ﻧﺎﻭﻝ سنائپر از ریاض_عاقب_کوہلر

سنائپر

قسط نمبر3

ریاض عاقب کوہلر

 

میں کافی دیر وہیں لیٹا دشمن کی چہل پہل دیکھتا رہا ۔استاد صادق کی شہادت کے بعد وہ کچھ بے فکر سے ہو گئے تھے ۔ان کی باتیں سن کر پتا چلا تھا کہ استاد صادق کو شہید کرنے والے ان کی کمانڈو پلاٹون کے جوان تھے ،لیکن اس سے پہلے ان کے پانچ آدمیوں کو استاد صادق نشانہ بنانے میں کامیاب رہا تھا ۔ جس میں سے چار آدمی ہلاک ہو چکے تھے جبکہ گولی پانچویں آدمی کے سر سے رگڑ کھاتی ہوئی نکل گئی تھی ۔ مزید کچھ دیر وہیں پڑا رہنے کے بعد میں دوبارہ چل پڑا ۔اگر استاد صادق نے میرے پاس سنائپر رائفل کی گولیاں رہنے دی ہوتیں تو شاید میں کئی کو نشانہ بنا چکا ہوتا ،مگر اب پسٹل سے تو سنائپنگ نہیں کی جا سکتی تھی۔گو اُس طرح میرے زندہ بچ جانے کے امکانات صفر فیصد بھی نہ رہتے ،مگر جذباتی کیفیت میں مبتلا ہونے کے بعد فائدے نقصان کا ہوش کس کو رہتا ہے ۔

چشمے تک میں بغیر کسی سے مڈبھیڑ ہوئے پہنچ گیا تھا ۔خوب سیر ہو کر پانی پینے کے بعد میں نے دونوں واٹر بوتلیں بھر کر سمال پیک میں رکھ لیں اور پھر وہاں سے فرلانگ بھر کے فاصلے پر موجود جھاڑیوں کے ایک جھنڈ کی طرف بڑھ گیا۔میرا ارادہ وہیں رات گزارنے کا تھا ۔کیونکہ آج کے دن ہماری تلاش میں سرگرداں ٹروپس نے واپس اپنی اپنی جگہ پر پہنچنا تھا۔ان کی نقل و حرکت کے دوران میرا ایک جگہ رکے رہنا بہتر تھا ،کیونکہ کسی بھی پارٹی سے اتفاقی مڈبھیڑ ایک نیا محاذ کھول دیتی ۔

جھاڑیاں کافی گھنّی تھیں وہاں سے چشمے کی جگہ صاف نظر آ رہی تھی ۔دن ڈھلنے کو تھا جب چشمے پر چند آدمی پانی بھرتے دکھائی دیے۔وہ آپس میں ہنسی مذاق کر رہے تھے ۔ایک سخت ابتلا کے بعد انھیں ذہنی سکون حاصل ہوا تھا ۔اور انھوں نے ایک خطرناک دشمن سے خلاصی پائی تھی ۔ایسا سفاک دشمن جس نے ان کے درجن بھر ساتھی ہلاک کر دیے تھے ۔میں بس خالی نظروں سے انھیں چہلیں کرتے دیکھتا رہا ۔ چشمے کے پانی سے ہاتھ منہ دھونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر اپنے رستے ہو لیے تھے ۔سیر ہو کر پانی پینے کے بعد میری بھوک بھی ابھر آئی تھی ۔میں پیک سے بِسکٹ نکال کر کھانے لگا ۔استادصادق نے اپنی خوراک بھی میرے پیک میں ڈال دی تھی ۔اپنے مقدر کا رزق میرے حوالے کرتے ہوئے اسے ذرا بھر بھی جھجک محسوس نہیں ہوئی تھی ۔اس نے مرنے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر اپنی آخری گفتگو میں اس نے کوئی ایسی بات یا حرکت نہیں کی تھی کہ مجھے اس کے ارادے کی بابت معلوم ہوتا۔یقینایہ فیصلہ اس نے بہت پہلے کر لیا تھا ۔ اس وقت جب میں نے اس کی بات ماننے کے بجائے اس کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا ۔اپنے استاد ہاشم کی کہانی سنانے کا مقصد مجھے ،اپنی موت کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا تھا ۔دوران ِ ٹریننگ اس نے اپنے کئی تجربات ہمارے گوش گزار کیے تھے مگر اپنی زندگی کا سب سے اہم واقعہ اس نے ایسے حالات میں سنایا تھا جب وہ خوداپنے استاد کی راہ پر چلنے کا ارادہ کر چکا تھا ۔

وہ رات میں نے انھی جھاڑیوں میں استاد صادق کی یادوں سے لڑتے گزاری ۔صبح صادق کے قریب میں اپنی کمین گاہ سے نکلا اور چشمے کی طرف بڑھ گیا ۔کیا پتا رستے میںپانی ملنا بھی تھا یا نہیں۔میں نے واٹر بوتل میںرات کے وقت ہونے والی کمی پوری کی اور اپنے رستے ہو لیا ۔چلتے وقت میں نے واکی ٹاکی سیٹ بھی آن کر لیا ،مگر پہلے والی فریکونسی پر خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔فریکونسی بدل کر بھی میں نے سن گن لینے کی کوشش کی مگر کوئی ایسی بات سننے میں ناکام رہا جو مجھے احتیاط پر مجبور کر سکتی ۔ ایک دو جگہ پر روزمرہ کی عام گفتگو سنائی دی ۔دو تین پوسٹوں سے لالی سیکٹر بیس کو صبح کے” سب اچھا“ کی رپورٹ دی جا رہی تھی ۔ واپسی کے لیے میں نے پہلے والا رستا استعمال نہیں کرنا تھا ۔لالی سیکٹر کی بیس کے نیچے پہنچ کر میں جنوب کی سمت میں سیدھا نکلتا چلا گیا ،نالا عبور کر کے جنگل میں گھسنے کی کوشش میں نے نہیں کی تھی۔سورج کے طلوع ہونے تک میںلالی سیکٹر بیس سے قریباََ دوکلومیٹر آگے نکل گیا تھا ۔روشنی ہونے کے ساتھ میری رفتار آہستہ ہو گئی تھی ۔ میں پوری طرح کیموفلاج تھا ۔گِلی سوٹ نے مجھے جھاڑیوں کا حصہ بنایا ہوا تھا ۔ آگے جا کر نالا تنگ ہو گیا میرے داہنی جانب پہاڑی سلسلہ تھا۔ جب کہ بائیں طرف جنگل تھا اور درختوں کے اختتام پر سیدھی کھڑی چٹانوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا ۔داہنی جانب درختوں کی تعداد بتدریج کم ہوتی جا رہی تھی ۔میں نالا عبور کر کے جنگل میں گھس گیا۔آگے جا کرنالا غربی جانب مڑرہا تھا ۔اس نالے میں بس اکّادکّا درخت تھے ۔اور وہی میری واپسی کا رستا بھی تھا ۔دوربین نکال کر میں نے بغیردائیں بائیں کا بغور جائزہ لیا ۔مگر کسی قسم کی حرکت نظر نہ آئی ۔نقشہ کھول کر میں نے ایک بار پھر دشمن کے مورچوں کی جگہ کوبغور دیکھا۔ اسی نالے میں آگے جا کر دشمن کی ایک پوسٹ تھی جس کا نام سدرتی پوسٹ تھا۔وہاںپر ان کے پندرہ سے بیس آدمی موجود رہتے تھے ۔مذکورہ پوسٹ سے دائیں اور بائیںجانب تین چار کلومیٹر کے وقفے پر دو اور پوسٹیں تھیں وہاں بھی ان کی نفری دس کا ہندسہ عبور کر جاتی تھی ۔مجھے سدرتی پوسٹ سے دائیں جانب کا رستا اختیار کرنا تھا ۔اور گجر پوسٹ کے قریب سے پھر غربی سمت مڑ کر دشمن کی آخری پوسٹ لیفٹ ترکیاں کی ذمہ داری کے علاقے سے گزر کر میرے سامنے پاکستان کی پہلی پوسٹ رنگ کنٹور آ جانی تھی ۔ہم نے آتے وقت دوسرا رستا اختیار کیا تھا ۔ اس وقت ہمیں بارڈر پار کرانے کے لیے ایک رہبر بھی آیا تھا جو ہمارے بارڈر پار کرتے ہی واپس چلا گیا تھا۔اب واپسی کے سفر میں میں اکیلا تھا اور اپنا رستا مجھے خود ڈھونڈنا تھا ۔

