔“

اوراس نے کھانے سے ہاتھ کھینچتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔

٭٭٭

دوڑنا بھاگنا آرمی کے ہر کورس، کھیل اور کیڈر کا جزو لاینفک ہے ۔ہم بھی صبح کی سخت ترین پی ٹی کے بعد فائرنگ رینج پر پہنچے تو انسٹرکٹر شدت سے منتظر نظر آئے ۔چونکہ پی ٹی اور فائرنگ کے انسٹرکٹر علاحدہ علاحدہ تھے اس لیے فائرنگ انسٹرکٹروہاں پہلے سے وہاں موجود تھے ۔صوبیدار راو ¿ تصور صاحب ہمیں پڑھانے لگے۔

”سنائپنگ آپ لوگوں کے لیے کوئی نیا موضوع نہیں ہے لیکن الفاظ کے تکرار اور دہرائی سے ہمیشہ انسان کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ کوئی بات دوسری یا تیسری دفعہ سمجھانے پر انسان کے دماغ میں بیٹھتی ہے ۔ہم آج بھی زیادہ تر پرانی باتوں کو دہرائیں گے ۔ اس کا یہ مطلب لینابھی بالکل غلط ہے کہ کچھ نیا نہیں پڑھیں گے ۔گویا ہم دہرائی کے ساتھ پڑھائی بھی کریں گے ۔آپ جانتے ہوں گے کہ ایک اچھے سنائپر کے لیے چند باتوں کی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔جیسا کہ وہ اچھا نشانے باز ہو ،چھپاو ¿ اور تلبیس کا ماہر ہو ،جنگی چالو ںسے اچھی طرح واقف ہو ،اسے نقشہ بینی پر عبور ہو ،بہت زیادہ قوت برداشت کا مالک ہواور جلدی سے فیصلہ کر کے اس پرعمل کرنے کی اہلیت رکھتا ہو ۔گو اس کے علاوہ بھی کئی خصوصیات ایک اچھے سنائپر سے توقع کی جا سکتی ہیں مگر ان کی حیثیت ثانوی ہے ۔جہاں تک تعلق ہے نشانہ بازی کا یہ ایک قدرتی صلاحیت ہوتی ہے ۔اور زیادہ سکھلائی اس صلاحیت کو مزید پالش کرتی ہے ۔ اگر ایک آدمی قدرتی طور پر اچھا فائرر نہیں ہے تو زیادہ پریکٹس سے اس کا فائر بہتر تو ہو سکتا ہے بہترین نہیں ہو سکتا ۔ مطلب وہ اچھا سپاہی بن سکتا ہے ،اچھا سنائپر نہیں بن سکتا ۔ نشانہ بازی کے علاوہ جلدی اور بر وقت فیصلہ کرنے کی اہلیت بھی ایک آدمی کو قدرتی طور پر میسر ہوتی ہے ۔البتہ باقی کی صلاحیتیںمشق کی متقاضی ہوتی ہیں۔جیسے چھپنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ چیزیں نظر کیوں آتی ہیں،کوئی بتا سکتا ہے چیزیں نظر کیوں آتی ہیں ؟“راو ¿ صاحب ہمیشہ تبادلہ خیال کے انداز میں لیکچر دیتے ۔

”جی سر !“شہزاد جلدی سے بولا۔”شکل و صورت سے ،سا ئے سے ،حرکت سے،فوجی سازو سامان سے،سطح سے ،پس منظر سے،۔درمیانی فاصلے سے۔ “

”گڈ،اب جبکہ ہمیں پتا چل گیا کہ ہم کس وجہ سے نظر آ سکتے ہیں تو چھپنے کے لیے ہمیں ان باتوں سے پرہیز کرنا ہو گا ۔دیکھیں بھیڑوںکے ریوڑ کے درمیان چلتا ہوا گڈریا ہمیں فوراََ نظر آ سکتا ہے لیکن وہی گڈریا اگر اپنے ہاتھ زمین پر ٹیک کر گھٹنوں کے بل چلنا شروع کر دے تو یقینااس کا نظر آنا ممکن نہیں رہے گا۔کیاخیال ہے ؟“

