حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مرتدین اور مانعینِ زکوٰۃ سے جنگ کا اہتمام کرنا
تابندہ ستارے ۔حضرت مولانا محمدیوسفؒ کاندھلوی
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ کو حضرت ابو عبید بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شہید ہوجانے کی اور فارس والوں کے آلِ کسریٰ میں سے کسی ایک آدمی پر مجتمع ہوجانے کی خبر ملی تو انہوں نے مہاجرین اور انصار میں( جہاد کا) اعلان کرایا( کہ سب مدینہ سے باہر صِرَار مقام پر جمع ہوجائیں) اور پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ مدینہ سے چل کر صرار مقام پر پہنچ گئے اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو مقام اعوص تک جانے کے لیے آگے بھیج دیا اور لشکر کے میمنہ پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو اور میسرہ پر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنانائب مقرر فرمایا اور لوگوں سے( اپنے فارس جانے کے بارے میں) مشورہ فرمایا تمام لوگوں نے فارس جانے کا مشورہ دیا اور صرار پہنچنے سے پہلے انہوں نے اس بارے میں کوئی مشورہ نہ کیا۔ اتنے میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بھی( اعوص مقام سے) واپس آگئے۔ پھر اہل شوریٰ سے مشورہ فرمایا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بھی عام لوگوں کی طرح (فارس جانے کی) رائے دی لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کو( فارس جانے سے) روکنے والوں میں تھے۔
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کے بعد نہ اس دن سے پہلے اور نہ اس دن کے بعد کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان کرنے کے الفاظ کہے( بس اس دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ الفاظ کہے)چنانچہ میں نے کہا:اے امیر المومنین! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ یہ کام میرے حوالے کردیں اور خود( مدینہ) ٹھہرجائیں اور لشکر کو روانہ کریں۔ میں نے(آج تک) یہی دیکھا ہے کہ ہمیشہ اللہ کا فیصلہ آپ کے لشکروں کے حق میں ہوتا ہے ، لیکن آپ کے لشکر کوشکست ہوجانا خود آپ کے شکست کھاجانے ( کی طرح نقصان دہ) نہیں ہے، کیونکہ اگر شروع ہی میں آپ شہید ہوگئے یا آپ کو شکست ہوگئی تو مجھے ڈر ہے کہ مسلمان ہمیشہ کے لیے اللہ اکبر کہنا اور لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا چھوڑدیں گے ( ان کے حوصلے ہمیشہ کے لیے پست ہوجائیں گے۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے مشورے کو قبول فرمایا اور خود مدینہ ٹھہرجانے اور لشکر کو روانہ کرنے کا فیصلہ فرمایا) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ( امارت کے لیے کسی مناسب) آدمی کو تلاش کرنے لگ گئے کہ اتنے میں مشورہ کے فوراً بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا خط آیا جو اہل نجد سے صدقات کی وصولیابی پر مامور تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:( مجھے امیر بنانے کے لیے) کسی آدمی کا مشورہ دو۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا:مجھے امارت کے مناسب آدمی مل گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کون ؟ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا:وہ پنجوں والا طاقت ور شیر سعد بن مالک ہیں۔ تمام اہل شوریٰ نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا جہاد کی ترغیب دینا
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت ابو صالح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! میں نے حضورِ اقدسﷺ سے ایک حدیث سنی تھی لیکن اب تک آپ لوگوں سے چھپا رکھی تھی تاکہ( اس حدیث میں اللہ کے راستے میں جانے کی زبردست فضیلت کوسن کر) آپ لوگ مجھے چھوڑ کر نہ چلے جائیں۔ لیکن اب میرا یہ خیال ہوا کہ وہ حدیث آپ لوگوں کو سنا دوں تاکہ ہر آدمی اپنے لیے اسے اختیار کرے جو اسے مناسب معلوم ہو( میرے پاس مدینہ رہنایا اللہ کی راہ میں مدینہ سے چلے جانا) میں نے حضورﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کے لیے پہرہ دینااور جگہوں کے ہزار دن سے بہتر ہے۔
حضرت مصعب بن ثابت بن عبداللہ بن زبیرؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنے منبر پر بیان کرتے ہوئے فرمایا: میں آج تمہیں ایسی حدیث سنائوں گا جسے میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے اور میں نے آج تمہیں صرف اس لیے نہیں سنائی تھی کہ میں چاہتا تھا کہ تم لوگ میرے پاس ہی رہو( مجھے چھوڑ کر چلے نہ جائو) میں نے حضور اقدسﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کے راستے میں ایک رات کا پہرہ دینا ان ہزارراتوں سے بہتر ہے جن میں رات کو کھڑے ہو کر اللہ کی عبادت کی جائے اور دن میں روزہ رکھا جائے۔
٭…٭…٭