نقشہ واپس سمال پیک میں رکھ کر میں اللہ پاک کا بابرکت نام لے کر غربی نالے میں گھس گیا ۔ گو وہاں چھدرے چھدرے درخت تھے مگر رستے میں بڑے بڑے پتھر بھی کثیر تعداد میں موجود تھے جو چھپنے میں مدد دے سکتے تھے ۔میں رکے بغیر چلتا رہا ۔البتہ سدرتی پوسٹ کے علاقے کو میں رات کے اندھیرے ہی میں عبور کر سکتا تھا ۔پوسٹ سے کلومیٹر بھر پہلے ایک مناسب مقام پر رک کر میںرات کا انتظار کرنے لگا ۔آنے والی رات کو چونکہ مجھے بقیہ تمام رستا طے کرنا تھا اس لیے کھا پی کرمیں آرام کی غرض سے لیٹ گیا ۔وہ جگہ ایسی تھی کہ میرے دیکھے جانے کا خطرہ نہ ہونے کے برابر تھا ۔

سر شام ہی میں اپنی کمین گاہ سے باہرنکلا۔ یہ ایسا وقت ہوتا ہے جب پوسٹ پر موجود سنتری اتنے چوکنا نہیں ہوتے ،کیونکہ ایک تو یہ وقت شام کے کھانے کا ہوتا ہے اور دوسرا ڈیوٹی وغیرہ کی بدلی اور رات کے انتظامی امور میں بھی لوگ مصروف ہوتے ہیں ۔اور پھر سب سے بڑھ کر مجھے بیس کلومیٹر کے قریب فاصلہ طے کرنا تھا ۔اس لیے سر شام ہی سفر شروع کرتا تو پہاڑی علاقے کا یہ فاصلہ طے ہو سکتا تھا۔

میں بڑے پتھروں اور رستے میں آنے والے اکا دکا درختوں کی آڑ لے کر چلتا رہا ۔

سدرتی پوسٹ کے علاقے کو عبور کرتے ہی میری رفتارتھوڑی تیز ہو گئی تھی ۔گھنٹے ڈیڑھ بعد میں گجر پوسٹ کے قریب پہنچ گیا ۔وہاںسے نالا سیدھا آگے نکلتا چلاگیا جبکہ میں غربی سمت کو مڑ گیا۔آگے چڑھائی تھی میری رفتار کافی سست ہو گئی ۔آکسیجن کی کمی کے باعث اس علاقے میں تیز رفتاری سے حرکت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔خاص کر اس وقت جب بندہ چڑھائی چڑھ رہا ہو ۔

رات دو بجے کے قریب میں دشمن کی آخری پوسٹ لیفٹ ترکیاںکی حدود میں پہنچ گیا تھا ۔وہ علاقہ خطرناک تھا کیونکہ ایسی پوسٹ پر جو دشمن کے بالکل سامنے ہو اس پر ڈیوٹی والے سپاہی بہت چوکس ہوتے ہیں ۔اور ہندو تو اس معاملے میں یوں بھی بہت ڈرپوک ہیں اور ڈر کی وجہ سے ان کاڈیوٹی پر موجود جوان سست نہیں ہو پاتا ،جبکہ پاک آرمی کے جوان دلیری کی وجہ سے عموماََ بے پروا ہوتے ہیں ۔

میں ڈھلان عبور کر کے نسبتاََ اونچائی پر پہنچا ۔نقشے کے مطابق لیفٹ ترکیاں پوسٹ وہاں سے دو سو گز آگے تھی ۔سمال پیک سے نائیٹ ویژن سائیٹ نکال کر میں نے آنکھوں سے لگائی مگر اتنے فاصلے سے میں صرف پوسٹ کے خدو خال ہی دیکھ سکا کوئی اور نقل وحرکت مجھے دکھائی نہ دی ۔میں آگے بڑھ گیا ۔اس مرتبہ میںبہ قدر سو گز پوسٹ سے پہلے رکا اور ایک پتھر کی آڑلے کر پوسٹ کا جائزہ لینے لگا۔پاکستان کی طرف سے وہ پوسٹ ڈھلان کی آڑ میں بنائی گئی تھی ۔اوررہائشی علاقے کو پاکستان کی طرف سے دیکھا جانا ممکن نہیں تھا البتہ سنتریوں کی دید بانی کے لیے جو دو مورچے بنائے گئے تھے وہ بہ خوبی دیکھے جا سکتے تھے ۔نائیٹ سائیٹ سے میں نے ارد گرد کے علاقے کا جائزہ لیا۔پوسٹ کے علاقے کو عبور کرنے کے بعد ایک نالا شروع ہو رہا تھا مگر اس نالے میں سفر کرنا اس لیے بھی مخدوش تھا کہ ایسے رستوں پر دشمن نے بارودی سرنگیں لگا ئی ہوتی ہیں ۔گو ضروری نہیں ہوتا کہ ہر آدمی کا قدم بارودی سرنگ پر پڑے ۔لیکن ایسی جگہوں پر خطرہ مول لینا بھی بڑے دل گردے کا کام ہوتا ہے ۔ہمیشہ کی معذوری کون گوارا کر سکتا ہے ۔بلکہ بعض اوقات تو بارودی سرنگ انسان کی جان بھی لے لیتی ہے ۔ایک بار میری آنکھوں کے سامنے ہماراایک ساتھی شہید ہوا تھا ۔وہ بے چارہ غلطی سے اپنی فوج کے لگائے ہوئے بارودی قطعے میں گھس گیا تھا ۔اور اس کی بد قسمتی کہ جیسے ہی اس کے پاو ¿ں کے نیچے بارودی سرنگ پھٹی وہ اچھل کر پیچھے گرا اور اگلی بارودی سرنگ عین اس جگہ پھٹی جہاں اس کا سر زور سے زمین سے ٹکرایا تھا۔ بعد میں ہم نے بڑی مشکل سے اسے وہاں سے نکالا تھا ۔

ساری صورت حال کا جائزہ لے کر جو لائحہ عمل مجھے سوجھا وہ یہی تھا کہ میں اس پوسٹ کو بائی پاس نہیں کر سکتا تھا ۔پوسٹ کے دائیں بائیں جو چڑھائیاں تھیں انھیں کوہ پیمائی کے سامان کے بغیر عبور کرنا ناممکن تھا ۔کوئی اور رستا اختیار کرنے کے لیے مجھے دوبارہ پیچھے جانا پڑتا اور دشمن کے علاقے میں یوں آزادانہ حرکت مجھے پھنسا سکتی تھی ۔آخر ایک فیصلے پر پہنچ کر میں خطرہ مول لینے کو تیار ہو گیا ۔