”جی سر !“ہم یک زبان بولے تھے ۔

”اسی طرح سرسبز جھاڑیوں کے بیچ سفید ،سرخ ،زرد رنگ وغیرہ قسم کا لباس پہن کر چھپنے کی کوشش کرنا،ناکامی کو گلے لگانے والی بات ہے ۔البتہ سبز رنگ کا لباس آپ کو سبزے کا حصہ بنا دے گا ۔ اس کے برعکس اگر آپ برفیلے علاقے میں ہیں تو وہی سبز رنگ آپ کوپھنسا دے گا۔وہاں آپ کو سفید رنگ کالباس چھپنے میں مدد دے سکتا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیں کہ ساکن اشیاءکے درمیان آپ کی ذرا سی حرکت بڑی آسانی سے مشاہدے کی زد میں آ جائے گی اور سکائی لائن پر حرکت تو ایک سنائپر کے لیے تباہ کن ہے ……..“ان کی باتیں جاری رہیں ۔راو ¿ صاحب کا کسی بھی موضوع پر لیکچر سن کر میرے دل میں یہی خیال جنم لیتا کہ میں اس موضوع کے بارے بہت کم جانتا ہوں ۔ہمیشہ ان کے لیکچر میں نئے نئے نکات اور عمدہ معلومات کی بھر مار ہوتی ۔ دوپیریڈپڑھائی کے بعد ہم فائر کرنے لگے اور بقیہ دن اسی کام میں گزرا ۔

٭٭٭

دو ہفتوں کے بعدپر ہمارا ٹیسٹ ہونا تھا جس میں سب سے زیادہ نمبر نشانہ بازی کے تھے ۔ پہلے ہفتے کے اختتام پر میںنے ویک اینڈ لیا،لیکن گھر جانے کے بجائے میں نے صوابی کا رخ کیا تھا۔ہمارے استاد ہمیں بہت اچھا پڑھا رہے تھے مگر اس کے باوجود میری خواہش تھی کہ میں مقابلے کے ٹیسٹ سے پہلے استاد عمر دراز سے کوئی رہنمائی لے لوں ۔یقینا اس کے پاس عملی تجربہ موجود تھا ۔صوابی سے بیس بائیس کلومیٹر آگے اس کا گاو ¿ں تھا ۔شیوا نام کا گاو ¿ں کافی بڑا تھا ۔اس کامکان ڈھونڈنے میں مجھے کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی ۔دروازے پر اطلاعی گھنٹی کی غیر موجودی میں مجھے دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔

دروازہ استاد عمر دراز ہی نے کھولا ۔”ارے ذیشان بیٹا ۔“مجھے دیکھتے ہوئے اس نے حیرانی سے کہا اور اس کے ساتھ ہی معانقے کے لیے بازو وا کر دیے۔

”جی سر !“میں نے احترام سے جواب دیا ۔

”اندر آجاو ¿۔“اس نے ایک طرف ہو کر مجھے اندر جانے کا رستا دیا ۔

”ویسے سر !شایدمیں نے اپنا نام آپ کو نہیں بتایا تھا ۔“میں نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے حیرانی سے پوچھا ۔

”یہ سوال اس بات کا ثبوت ہے کہ تم اپنی ٹریننگ کو عام زندگی میں بروے کار نہیں لا رہے ۔“

”بھلا وہ کیسے ؟“استاد عمر دراز کے اشارے پر میں صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا تھا ۔

”بھول گئے،اس دن جب تم لوگ واپس جا رہے تھے تو تمھارے دوست نے نام لے کر تمھیں پکارا تھا۔اور ایک سنائپر کی یاداشت اتنی کمزور نہیں ہونی چاہیے کہ اسے ہفتے ڈیڑھ میں اسے کسی کا نام بھول جائے۔

اس کی بات سن کرمیں ششدر رہ گیا تھا۔واقعی میں اس کی یاداشت اور مشاہدہ غضب کا تھا۔کسی دوسرے کے پکارنے پر کسی کا نام یوں یاد رکھ لینا بہ ظاہر نظر عام سی بات ہے مگر روز مرہ کی زندگی کو دیکھیںتو اس بات کااندازہ ہوگا ،کہ کیاہم سرسری ملاقات میں کسی کا نام اس طرح یاد رکھ سکتے ہیں،یقینا سیکڑوں میں کوئی ایک ادھ بندہ ہی یاد رکھ پاتا ہو گا ۔