منصوبہ بناتے ہی میں ایک بار پھر دشمن کے مورچوں کو تاڑنے لگا ۔اڑھائی بجنے میں چند منٹ ہی رہتے تھے مجھے امید تھی کہ سنتریوں کی بدلی آنے والی ہو گی ۔(اڑھائی میری گھڑی بجا رہی تھی ۔ انڈیا کا ٹائم چونکہ ہم سے نصف گھنٹا آگے ہے اس لیے ان کی گھڑیوں میں لازماََ تین بجنے والے تھے)کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ ڈیوٹی پر موجود سپاہیوں کی ہر دو گھنٹے بعد بدلی ہوتی ہے ۔اور چونکہ ایسی حساس پوسٹوں پربیک وقت دو سنتری جاگ رہے ہوتے ہیں اس لیے ڈیوٹی کے اوقات کار اس طرح بانٹے جاتے ہیں کہ ایک کی ڈیوٹی اگر پانچ سے سات بجے تک ہو تو دوسری چھے سے آٹھ بجے مقرر کی جاتی ہے تاکہ یہ نہ ہو دونوںسنتری اکٹھے جاگیں اور دونوں نیند کی زیادتی کی وجہ سے سست ہو ں۔جبکہ ایک گھنٹے کے فرق کے ساتھ اٹھنے کی وجہ سے جب نیا سنتری جاگتا ہے تو دوسرے مورچے والا ایک گھنٹا ڈیوٹی دے کر چوکنا ہو گیا ہوتا ہے ۔

جلد ہی مجھے اپنااندازہ درست ہوتا دکھائی دیا اور رہائشی جگہ سے ایک آدمی سست قدموں سے دائیں والے مورچے کی طرف بڑھتا نظر آیا ۔یقینا اسے رہائشی علاقے میں موجود سنتری نے جگایا تھا۔دوسرے سنتری کی واپسی تک ایک اور سنتری کمرے سے برآمد ہو ا اور وہیں ٹہلنے لگا ۔گویا بیک وقت تین آدمی جاگ رہے تھے ۔جب واپس آنے والا سنتری رہائشی کمرے میں غائب ہوا تو میں آگے کھسکنے لگا۔ میرے دل میں صرف کتوں کا خوف سمایا ہوا تھا کیونکہ اگر پوسٹ پر کتے موجود ہوتے تو دشمن نے چوکنا ہو جانا تھا۔گو جس وقت سے میں آیا تھا کتوں کے بھونکنے کی کوئی آواز سنائی نہیں دی تھی اس کے باوجود میرے دل میں خدشہ موجود تھا ۔

میں آہستگی سے آگے بڑھتا رہا ۔نائیٹ ویژن سائیٹ میری آنکھوں کے ساتھ بندھی ہوئی تھی۔سنتری سست روی سے ٹہل رہا تھا ۔کبھی کبھی وہ سر گھما کر اطراف کا جائزہ لے لیتا تھا۔ایک دو بار اس نے ٹارچ جلا کر بھی اپنے چوکنے پن کو ظاہر کرنے کی کوشش کی تھی ۔لیکن ٹارچ کی روشنی اس نے نالے والی سمت میں پھینکی تھی اس کے باوجود میں زمین سے چمٹ کر لیٹ گیا تھا ۔لیکن چونکہ وہ عقبی سنتری تھا اور زیادہ ذمہ داری سامنے والے سنتریوں کی ہوتی ہے اس لیے اس میں وہ چوکنا پن مفقود تھا جو کہ سامنے والے سنتریوں کا خاصا ہوتا ہے ۔میں کرالنگ کرنے کے بجائے بیٹھے بیٹھے اس کی جانب بڑھ رہا تھا کیونکہ وہ پتھریلا علاقہ تھااس لیے کرالنگ کرنے کی صورت میں ایک تو نیچے بکھرے پتھر گھٹنوں اور ٹانگوں میں بری طرح چبھنے تھے دوسرا پتھروں پر رینگنے کی وجہ سے شور بھی پیدا ہوسکتا تھا جو سنتری کو چوکنا کر دیتا ۔

اب سنتری سے میرا فاصلہ دس گز کے بہ قدر رہ گیا تھا ۔میں نے پسٹل پہلے سے تیار کر کے بیلٹ میں اڑسا ہوا تھا ۔پسٹل ہاتھ میں لے کر میں نے سنتری کے مڑنے کا انتظار کرنے لگا ۔

جیسے ہی وہ مڑا میں کھڑا ہوکر دبے قدم اس کے پیچھے چلنے لگا ۔اورجب میں بالکل اس کے قریب پہنچ گیا تب اسے آنے والی مصیبت کا احساس ہوا ۔اس نے پیچھے مڑنے کی کوشش کی مگر میں نے ایک دم اس کے ساتھ لپٹتے ہوئے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا ۔اس نے تڑپ کر مجھے خود سے جھٹکنا چاہا مگر اس وقت تک میں پسٹل اس کی کنپٹی سے لگا کر ٹریگر دبا چکا تھا ۔ہلکی سے ٹھک ہوئی اور اس کی کھوپڑی میں روشن دان کھل گیا تھا ۔اس کا پھڑکتا بدن ساکت ہونے لگا میں نے اسے آہستہ سے زمین پر لٹا دیا ۔

پہلا مرحلہ بہ خوبی مکمل ہو گیا تھا ۔میں ٹائم دیکھا تین بج کر بیس منٹ تھے ۔گویا اگلے سنتری نے دس منٹ بعد ڈیوٹی پر اٹھنا تھا ۔

میں نے جلدی سے گلی سوٹ اتارکر سائیڈ پر پھینکا اور سنتری کے بدن سے چادر اتار کر لپیٹ لی ۔اس کے پاس پڑی ٹارچ بھی میں نے اٹھا کر اپنے پاس رکھ لی تھی ۔ساڑھے تین ہوتے ہی میں دھڑکتے دل کے ساتھ بائیں والے مورچے کی طرف بڑھ گیا ۔نائیٹ ویژن سائیٹ میں نے دوبارہ سمال پیک میں ڈال لی تھی ۔چادر میں نے اس طرح لپیٹی تھی کہ میرا چہرہ بھی چھپ گیا تھا ۔

”تو آگیا ہے دلجیت!“جونھی میں مورچے کے دروازے پر پہنچا،اندر موجود سنتری بے صبری سے مستفسر ہوا۔دو گھنٹے اس سردی میں جاگ کر یقینا وہ گرم رضائی میں جانے کے لیے بے چین تھا ۔

میں نے ٹارچ جلا کر اس کے چہرے پر روشنی پھینکی ۔

اس نے چہرہ سائیڈ پر کرتے ہوئے کہا۔”یار!اسے تو آف کرو۔“

اور یہ آخری الفاظ تھے جو اس کے ہونٹوں سے ادا ہوئے تھے ۔گلاک پسٹل کی مزل سے نکلنے والے چند گرام سیسے نے اس کی کھوپڑی میں کھڑکی بنا دی تھی ۔وہ لہرا کر نیچے گرا۔مورچا اتنا بڑا نہیں تھا نیچے گرتے ہوئے دیوار کے ساتھ کھڑی دو رائفلیں بھی نیچے گر گئی تھیں ۔ان رائفلوں کے گرنے سے اچھا خاصا شور ہوا تھا ۔

”تھوڑا زور سے پھینکو شاید توڑنے میں کامیاب ہو جاو ¿۔“ساتھ والے مورچے سے مزاحیہ انداز میں پکارا گیا ۔دونوں مورچوں کے درمیان بیس گز کے قریب فاصلہ تھا۔ اس کے باوجود اسے رائفلز کے نیچے گرنے کا شورسنائی دے گیا تھا۔

میں اس کی بات کا جواب دیے بغیر باہر نکلا اورسرعت سے دوسرے مورچے کی طرف بڑھا۔ 

اس نے با آواز بلند پوچھا۔”خیریت تو ہے نا ؟“یقینا اسے میرے قدموں کی آہٹ سنائی دے رہی تھی ۔

اس مرتبہ بھی میں خاموش رہا تھا ۔ 

”اوئے !جواب تو دو نا ؟“اس نے جھنجلاتے ہوئے باہر جھانکا اس وقت تک میں بالکل قریب پہنچ گیا تھا ۔

”میرے پاس تو بس ایک ہی جواب ہے ۔“کہتے ہوئے میں نے ٹارچ روشن کر کے اس کی کھوپڑی میں گولی جھونک دی ۔

اس نے تھوڑا جھک کر باہر جھانکا تھا ۔گولی لگتے ہی منہ کے بل گر گیا ۔اس طرح کہ اس کا بالائی دھڑ مورچے سے باہر اور ٹانگیں مورچے کے دروازے میں تھیں ۔

میں اس کے جسم پر پاو ¿ں رکھ کر اندر داخل ہوا ۔ٹارچ روشن کر کے میں نے جائزہ لیا ۔دو جی ٹو رائفلیں ایک کلاشن کوف اور ماو ¿نٹ پر لگی وکرس گن نظر آرہی تھی ۔ مورچے کے سامنے والے ہول میں مجھے تھرمل امیجنگنائیٹ ویژن سائیٹ دکھائی دی ۔اسے آن کر کے میں باہر نکل آیا ۔وہاں سے ہماری اپنی پوسٹ قریباََ چار سو میٹر کے فاصلے پر تھی ۔لیکن یہ ہوائی فاصلہ تھا ۔ورنہ لیفٹ ترکیاں سے ہماری پوسٹ رنگ کنٹور پر جانے کے لیے ایک ڈھلان عبور کرنی پڑتی جس کے باعث یہ فاصلہ ہزار میٹر کے قریب بن جاتا ۔رنگ کنٹور پر مجھے پاک فوج کا دلیر جوان ٹہلتا ہوا نظر آ رہا تھا ۔تھرمل امیجنگسائیٹ میں یہ خصوصیت ہے کہ یہ دوربین کی طرح کافی دور تک دکھاو ¿ مہیا کرتی ہے ۔اس کا اندرونی نظارا بلیک اینڈ وائیٹ ہوتا ہے جس میںہر جاندار کالے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔

وہاں مزید رکے رہنا وقت کا ضیاع تھا ۔تھرمل امیجنگسائیٹ گلے میں لٹکا کر میں لیفٹ ترکیاں کی سامنے والی ڈھلان اترنے لگا ۔اترائی کافی سخت تھی ۔چونکہ رستا بنا ہوا نہیں تھا اس لیے اندھیرے میں گرنے کا بھی اندیشہ تھا ۔میں نے بے دھڑک ٹارچ جلا دی ۔مجھے معلوم تھا کہ پاک فوج کے جوان نے فوراََ اس طرف متوجہ ہو جانا ہے ۔او ر وہی ہوا ۔ٹارچ جلائے مجھے چند سیکنڈ ہی ہوئے تھے کہ رنگ کنٹور کی جانب سے ٹارچ کا اشارہ آنے لگا ۔گویا وہ آنے والے کو متنبہ کر رہا تھا ۔

جواباََ میں نے بھی ٹارچ کا رخ اس کی جانب کر کے دو تین دفعہ اشارہ دیا تاکہ اسے پتا چل جائے کہ میں بے خبری میں نہیں آ رہا ۔نیچے اترتے ہی سو میٹر کے قریب ہموار میدان سا تھا جہاں بارودی سرنگی قطعے بچھا کر کانٹا دار تار سے اس کی حد بندی ظاہر کی گئی تھی ۔(جینوا کنونشن کے مطابق کسی بھی ملک کی سپاہ جب سرنگی قطعہ لگاتی ہے تو اسے قانوناََ اس قطعے کو کانٹا دار تار سے ظاہر کرنا پڑتا ہے ۔لیکن ہندو بنیا نیچ ذہنت کا مالک ہے ۔اسے ایسے اصول و ضابطے کی کیا پروا،بھارتی آرمی پہاڑی علاقے میں حد بندی کے علاوہ بھی بہت سی جگہوں پر بارودی سرنگیں بچھا کر رکھتی ہے ،جس کی زد میں عموماََ سول لوگ یا جانور وغیرہ آ جاتے ہیں )

وہ بارودی قطعہ عبور کرنے کے لیے مجھے چند سو گز کا چکر کاٹنا پڑا ۔بارودی قطعے کی بائیں طرف کی حد بندی کے ساتھ قدری طور پر بڑے بڑے پتھر پڑے تھے کہ جہاں بارودی سرنگ لگانا ممکن ہی نہیں تھا ۔میں انھی پتھروں پر چل کر آگے بڑھتا گیا ۔بارودی قطعے کے سامنے گچھا دار تار جسے” کنسرٹیناوائر “ کہتے ہیں ۔لگی ہوئی تھی ۔سمال پیک سے وائر کٹر نکال کر میں نے تار کو کاٹ کر رستا بنایا اور آگے بڑھ گیا۔ٹارچ بجھانے کی کوشش میں نے نہیں کی تھی ۔رنگ کنٹور پر اس وقت دو ٹارچوں کی روشنی نظر آ رہی تھی ۔یقینا سنتری نے گارڈ کمانڈر کوبھی اطلاع کر دی تھی ۔اپنی طرف کی رکاوٹو ں کو عبور کرنے کے بعد میں رنگ کنٹور سے پچاس میٹر کے فاصلے پر تھا جب مجھے زور دار انداز میں ”رک “پکارا گیا ۔

میں سنتری کے حکم کے بہ موجب رک گیا ۔

”ہاتھ اوپر “اس نے اگلا حکم دیا اور مجھے تعمیل کرتے بنی ۔

”تالی بجاو ¿۔“اس نے یقینا میرے ہاتھوں کے خالی ہونے کا یقین کرنا تھا ۔

”بادل ….“میرے تالی بجاتے ہی اس نے کہا۔اور یہ اس دن کا پاس ورڈ تھا۔

میں خاموش رہا کیونکہ مجھے پاس ورڈ معلوم نہیں تھا ۔

”تھری ….“اس مرتبہ اس نے فگر پوچھا تھا ۔اگر مجھے اس رات کا فگر پتا ہوتا تو میں مطلوبہ فگر دہرا دیتا،مگر میں اس سے بھی انجان تھا ۔(سرحدی علاقے میں اپنی سپاہ کی پہچان کے لیے رات نام مقرر کیا جاتا ہے جو دو اسماءپر مشتل ہوتا ہے ۔مثلا،بادل اور لوٹا۔پہرے پر موجود سنتری آنے والے کے سامنے رات نام کا پہلا اسم بولتا ہے اور آنے والے کو اس کے جواب میں دوسرا نام بتانا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ ہر رات کے لیے ایک فگر بھی مقرر کیا جاتا ہے ۔مثلاََ اگر سات فگر مقرر کیا ہے تو سنتری سات سے کم کوئی بھی عدد بول کر آنے والے کو عدد مکمل کرنے کی دعوت دیتا ہے ۔اب اگر سنتری تین کہتا ہے تو آنے والا چار کہہ کر عدد کو مکمل کرنا پڑتاہے )