”سر !آپ قدرتی سنائپر ہیں ۔“میں تعریف کیے بنا نہیں رہ سکا تھا ۔

”برخوردار !ایک نام یاد رکھنے سے میں سنائپر بن گیا ۔“

”سر!….نام تو میں ایک وقت میں درجنوں یاد کر لوں گا ،الحمداللہ میری یاداشت بھی بہت اچھی ہے،مگر آپ انداز تھوڑا نرالا لگا۔“

وہ ہنسا ۔”خیر چھوڑو۔یہ بتاو ¿ چاے، قہوہ یا ٹھنڈا چلے گا؟“

”موسم کی مناسبت سے تو ٹھنڈا ہی بہتر رہے گا ۔“میں نے بغیر کسی تکلف کے جواب دیا۔

اس نے وہیں سے زور دار ہانک لگائی ۔”وشمہ !“اور اس کے بعد پشتو میں جوکچھ کہااس میں صرف شربت کا لفظ میرے پلّے پڑا تھا۔

اور پھر اس سے پہلے کہ میں وشمہ کے بارے کوئی اندازہ لگاتا وہ اپنا تعارف کرانے لگا۔اس کی نرینہ اولاد نہیں تھی ۔دو بیٹیاں تھیں جو کہ کب کی اپنے گھروں کی ہو گئیں تھیں بلکہ اب تو خود بچوں والی تھیں۔ ان دنوں وہ اپنی گھر والی کے ساتھ اکیلا ہی رہ رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ مجھے سیدھا گھر کے اندر لے آیا تھا ورنہ پٹھانوں میں کسی کو گھر کے اندر لے جانے کا رواج ذرا کم ہی ہے ۔مہمانوں کی خاطر ہر گھر سے ملحق بیٹھک موجود ہوتی ہے ۔

شربت بنا کر اس کی بیوی وہیں لے آئی تھی ۔جگ گلاس ٹیبل پر رکھ کر اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر پشتو میں کچھ کہا ۔جس کا ترجمہ استاد عمر دراز نے کیا ۔وہ مجھ سے حال چال پوچھ رہی تھی۔

”ٹھیک ٹھاک ہوں خالہ !….بس آپ کی دعا چاہیے ۔“میں نے اردو میں کہا ۔

میر ی کا ترجمہ بھی استاد عمر دراز نے پشتو میں کیا اور وہ سر ہلاتے ہوئے واپس چلی گئی ۔

استاد عمر دراز نے مسکراتے ہوئے مجھے مشورہ دیا۔”ویسے تمھیں پشتو سیکھ لینا چاہیے ۔“یہ کہہ کر وہ جگ سے گلاس بھرنے لگا۔

”صحیح فرمایا۔“شربت کا گلاس اس کے ہاتھ سے تھامتے ہوئے میں اطمینان سے بولا۔”فی الحال تو آپ مجھے نشانہ بازی کے بارے کچھ سکھائیں۔“

”اتنے اچھے نشانہ باز تو ہو تم ۔“

”شایدایسا ہی ہے ،مگر میں آپ جیسا بننا چاہتا ہوں۔“

”تو کس نے کہا کہ تم مجھ سے کم ہو۔“

”سر !گوآپ کسرِ نفسی سے یہ کہہ رہے ہیں ۔اس کے باوجود میں پھولے نہیں سما رہا ۔“

”اب ایسا بھی نہیں ہے ۔“

سر !اب چھوڑیں بھی یہ نہ ہو میں پھول کر پھٹ ہی جاو ¿ں۔اور میری یاداشت اتنی بھی کم زور نہیں ہے ۔مجھے آپ کی ساری گفتگو حرف بہ حرف یاد ہے کہ میرے فائر میں آپ کو کون کون سی خامیاں دکھائی دی تھیں اب میں وہ اور اس جیسی مزیدخامیاں دور کرانے آیا ہوں۔“