”کون؟“اس دفعہ اس نے براہ راست میرا تعار ف مانگاتھا۔

”ذیشان۔“میں اطمینان سے بولا۔

”پہچانا نہیں ۔“

”قریب تو آنے دو یار !تعارف بھی کرا دیتا ہوں ۔“میں کھڑے کھڑے تھک گیا تھا۔

”اسی حالت میں آگے بڑھو ۔“اسے میرا اطمینان دیکھ کر کہنا پڑ گیا تھا ۔

اور میں ہاتھ سر سے بلند کیے آگے بڑھ گیا ۔خود سے دو میٹر دوراس نے مجھے دوبارہ روکا اور اس کے ساتھ کھڑا دوسرا آدمی خود بہ خود آگے بڑھ کر ماہرانہ انداز میں میری تلاشی لینے لگا ۔میرے کندھے پرلٹکی سنائپر رائفل اتار کر اس نے سائیڈ پر رکھی ،میرا سمال پیک ،تھرمل امیجنگسائیٹ اور میری جیبوں میں موجود تمام سامان اپنے قبضے میں کر لیا۔

”ہاتھ نیچے کر سکتا ہوں ۔“تلاشی لینے والے کے دور ہوتے ہی میں نے پوچھا ۔

”کر لو ۔“مجھے نشانے پر رکھنے والا نرم لہجے میں بولا ۔

”شکریہ ۔“کہہ کر میں نے ہاتھ نیچے کر لیے ۔

”آو ¿ اندر بیٹھ کر بات کرے ہیں ….“یہ الفاظ اس کے ہونٹوں پر تھے کہ لفٹ ترکیاں پوسٹ کی طرف سے ٹارچوں کی روشنی پھینکے جانے لگی ۔اس کے ساتھ ہی فائرنگ کی آوازسے ماحول گونج اٹھا ۔

میں نے کہا۔”سنتری کو آڑ میں کر لو ۔“مگر میرا یہ کہنا بے فائدہ تھا کیونکہ فاےر کی آواز سنتے ہی سنتری مورچے میں ہو گیا تھا ۔میرے اندازے کے مطابق مجھے کلاشن کوف کی زد پر لینے والا گارڈ کمانڈ ر تھا۔ وہ مجھے ساتھ لے کر کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔وہ پوسٹ کمانڈ کا کمرہ تھا کیونکہ اندر داخل ہوتے ہی گارڈ کمانڈ ر نے سیلوٹ کیا تھا ۔اندر پیٹرومیکس لیمپ روشن تھا ۔

پوسٹ کمانڈر نے گہری نظروں سے میرا جائزہ لے کر مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔

”استاداکرم !چائے پانی کا بندوبست کرو ۔“وہ مجھے ساتھ لانے والے کو مخاطب ہو ۔اور وہ ”جی سر !“کہہ کر باہر نکل گیا ۔

”جی ؟“اس نے مختصراََ کہتے ہوئے مجھ سے تعارف چاہا۔

اور میں اسے تفصیل سے اپنے بارے بتانے لگا ۔میری بات ختم ہونے تک چاے اور حلوہ آگیا تھا ۔میں بے تکلف حلوے کو جڑ گیا جبکہ پوسٹ کمانڈر لائن ٹیلی فون پر اپنے بٹالین ہیڈکواٹر میں میرے بارے تفصیل بتانے لگا ۔گھنٹے ڈیڑھ کے اندر میری شناخت کی تصدیق ہو گئی تھی ۔پوسٹ کمانڈر نے مجھے تپاک سے گلے سے لگا کر میری پیٹھ تھپکی اور پھر اپنے ہی کمرے میں میرا بستر لگوا کر مجھے آرام کرنے کا کہہ کر خود باہر نکل گیا ۔لیفٹ ترکیاں کی طرف سے وقفے سے وقفے سے فائر کی آوازیں آ رہی تھیں یقینا انھیں اپنے تین آدمیوں کی ہلاکت ہضم نہیں ہو رہی تھی ۔میں بے فکر ہو کر بستر میں گھس گیا کہ اب میں اپنوں میں تھا ۔

٭٭٭

دو دن بعد میں اپنے ہیڈکواٹر میں پہنچ گیا تھا ۔وہاں جا کر ایک مرتبہ پھر استاد صادق کا غم تازہ ہو گیا ۔مشن پوا ر کرنے کی خوشی سے استاد صادق کے بچھڑنے کا نقصان زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔مگر میرے سینئرز مطمئن تھے ۔کیونکہ شہادت کی موت ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔

ایک دن ہیڈکواٹر میں گزار کر میں نے چھٹی لی اورگھر کو سدھارا ۔میرا تعلق تلہ گنگ کے ایک مضافاتی گاو ¿ں سے ہے ۔فوج میں بھرتی ہونے کے ساتھ میں نے شادی کر لی تھی لیکن ہنوز اولاد کی نعمت سے محروم تھا ۔ ماہین میری دور پار کی رشتا دار تھی ۔یہ الگ بات کہ شادی سے پہلے ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا بھی نہیں تھا لیکن شادی کے بعد ہمارے درمیان ایسی محبت پیدا ہو گئی تھی گویاہم دونوں پیدا ہی ایک دوسرے کے لیے ہوئے ہوں۔امی جان ،میرے بچپن ہی میں وفات پا گئیں تھیں ۔ان کے انتقال کے بعد ابو جان نے دوسری شادی نہیں کی تھی ۔گاو ¿ں میں تھوڑی بہت زمین تھی بس وہی کاشت کر کے وہ میرا اور اپنا پیٹ پالتے رہے ۔ایف ایس سی کرنے کے بعد ابو جان کا ارادہ تھا کہ میں مزید تعلیم حاصل کروں مگر میںنے والد صاحب پر مزید بوجھ بننا گوارا نہ کیا او ر پاک آرمی میں بھرتی ہو گیا ۔دورانِ ٹریننگ ہی میری نشانہ بازی کی صلاحیت کھل کر سامنے آ گئی تھی ۔یونٹ میں جانے کے بعد نشانہ بازی کے مقابلوں میری اس صلاحیت میں مزید نکھا ر آیا اور پھر اسی صلاحیت کو دیکھ کرمجھے سنائپر کورس کے لیے کوئٹہ جانا پڑا ۔ وہ کورس میں نے امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور اس کورس میںاچھی پوزیشن لینے کی وجہ سے مزید ٹریننگ کے لیے مجھے سپیشل سروس گروپ یعنی کمانڈوزکے پاس بھیج دیا گیا ۔وہاں بھی میرے نشانہ بازی کی صلاحیت نے دوسروں کو متاثر کیے رکھا ۔اور پھر اس کورس میں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کرنے بعد مجھے خصوصی سنائپر ٹیم کی زیر نگرانی تربیت دی جانے لگی ۔اس مرتبہ ہمارے استاد وہ تھے جنھوں نے ٹریننگ سے زیادہ عملی میدان میں وقت گزارا تھا۔وہ اسباق پڑھانے سے زیادہ، ہمیں واقعات سناتے ۔ایسے واقعات جو، ان کے ساتھ بیت چکے تھے ۔اور ہر واقعہ کوئی نہ کوئی سبق لیے ہوئے ہوتا تھا ۔ اس کورس میں بھی میری کارکردگی پچھلے کورسوں کی طرح شاندار رہی اور مجھے اپنے اساتذہ کے ساتھ ہی پیشہ ور سنائپر بننے کا موقع مل گیا ۔اور پھر ایک دن مجھے اپنے پہلے مشن کے لے سرحد پار جانا پڑ گیا جس کی کہانی میں گزشتہ صفحات میں بیان کر چکا ہوں ۔

میں ظہر وقت گھر پہنچا تھا ۔مجھے دیکھتے ہی ماہین کھل اٹھی اوراس کے چہرے پر قوس ِ قزح کے رنگ جھلملانے لگے ۔ابو جان نے بھی مجھے چھاتی سے لگا کر خوب بھینچا تھا ۔ابو جان کے کمرے سے باہر جانے کے بعد میں ماہین کو مخاطب ہوا ۔

”بڑی خوش نظر آ رہی ہو ؟“

وہ ہنسی ۔”غمگین تو آپ بھی نہیں لگ رہے۔“

”میں تو اس لیے خوش ہوں کہ چھٹی ملی ہے ،چند دن آرام کروں گا اور تم ؟“

وہ ناز سے بولی ۔”جھوٹا ۔“

”جھوٹی ہو گی تم خود ۔“اسے اپنے قریب کرتے ہوئے میںنے والہانہ لہجے میں کہا۔واقعی سچ کہتے ہیں کہ کائنات کی رونق اور رنگینی عورت کے دم قدم سے ہے۔

اگلے دن ناشتا کر کے میں گھر سے نکلا ۔میرے دوستوں کی تعداد محدود سی تھی۔ان میں سے بھی بس ایک دو ہی خط چھٹی ڈال دیا کرتے تھے ورنہ تو بس چھٹی آتے ہی ملاقات ہو پاتی ۔اس وقت موبائل فون اتنا عام نہیں ہوا تھا ۔خال خال لوگ ہی موبائل رکھنا پسند کرتے تھے ۔گو موبائل فون میری پہنچ سے باہر نہیں تھا ۔لیکن ابھی تک مجھے یہ ایک فضول خرچی ہی لگ رہی تھی ۔

اپنا سب سے قریبی دوست اویس ،مجھے اس کے گھر کے باہر ہی مل گیا تھا ۔

”ارے شانی !….کیا بات ہے یار،میرا خیال ہے خط ملتے ہی تم بھاگے چلے آئے۔“

”خط؟ “میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔

”میرا خط نہیں ملا ۔“

”خط تم نے پوسٹ کب کیا تھا ؟….اور خیر تو ہے نا ؟“

”پرسوں ۔“

”واہ !پرسوں تم نے خط بھیجا اور کل مجھے مل گیا ،کیا ذہانت ہے ۔“

وہ سر کھجاتے ہوئے خفت سے بولا۔”میں نے سوچا شاید تم میری وجہ سے چھٹی آئے ہو ۔“

”ضرور آتا،مگر اب تو میں روٹین کی چھٹی آیا ہوں ۔“

”کوئی بات نہیں۔میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ تم چھٹی آ گئے ہو۔“

”اب وجہ بھی پھوٹو ؟“

وہ خوشی سے جھومتے ہوئے بولا ۔”ہفتے کو میری شادی ہے ۔“

”شادی ….کیوں وہ صوابی والی کا کیا بنا ؟“

وہ خوشی سے چہکا ۔”اسی سے تو ہے نا ۔“

میں نے خوشگوار حیرت سے پوچھا ۔”بھلا وہ کیسے ؟“

”وہ ایسے کہ ابو جان مان گئے اوررشتا لے کر صوابی پہنچے ۔ارم کے والدتو پہلے سے راضی تھے اور اب تمھاری کی دعا سے ہفتے کے دن تمھارا بھائی اپنی ارم کو لانے والا ہے ۔“

”مبارک ہو یار !“میں نے خلوص دل سے کہا ۔

”خیر مبارک ،خیر مبارک ۔“خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔اور ایساکیوں نہ ہوتا کہ وہ اپنی محبت پانے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔محترما ارم نصیب خان سے اس کی ملاقات راولپنڈی میںہوئی تھی ۔اویس کا والدتلہ گنگ سے تازہ سبزی راولپنڈی سبزی منڈی لے جایا کرتاتھا ۔اس کام میں اویس اس کا ہاتھ بٹاتا۔کبھی کبھارسبزی منڈی سے واپسی پر وہ والد سے اجازت لے کر راولپنڈی شہر میں گھومنے نکل جاتا۔۔ایک بارراولپنڈی راجا بازار میں بہنوں کے لیے شاپنگ کرتے ہوئے اس کی نظر ارم صاحبا پر پڑ گئی جو اپنی والدہ کے ساتھ شاپنگ کے لیے آئی ہوئی تھی ۔ارم کا والد نصیب خان پاک آرمی میں حوالدار تھا اور اس نے اپنی فیملی راولپنڈی ہی میں رکھی ہوئی تھی ۔ارم کو دیکھتے ہی ا ویس پہلی نظر میں اس پر فداہو گیا۔اور پھر اپنی شاپنگ بھول کر ماں بیٹی کے تعاقب میں ہو لیا۔عورت ذات اس معاملے میں بہت حساس ہوتی ہے ۔ارم خوب صورت تھی بازار میں گھورنے والوں کی کمی بھی نہیں تھی کہ یہ مرد کی اوباش فطرت کا خاصہ ہے ۔مگر کسی کا یوں مسلسل گھورنا اور پیچھا کرنا اس کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکا ۔پہلے پہل تو وہ گھبرائی ،مگر اویس کی آنکھوں میں جو جذبہ ہویدا تھا اسے پہچانتے ہی وہ شانت ہو گئی ۔اویس بھی اچھا خاصا خوش شکل ہے ۔جلد ہی ارم بھی اس میں دل چسپی لینے لگی اور جب اس کی ماں خریداری کی طرف متوجہ ہوتی تو وہ اپنی دل کش مسکراہٹ اویس پر نچھاور کرنے لگتی ۔حوصلہ پاکر اویس نے تعاقب کا سلسلہ جاری رکھا جب وہ ماں بیٹی واپس ہوئیں تو وہ بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔جس سوزکی میں وہ بیٹھیں وہ اس کے پیچھے لٹک گیا ۔آخری سٹاپ کا کرایہ دے کر وہ اس جگہ اتر گیا جہاں وہ ماں بیٹی اتریں ۔اور جب وہ ایک کوارٹر میں داخل ہوئیں تو ایک عجیب پاگل پن کے ساتھ اس نے دروازے پر دستک دے دی۔ نصیب خان باہر نکلا تو اویس نے چند منٹ بات کرنے کی اجازت مانگی اور پھر اپنا مکمل تعارف کرا کربتا دیا کہ اس نے آج اس کی بیٹی کو بازار میں دیکھا اور اس کا تعاقب کرتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہے اور اب اگر نصیب خان اجازت دے تو وہ اپنے والد کو اس کے پاس بھیج دے ۔نصیب خان اس کی بات سن کر ششدر رہ گیا تھا ۔کسی پٹھان کے سامنے اس بات کا اعتراف کہ وہ اس کی بیٹی اور بیوی کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے گھر تک پہنچا ہے بڑے حوصلے ،جرا ¿ت اور دلیری کی بات تھی ۔مگر عشق عجیب چیز ہے اس کے اس کے دامن میں بزدلی جگہ نہیں پا سکتی ۔نصیب خان چند لمحے تو کچھ بولنے کے قابل نہیں رہا اور پھر فقط اتنا کہہ سکا ۔”جوان پتا بھی ہے کیا کہہ رہے ہو؟“

”جی سر !“اویس نے سعادت مندی سے کہا۔”میں آپ کی بیٹی کو اپنی عزت بنانے کے لیے آیا ہوں۔ آپ منع کر دیں گے تو واپس لوٹ جاو ¿ں گا اور اس کے بعداگر مجھے کبھی یہاںدیکھ لیا تو جو چور کی سزا وہ میری سزا۔“