” اس کے لیے آپ کے اساتذہ موجود ہیں نا ۔“اس نے حیرانی سے پوچھا ۔”یا ان سے مطمئن نہیں ہو ؟“

”نہیں بہت اچھے استاد ہیں ،خاص کر راو ¿ تصور صاحب تو بہترین انسٹرکٹر ہیں ۔“میں خلوص دل سے بولا ۔”لیکن آپ تو ان کے بھی استاد ہیں ،بلکہ ان کے استادوں کے استاد۔“

”ہاں مگر اب تو کئی جدید رائفلز متعارف ہو گئی ہیں اور ہم ٹھہرے ماضی کے سنائپر ۔“

”سر !نشانہ بازی کی اصل ٹیکنیکس تو وہی ہیں نا ۔“

وہ مسکرایا۔”ویسے تمھارے بارے میرا اندازہ ٹھیک تھا،کہ کافی ضدی ہو۔“

”پرسوں شام کو میری واپسی ہے ۔“میں نے اطمینان بھرے لہجے میں کہا ۔

”ہتھیار تو یقیناساتھ نہیںلایا ہوگا ؟“اس نے پوچھا۔

میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا ۔”سر! آپ تو آرمی کے قوانین کے بارے اچھی طرح جانتے ہیں ۔“

”یونھی پوچھ لیا تھا ۔ویسے میرے پاس ڈریگنوو موجود ہے ۔“

”اوہ ویری گڈ ۔“میں نے تحسین آمیزلہجے میں کہا ۔(ڈریگنوو سنائپر رائفل روس کی ایجاد کردہ ایک آٹومیٹک سنائپر رائفل ہے حالانکہ عمومی طور پر سنائپر رائفلز بولٹ ایکشن ہوتی ہیں مطلب ہر دفعہ فائر کے بعد رائفل کو کاک کرنا پڑتا ہے ۔اس کی رینج ہزار میٹر ہے اور میگزین میں دس گولیوں کی گنجائش ہے ۔ اس کا بُلٹ سٹائر سنائپر جتنا ہی ہوتا ہے مطلب 7.62ایم ایم ۔)

”بس میاں !شوق تھا پچھلے سال کچھ رقم ہاتھ لگی اور میں نے اپنا شوق پورا کر لیا ۔ٹھہرو تمھیں دکھاتا ہوں ۔“یہ کہہ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔اور چند لمحوں بعد ڈریگنوو رائفل کو ہاتھ میں پکڑے کمرے سے برآمد ہوا ۔رائفل کی بھوری باڈی چمک رہی تھی ۔واضح طور پر نظر آرہا تھا کہ استاد عمر دراز اس کی صفائی کا خصوصی اہتمام کرتا ہے ۔

”یہ دیکھو ۔“اس نے رائفل اس انداز میں دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر میرے حوالے کی گویا وہ کوئی مقدس صحیفہ ہو ۔

میں نے اس کے ہاتھ سے رائفل تھامتے ہوئے اپنی ٹریننگ کے مطابق سب سے پہلے رائفل کی میگزین اتاری اور پھر دو دفعہ کاک کرکے اس کے خالی ہونے کا یقین کرنے کے لیے اس کی بیرل اوپر کی طرف کرکے میں نے ٹریگر پریس کیا اور پوچھا ۔

”کافی مہنگی آئی ہو گی ؟“

”نہیں، میرے شوق سے تھوڑی کم قیمت ہی تھی ۔“

”ہاں سر !شوق سے تو ہر قیمت کم ہی ہوتی ہے ۔اوراس کی ٹیلی سکوپ سائیٹ؟“میں بے ساختہ ہنس کر پوچھا۔