”دیکھو جوان !….آپ بہت بڑی جرا ¿ت کا اظہار کر چکے ہیں ۔میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا کہ کیا کہوں اور پھر میں روایتی باپ بھی نہیں ہوں کہ بیٹی کی مرضی جانے بغیر اس کی شادی کر دوں ۔“

”آپ پوچھ لیں بیٹی سے ۔یقینا وہ میرے تعاقب سے بے خبر نہیں رہی ہو گی۔“

اور نصیب خان نے بھی اسے ششدر کر دیا اس نے بھی اسی وقت بیٹی کو بیٹھک میں بلا لیا ۔ اور پشتو کے بجائے اردو میں اس سے پوچھا کہ آیا وہ اویس کو جانتی ہے ۔اس نے نفی میں سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا ۔

”اس نے آج تمھیںبازار میں دیکھا ہے اور اب اپنے والد صاحب کو یہاں لانا چاہتا ہے ۔ کیا میں اسے والد کو بلانے کی اجازت دے دوں؟“

اس مرتبہ ارم کا چہرہ شرم سے گلنار ہو گیا تھا۔ منہ سے کچھ کہے بنا اس نے سرکو جھکا لیا ۔

”ٹھیک ہے بیٹی !….جاو ¿۔“بیٹی کو واپس بھیج کر وہ اویس کو مخاطب ہوا ۔

”جوان !آپ کایہ فعل عجیب لگتا ہے ،مگر مجھے اچھا لگا ۔آپ نے آج کل کا بے ہودہ طریقہ کار اپنانے کے بجائے سادہ اور سچا طریقہ اپنایا۔اور یہ اس بات کا مظہر ہے کہ آپ کے من میں کوئی کھوٹ یا میل نہیں ہے ۔ آپ میری بیٹی کو بھی ورغلانے کی کوشش کر سکتے تھے ،مگر آپ نے ایسا نہ کیا ۔جاو ¿ اب اپنے والد کو راضی کرنے کی کوشش کرو میری طرف سے ہاں ہے ۔“اویس خوشی سے پھولا نہ سماتے ہوئے واپس آ گیا۔ گھر آ کر اس نے والد سے بات کی مگر وہ اس کی شادی کہیں اور کرنے کا سوچے ہوئے تھا۔اس نے کھلا انکار کر دیا ۔ دو تین دن بعد اویس نے راولپنڈی جا کرنصیب خان کو ساری بات بتا دی اور یہ بھی کہا کہ وہ ارم کے علاوہ کہیں شادی نہیں کرے گا اگر نصیب خان اس پر تھوڑی اور مہربانی کرے اور اسے چند ماہ کی مہلت دے دے تاکہ وہ اپنے والدین کو راضی کر سکے ۔نصیب خان نے اس مرتبہ بھی بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے سال بھر کی مہلت دے دی اور اس کے ساتھ اپنے آبائی گھر کا پتا بھی اس کے حوالے کر دیا کہ اس کی سروس کے فقط چھے ماہ بقایا تھے ۔اویس اس کا شکریہ ادا کرتا ہوا واپس آ گیا ۔اور اس کے بعد وہ مسلسل اس کوشش میں مصروف رہا کہ اپنے والد کو راضی کر سکے ۔وہ سعادت مند بیٹا تھا باپ کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔والد کب تک جوان بیٹے کی خواہش کو ٹا لتا، آخر گیارہ ماہ اویس کی مسلسل منت سماجت نے اسے راضی ہونے پر مجبور کر دیا ۔اس دوران اویس نے نصیب خان سے رابطہ منقطع نہیں کیا تھا ۔ وہ باقاعدگی سے مہینے پندرہ دن کے بعد نصیب خان سے ملاقات کے لیے اس کے گاو ¿ں جاتا رہا ۔نصیب خان کا تعلق صوابی کے مشہور گاو ¿ں شیوہ سے تھا۔اور جب وہ ریٹائرڈ ہو کر اپنے گاو ¿ں چلا گیا تو وہاں بھی اس کا آنا جانا لگا رہا ۔اور اب وہ مجھے کامیابی کی نوید سنا رہا تھا۔ مجھے بھی یہ سن کر بہت اچھا لگا تھا کہ اس کی راہ کی ساری روکاوٹیں دور ہو چکی ہیں ۔

٭٭٭

ہفتے کی صبح سویرے سویرے ہی ہمارا قافلہ شیوہ گاو ¿ں کی طرف روانہ ہوا ۔ پانچ بڑی بسوں کے علاوہ دو ویگنیں اور چار کاریں بھی تھیں ۔تین بسوں میں عورتیں سوار تھیں ۔نوجوان لڑکے بسوں کی چھتوں پر بیٹھے بیٹھے ڈھول کی تھاپ اور شہنائی کی سریلی آواز پر تھرک رہے تھے ۔ لڑکیوں کی بسوں میں بھی ڈھولک کی آواز کے ساتھ نوجوان لڑکیوں کی تالیوں کی آواز ایک تسلسل سے سنائی دے رہی تھی ۔کچھ سریلی اور کچھ بے سری آوازیں بھی گیتوں کی شکل میں بلند ہو رہی تھیں ۔ہم اویس کے تمام دوست ایک ہی ویگن میں بیٹھے تھے ۔صوابی شہر سے گزرتے ہوئے ہم ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شیوہ پہنچ گئے تھے۔شیوہ صوابی سے قریباََ بیس بائیس کلو میٹر دور ہے اور کافی بڑا گاو ¿ں ہے ۔بلکہ اسے شہر کہنا ہی مناسب ہوگا۔پٹھانوں نے روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے برات کے لیے بہت اچھا انتظام کیا ہوا تھا۔سب سے پہلے مہمانوں کی تواضع موسم کی مناسبت سے ٹھنڈے مشروبات سے کی گئی اور اس کے بعد نکاح پڑھایا گیا ۔نکاح کے اختتام پر کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا ۔پر تکلف کھانے کے بعد رخصتی ہونی تھی مگر اس سے پہلے دولھن والوں نے ایک چھوٹی سی شرط رکھ دی کہ رخصتی اس وقت ہوگی جب دولھا یا اس کے دوستوں میں سے کوئی فائر کے ذریعے مطلوبہ ہدف کو نشانہ بنائے گا ۔اویس کے دوستوں نے بڑی خوشی سے یہ شرط قبول کی اور میدن میں اتر آئے ۔گاو ¿ں کے نزدیک ہی ایک چھوٹی سی پہاڑی موجود تھی ۔ دولھن والے برات کو لے کر پہنچ گئے ،گو نصیب خان جوان لڑکوں کو منع کرتا رہا کہ یہ طریقہ پٹھانوں میں رائج ہے پنجاب میں اس کا کوئی تصور نہیں ۔مگر جوان اس کی کہاں سننے والے تھے ۔سب سے زیادہ پرجوش اس کا سگا بھتیجا تھا جو اویس ہی کا ہم عمر تھا ۔لگتا تھا ارم کی شادی سے اسے کوئی خاص تکلیف پہنچی تھی اور اب اس کا کچھ نہ کچھ تدارک وہ برات کی بے عزتی کر کے چکانا چاہتا تھا ۔

پہاڑی کی بنیاد میں آس پاس کی زمین سے تھوڑی ابھری ہو ئی جگہ پر ایک مربع فٹ کا ایک شیشہ لگایا گیا تھااور قریباََ تین سو میٹر دور سے اسے نشانہ بنانا تھا ۔

”اس شیشے کو ہٹ کرنے کے لیے آپ لوگوں کے پاس دس گولیاں ہیں ۔“رحمت خان نے فخریہ انداز میں ایک کلاشن کوف دولھا کی طرف بڑھائی ۔”آپ خود فائر کرنا چاہیں یا آپ کا کوئی دوست اپنی مہارت کا ثبوت دینا چاہے یہ آپ پر منحصر ہے ۔لیکن اگر دس گولیوں میں نشانہ نہ بنا سکے تو پھر دولھن لینے کے لیے آپ کو کل آنا پڑے گا اور یہ ہماری روایت ہے ۔“

”نہیں یہ روایت ہمارے پنجابی بھائیوں پر لاگو نہیں ہوتی ۔“نصیب خان نے جلدی سے اپنے بھتیجے کی تردید کی ۔

”چچا جان !روایت تو روایت ہوتی ہے ۔اور لڑکے والوں کے لیے لڑکی کے خاندان کی روایات کا پاس کرنا ضروری ہوتا ہے ۔“

اویس کا والد جلدی سے بولا۔”ہاں مگر کوئی ایسی روایت ہو جس پر عمل بھی کیا جا سکے ،ہمارے جوان ہتھیاروں سے ذرا دور ہی رہتے ہیں ۔

”حالانکہ ہتھیار مرد کا زیور ہیں ۔یقین مانو اگر میں اپنے گاو ¿ں کی کوئی لڑکی بلا لوں تو دس گولیوں میں تو وہ بھی اس شیشے کو نشانہ بنا لے گی ۔“

”رحمت خان !….غلط بات ،مہمانوںسے ایسے بات نہیں کرتے ۔“نصیب خان نے اپنے بھتیجے کو ڈانٹا ۔

”چچا جان !….مردوں سے مردانگی کی توقع ہی کی جا سکتی ہے ۔“رحمت خان نے نصیب خان کی بات کو درخور اعتناءنہیں سمجھا تھا ۔

اویس نے بے بسی سے دائیں بائیں دیکھا ۔میں جانتا تھا کہ وہ فائر کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہے ۔ہمارے باقی دوست بھی اس معاملے میں کورے تھے۔لیکن رحمت خان کی بات ایسی نہیں تھی کہ ہمیں غصہ نہ آتا ۔اویس نے سر جھٹکتے ہوئے کلاشن کوف پکڑی نشانہ لگانے کی جگہ کی طرف بڑھا ۔

”ایک منٹ اویس !“میں اسے رکنے کا اشارہ کرکے رحمت خان کی طرف متوجہ ہوا ۔

”رحمت خان !….کیا اچھی نشانہ بازی کا مظاہرہ ہی مردانگی کی علامت ہے ؟“

اس نے استہزائی انداز میں کہا ۔”ہمارے ہاں تو ہے ۔“

میں نے پوچھا۔”مطلب جو آپ سے اچھا نشانہ باز ہو گاوہ آپ سے بہتر مرد ہوگا؟“

”بے شک ….مگر آپ لوگوں میں یقینا کوئی ایسا نہیں ہے جو مجھ سے اچھا تو کیا صرف مرد ہونے کا ثبوت ہی دے دے ۔“

اس کی بات پر ہمیں تو کیا نصیب خان کو بھی غصہ آ گیا تھا ۔”رحمت خان تم حد سے بڑھ رہے ہو ۔چلو کوئی نشانہ بازی نہیں ہوگی ۔بیٹی کا باپ میں ہوں اور میں اپنی بیٹی کے لیے کوئی ایسی شرط ضروری نہیں سمجھتا ۔“

”چچا جان !آپ کی بیٹی ہماری بھی کچھ لگتی ہے ۔اور اس کے لیے رشتوں کی کمی نہیں ہے کہ ہم اپنی روایات دور جھٹکنے پر مجبور ہو جائیں ۔“

”بد تمیز !“نصیب خان غصے میں اس کی طرف بڑھا مگر میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ تھا م لیا۔”ایک منٹ چچا جان !….آپ غصے نہ ہوں میں مسئلہ حل کر دیتا ہوں ۔“

یہ کہہ کر میں نے اویس کے ہاتھ سے کلاشن کوف لے کر کہا ۔”رحمت خان !….اب جبکہ آپ نے ہمیں مردانگی کا ثبوت دینے پر مجبور کر ہی دیا ہے تو ذرا اس شیشے کے دائیں بائیں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دو شیشے اور بھی گاڑ دیں ۔“

اس نے استہزائیہ لہجے میں پوچھا ”تو آپ دس گولیوں سے تین شیشوں کو نشانہ بنائیں گے ؟“

میں مصر ہوا ۔”آپ شیشے تو لگوائیں ۔“

”اس نے اپنے ایک دوست کو دو شیشے دے کر ہدف کی طرف دوڑا دیا۔

برات میں موجود لوگوں میں جوش کی لہر دوڑ گئی تھی کیونکہ اب بات عام رواج سے ہٹ کر چیلنج کی طرف پھر گئی تھی ۔اویس کی آنکھوں میں اضطراب ہلکورے لے رہا تھا ۔اور کیوں نہ ہوتا کہ اس کی دلھن کا معاملہ تھا ۔وہ لڑکی جو جانے کب سے اس کے خوابوں میں بسی ہوئی تھی ، ایک فرسودہ روایت کی وجہ سے اس کے ملنے میں چوبیس گھنٹے کی تاخیر ہونے والی تھی ۔گو وہ میرے بارے میں جانتا تھا کہ فوجی ہونے کے ناتے میں رائفل کے استعمال سے اچھی طرح واقف ہوں گا ،مگر پھر بھی اتنی دور سے چھوٹے سے شیشے کو نشانہ بنانا اسے نہایت مشکل نظر آ رہا تھا ۔

اس لڑکے کے واپس آ تے ہی میں نے کلاشن کوف کی میگزین اتار کر میگزین میں بھری تمام گولیاں باہر نکالیں اور پھر رحمت خان کی طرف پانچ گولیاں پھینک کر میں نے باقی کی پانچ گولیاں میگزیں میں بھر لیں ۔

”تو آپ پانچ گولیوں سے تین شیشو ں کو نشانہ بنائیں گے ؟“رحمت خان نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔

”نہیں ….“میں نے نفی میں سر ہلایا۔”دو گولیاں صرف کلاشن کوف کو جانچنے کے لیے ہیں ۔ اس لیے پہلی دو گولیاں میں کسی پتھر پر فائر کروں گا ۔جب مرد ہونے کی نشانی ہی درست نشانہ لگانا ہے تو پھر کسی گولی کو خطا نہیں جانا چاہیے ۔“

”دوست !….بڑھکیں مارنا بہت آسان ہے ۔“اس مرتبہ رحمت خان کے لہجے میں پہلے والا استہزا غائب تھا۔”لیکن یہاں سے تین گولیوں پر تین شیشے توڑنا ناممکن ہے….“

”یہ میرا درد سر ہے ۔“کہہ کر میں زمین پر بیٹھ گیا تھا ۔

”اچھا اگر آپ نے تین گولیوں میں ایک بھی درست نشانہ لگا دیا تو ….“

”اگر تینوں ہٹ نہ ہوئےں تو ہم خالی ہاتھ جائیں گے ۔“میں نے اس کی بات پوری نہیں ہونے دی تھی ۔

”ذیشان !“اویس نے گھبراہٹ بھرے لہجے میں مجھے پکارا ۔

میں پر اعتماد لہجے میں بولا۔”فکر مت کرو ۔اویس !آج میں اپنی بہن کو لے کر ہی جاو ¿ں گا ۔‘ ‘ میری بات نے نصیب خان اور ارد گرد موجود اس کے کافی رشتا داروں کے چہروں پر فخریہ مسکراہٹ بکھیر دی تھی ۔

جاری ہے