”خریدی تھی ۔اس کے بغیر یہ رائفل کس کام کی ۔“

”صحیح کہا سر !“میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

اسی وقت شام کی آذان ہونے لگی تھی وضو کر کے ہم مسجد میں چلے گئے ۔وہاں کافی آدمیوں نے مجھے پہچان لیا تھا۔اویس کی شادی کے دن میں نے نشانہ بازی کا جو مظاہرہ کیا تھا وہ انھیں بھولا نہیں تھا۔وہ تمام مجھے بہت محبت اور عقیدت سے ملے تھے ۔نماز کے بعد کافی آدمی بہ ضد تھے کہ میں ان کے گھر کھانا کھانے چلوں ،مگر استاد عمر دراز خود ایک روایتی پٹھان تھا ۔گھر آئی رحمت کو وہ کسی کے گھر کیسے جانے دے سکتا تھا ،کھانا کھا کر ہم عشاءکی نماز تک گپ شپ کرتے رہے ۔نماز پڑھ کر استاد عمر دراز بیٹھک ہی میں رائفل اٹھا لایا اور مجھے نشانہ بازی کے متعلق خاص خاص باتیں بتانے لگا ۔

”پتا ہے ،فائر پرسب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی چیز کون سی ہے ؟“

”ہوا ….“میں بغیر کسی جھجک کے بولا۔

”گڈ۔“اس نے تحسین آمیز انداز میں سر ہلایا۔”فائر پر اثر انداز ہونے والے امور میں ہوا سب سے اہم ہے ۔اور یقینا تم جانتے ہو گے، کہ جوں جوں فاصلہ بڑھتا جائے گا فائر ہونے والی گولی پر ہوا کا اثر بڑھتا جائے گا ۔ایک سنائپر نے لمبے فاصلے سے ہدف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے اس لیے اسے ہوا کی اقسام ،فائر شدہ گولی پر ہوا کا اثر اور اس کے تدارک کے بارے معلوم ہونا چاہیے ۔بنیادی طور پر ہوا کی چار اقسام ہوتی ہیں ۔ہلکی ہوا ،درمیانہ ہوا،تازہ ہوا اور تیز ہوا……..“استاد عمر دراز ہوا کے فائر پر اثر انداز ہونے پر تفصیل سے روشنی ڈالنے لگا ۔گو ان میں اکثر باتوں کا مجھے پہلے سے پتا تھا ،مگر کافی نئی باتیں بھی سننے کو ملیں ۔ہوا کے تذکرے کے بعدوہ دھوپ،دھند ،ٹھنڈ ،بارش،نمی ،درجہ حرارت اورگیلے ایمونیشن وغیرہ کے بارے بھی تفصیل سے بتانے لگا ۔آخر میں وہ کہہ رہا تھا ۔

”میں جانتا ہوں ،تقریباََ یہ تمام باتیں تمھیں پہلے سے معلوم ہوں گی ،مگر میں چاہ رہا تھا کہ دہرائی ہو جائے تاکہ کل عملی تو پر بروے کار لاتے وقت یہ باتیں ہمارے ذہن میں ہوں ۔“

”نہیں سر !تمام تو نہیں ،البتہ اکثر باتیںمیرے علم میں تھیں ۔“

”اچھا اب سو جاو ¿ رات کافی ہو گئی ہے ۔صبح ان شاءاللہ عملی طور پر مشق کریں گے ۔“

”سر !ایک بات پوچھناتھی ؟“اسے جانے پر آمادہ دیکھ کر میں نے اپنے دل کی خلش دور کرنا چاہی ۔

”ہاں ہاں پوچھو؟“

”یہ یوسف خان کون تھا ؟“

”کون یوسف خان؟“استاد عمر دراز نے حیرانی سے پوچھا ۔

”وہ جس دن ہم شادی کے سلسلے میں یہاں آئے تھے اس دن ایک بھائی نے میری تعریف کرتے ہوئے کہا تھا، کہ میں نے یوسف خان کی طرح دلھن والوں کی شرط پوری کی ہے۔“

استاعمر دراز مسکرایا۔”خیر ،یہ تو اس نے مبالغہ آرائی سے کام لیا تھا۔“

”یہ تو ہے سر !….وقتی جوش میں آ کر کافی حضرات مبالغہ آرائی میں ملوث ہو جاتے ہیں ۔“

”ویسے تم نے یوسف شیر بانو کا قصہ نہیں سنا ۔“

”نہیں سر ۔“میں نے نفی میں سر ہلایا۔

جاری ہے